ملائیشیا

(ملیشیا سے رجوع مکرر)

متناسقات: 2°30′N 112°30′E / 2.500°N 112.500°E / 2.500; 112.500

ملائیشیا (ملائیشیا) جنوب مشرقی ایشیا میں ایک مسلم ملک ہے ۔ اسکے مصلحتی مقام (strategic position) نے اس کو غیر ملکی اثرات سے متاثر کیا-

ملائیشیا

A blue rectangle with a gold star and crescent in the canton, with 14 horizontal red and white lines on the rest of the flag
Flag
Shield showing symbols of the ملائیشیائی states with a star and crescent above it and a motto below it supported by two tigers
Coat of arms
Motto: "Bersekutu Bertambah Mutu"[1]
"Unity Is Strength"
ترانہ: نگاراکو
میرا ملک
Location of ملائیشیا
دار الحکومتکوالالمپور
3°8′N 101°41′E / 3.133°N 101.683°E / 3.133; 101.683
پتراجایا (administrative)
2°56′35″N 101°41′58″E / 2.9430952°N 101.699373°E / 2.9430952; 101.699373
عظیم ترین شہرکوالالمپور
3°8′N 101°41′E / 3.133°N 101.683°E / 3.133; 101.683
دفتری زبانیںبھاسا ملائیشیا
ملائی (لاطینی) حروف تہجی
تسلیم شدہ زبانیں
انگریزی
نسلی گروہ
([2])
مذہب
نام آبادیملائیشیائی
حکومتوفاقی بادشاہت پارلیمانی نظام انتخابی آئینی بادشاہت
• بادشاہ
عبد اللہ پاہانگ
مہاتیر محمد
رچرڈ ملنجم
ایس وگنیشوارن
• اسپیکر ایوان زیریں
محمد عارف بن محمد یوسف
مقننہپارلیمان
دیوان نگارا
دیوان رعیت
آزادی 
31 اگست 1957[3]
16 ستمبر 1963
9 اگست 1965
8 اگست 1967
رقبہ
• کل
330,803 کلومیٹر2 (127,724 مربع میل) (66واں)
• پانی (%)
0.3
آبادی
• 2020 تخمینہ
33,142,000[4] (44واں)
• 2010 مردم شماری
28,334,135[5]
•  کثافت
92/کلو میٹر2 (238.3/مربع میل) (116واں)
جی ڈی پی (پی پی پی)2017 تخمینہ تخمینہ
• کل
$913.593 بلین[6] (27واں)
• فی کس
$28,490[6] (50واں)
جی ڈی پی (برائے نام)2017 تخمینہ تخمینہ
• کل
$344.848 بلین[6] (35واں)
• فی کس
$10,756[6] (65واں)
جینی (2009)negative increase 46.2[7]
اعلی · 36واں
ایچ ڈی آئی (2016)Increase2.svg 0.789[8]
اعلی · 59واں
کرنسیرینگٹ (آر ایم) (MYR)
منطقۂ وقتیو ٹی سی+8 (ایم ایس ٹی)
• Summer (ڈی ایس ٹی)
یو ٹی سی+8 (not observed)
ہیئت تاریخdd-mm-yyyy
ڈرائیونگ سائیڈدائیں
کالنگ کوڈ+60
آیزو 3166 رمز[[آیزو 3166-2:|]]
انٹرنیٹ ٹی ایل ڈیMy.

تاريخترميم

ہندو مت اور بدھ مت کے ثقافتوں نے جو بھارت سے آئی تھیں یہاں اپنا غلبہ قائم کیا- اگرچہ مسلمانوں نے ملائیشیا میں ابتدائی طور پر 10ويں صدی میں قدم رکھا تھا مگر 14ويں اور 15ويں صدی میں اسلام سب سے پہلے مالے جزیرہ نما پر قائم ہوا-

ثقافتترميم

ملائیشیا ایک کثیر نسلی، کثیر ثقافتی سماج ہے- سب سے پہلے اس علاقے میں رہنے دیسی قبائل کے لوگ تھے جوکہ اب بھی موجود ہیں- چینی اور بھارتی ثقافتی اثرات یہاں واضح نظر آتے ہیں- دیگر ثقافتی اثرات میں فارسی، عربی، اور برطانوی ثقافتیں شامل ہیں-

1971 میں حکومت نے ایک "قومی ثقافتی پالیسی" بنائی جس کے مطابق ملائیشیا کی ثقافت کی بنیاد مقامی ہو جس میں اسلامی ثقافت کی جھلک نظر آتی ہو- [9]

سياستترميم

جنوب مشرقی ایشیا میں واحد وفاقی ملک ہے۔ برطانوی دور کی وراثت، نظامِ حکومت ویسٹ منسٹر پارلیمانی نظام کا قریبی نمونہ ہے۔ ملیشیا ایک وفاقی آئینی انتخابی بادشاہت ہے۔

یانگ دی پرتوان آگونگ ریاست کا سربراہ جبکہ وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہے۔ شاہِ ملیشیا مالے ریاستوں کے 9 موروثی حاکمین کے ذریعے باہمی طور پر پانچ سال کےلیے منتخب کیا جاتا ہے۔ دیگر چار ریاستیں، جن کے حاکم ’گورنر‘ ہیں، اس انتخاب میں شرکت نہیں کرتے۔ غیر رسمی معاہدے کے مطابق یہ نشست ان 9 سلاطین کو باری باری دی جاتی ہے۔ 31 جنوری 2019 سے یہ تخت ریاست پہنگ کے سلطان عبداللّٰہ کے پاس ہے۔ 1994 کو دستور میں کی جانیوالی بڑی تبدیلیوں کے باعث وزرا اور ایوانِ بالا کے اراکین کے انتخاب میں بادشاہ کا کردار صرف رسمی رہ گیا ہے۔

قانون ساز قوت وفاقی اور ریاستی مقننہ میں منقسم ہے۔ دو ایوانی وفاقی مقننہ ایوانِ زیریں (ایوانِ نمائندگان، دیوان رکیات) اور ایوانِ بالا (دیوان نگارا) پر مشتمل ہے۔ 222 رکنی ایوانِ نمائندگان یک-رکنی حلقہ جات سے زیادہ سے زیادہ پانچ سال کےلیے منتخب ہوتی ہی۔ جبکہ ایوانِ بالا کے تمام 70 اراکین 3 سالہ مدت کی نشست رکھتے ہیں۔ جن میں 26 اراکین 13 ریاستی مقننہ سے اور 44 اراکین وزیرِ اعظمِ ملیشیا کی تجویز پر بادشاہ نامزد کرتا ہے۔ پارلیمنٹ کثیر جماعتی نظام کی پیروی کرتی ہے۔ حکومت فرسٹ پاسٹ دا پوسٹ نظام کے تحت چنی جاتی ہے۔

انتظامی قوت وزیراعظم ملیشیا کی سربراہی میں کابینہ کے پاس ہوتی ہے۔ ایوانِ نمائندگان کا رکن ہونا ضروری ہے۔ ایوانِ نمائندگان کی اکثریتی ارکان کی حمایت کے مطابق بادشاہ ہی وزیراعظم بناتا ہے۔ کابینہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سے چنی جاتی ہے۔ وزیراعظم کابینہ اور حکومت دونوں کا سربراہ ہوتا ہے۔ جو ایوان نمائندگان کے اعتماد تک برقرار رہتا ہے۔

عدلیہ نظام میں سب سے بڑی عدالت ’وفاقی عدالت‘ ہے، جس کی پیروی ’اپیلیٹ کورٹ‘ اور مشرقی ملیشیا اور مغرب میں جزیرہ نما ملایا میں واقع ایک ایک اعلیٰ عدالت کرتی ہیں۔ مذہبی ذمہ داریوں اور خاندانی معاملات میں مسلمانوں کےلیے شرعی عدالتیں بھی کام کرتی ہیں۔ اغواء، قتل، دہشت گردی اور منشیات کی ترسیل پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ ہم جنس پرستی ملیشیا میں قابلِ تعزیر غیر قانونی فعل ہے۔ لیکن ملیشیا کو انسانی اور جنسی سمگلنگ کے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے۔


انتظامی تقسیمترميم

ملیشیا 13 ریاستوں اور 3 وفاقی علاقوں کا وفاق ہے۔ جو کہ 2 علاقوں میں منقسم ہے۔ مغرب میں جزیرہ نما ملایا ہے جہاں 11 ریاستیں اور 2 وفاقی علاقے ہیں۔ جبکہ مشرقی ملیشیا جزیرہ بورنیو میں ہے جہاں 2 ریاستیں اور 1 وفاقی علاقہ ہے۔ ہر ریاست ضلعوں میں منقسم ہے جو کہ مزید ’مقیم‘ میں منقسم ہیں۔ ریاست صباح اور سراواک میں ضلعوں کو ’ڈویژن‘ میں مجمع کیا گیا ہے۔ ملاک کے علاوہ ہر ریاست اپنا اعزازی نام رکھتی ہے۔

جزیرہ نما ملایا

  1. پرلیس
  2. پہنگ، دار المعمور
  3. پیراک، دار الرضوان
  4. پینانگ، پولاو
  5. تیرنگانو، دار الایمان
  6. جوہر، دار التعظیم
  7. سلانگور، دار الاحسان
  8. قدح، دار الامن
  9. کیلنتن، دار النعیم
  10. ملاکا
  11. نگری سمبیلن، دار الخصوص

وفاقی علاقے

1. کوالالمپور، ولایہ پرسکوتوان

2. پتراجایا، ولایہ پرسکوتوان

مشرقی ملیشیا (جزیرہ بورنیو)

ریاست

12. صباح، نگری دی بوا بایو

13. سراواک، بومی کِنیالنگ

وفاقی علاقہ

3. لابوان، ولایہ پرسکوتون

معيشتترميم

ملائشیا کی معیشت تیزی سے بڑھتی ہوئی اور نسبتا کھلی ریاستی پالیسی پر مبنی ہے-

2011 تخمینے کے مطابق جی ڈی پی نمو 5.2 فیصد ہے۔

دیکھیے: فہرست ملائیشیائی ریاستیں بلحاظ خام ملکی پیداوار

جغرافیہترميم

 
ملائشیا

ملائیشیا کل زمین کے علاقے لحاظ سے 67واں سب سے بڑا ملک ہے- مغرب میں اسکی زمینی سرحد تھائی لینڈ کے ساتھ ملتی ہے جبکہ انڈونیشیا اور برونائی دارالسلام اسکے مشرق میں واقع ہیں- جنوب میں براستہ پل سنگاپور سے منسلک ہے - ویتنام کے ساتھ اسکی سمندری حدود ہیں۔

ملائیشیا کے دو جدا حصے ہیں جن کے درميان جنوبی چین سمندر ہے-

مذہبترميم

ملائیشیا کا آئین مذہب کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے جبکہ اسلام سرکاری مذہب ہے [10]

مردم شماری 2010 کے اعداد و شمار کے مطابق:

ملائیشیا کے بڑے شہرترميم

درجہ بندی شہر کا نام ریاست آبادی درجہ بندی شہر کا نام ریاست آبادی
1 کوالالمپور وفاقی علاقہ 1674621 11 ملاکا شہر ملاکا 503127
2 جوھر بھرو جوھر 1386569 12 کوتا بھرو کیلانتن 491237
3 کاجانگ سلنگور 795522 13 کوتا کینابالو صباح 462963
4 ایپو پیراک 767794 14 کوانتان پاہانگ 461906
5 کلانگ سلنگور 744062 15 سنگئی پیتانی قدح 456605
6 سوبانگ جایا سلنگور 708296 16 باتو پاھت جوھر 417458
7 کوچینگ سراواک 617887 17 تاواو صباح 412375
8 پیتالنیگ جایا سلنگور 613977 18 سنداکان صباح 409056
9 سرمبان نگری سمبیلان 555935 19 الور سیتار قدح 366787
10 جارج ٹاؤن پینانگ 520202 20 کوالا تیرنگانو تیرنگانو 343284

نگارخانہترميم

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "ملائیشیائی Flag and Coat of Arms". ملائیشیائی Government. 22 اکتوبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 ستمبر 2013. 
  2. Mackay, Derek (2005). Eastern Customs: The Customs Service in برطانوی ملایا and the Opium Trade. The Radcliffe Press. صفحات 240–. ISBN 978-1-85043-844-1. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 22 جون 2017. 
  3. "ملائیشیا Population Clock". Department of Statistics, ملائیشیا. 5 دسمبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 مارچ 2014. 
  4. ^ ا ب پ ت "ملائیشیا". International Monetary Fund. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 اکتوبر 2014. 
  5. "Gini Index". World Bank. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 2 مارچ 2011. 
  6. "2015 Human Development Report" (PDF). United Nations Development Programme. 2015. 26 دسمبر 2018 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 دسمبر 2015. 
  7. Cultural Tourism Promotion and policy in ملائیشیا
  8. [1]

بیرونی روابطترميم