تعارفترميم

کتاب ’’میں زندہ ہوں‘‘ در حقیقت معصومہ آباد نامی ایک ایرانی خاتون کی دلوں کو دہلادینے والی یادوں کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے ایران عراق جنگ سے متعلق اپنے چشم دید واقعات اور تلخ حادثات رقم کیے ہیں۔یہ کتاب پچھلے چند سالوں کے دوران میں ایران میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی چند ایک کتابوں میں سے ہے۔جس میں اس شیر دل خاتون نے اپنے بچپنے سے لیکر جوانی اور ایران عراق جنگ کے دوران میں عراقی فوجیوں کے ہاتھوں اپنی گرفتاری اور عراق کے قید خانوں میں پیش آنے والے مسائل اور آخر کار عراق فوجیوں کی قید سے رہائی اور زندہ سلامت ایران واپسی تک کے تمام حالات اور واقعات کو من و عن انتہائی دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب ساتھ ابواب پر مشتمل ہے۔
1۔بچپن
2۔جوانی
3۔انقلاب
4۔جنگ اور گرفتاری
5۔الرشید جیل بغداد
6۔انتظار
7۔موصل اور عنبر کیمپ
کتاب کی افادیت کے پیش نظر دینا کی مختلف زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں اردوزبان میں ترجمے کا کام جناب ظہیر الحسن کربلائی نے انجام دیا ہے اور ’’الولایہ پبلیکیشنز اسلام آباد ‘‘ شائع کیا ہے۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تاثراتترميم

ایرانی جنگی اسراء کی تلخ یادوں اور حقیقت پر مبنی واقعات کی کتب کی صورت میں مقاومت دفاع مقدس اسلامی کے نام سے شائع ہوکرمنظرعام پرآئے ہیں ان کتابوں میں سےایک کتاب من زندہ ام( میں زندہ ہوں ) کے نام سےشائع ہوئی ہے۔اس کتاب کو میں نے غم اور فخر کےدوہرے احساسات اور بعض اوقات اشک بار آنکھوں سے مطالعہ کیا ہے اورمیں اس کی بلند ہمت، پاکیزہ اورنفاست بھری تحریروں پرصدآفرین کہتا ہوں۔اس کتاب میں دکھ بھرےحقیقت پر مبنی واقعات، مشکلات اور احساسات کو جس خوبصورت انداز اورہنرمندی کےساتھ قلمبند کیاگیاہےانکی نہ صرف حوصلہ افزائی لازم ہے بلکہ قابل ستائش بھی ہیں۔یہ کتاب ان مجاہدین اور جنگی اسراء کےواقعات اور یادوں کا ایک عظیم شاہکار ہی نہیں بلکہ ایک گرانبہا سرمایہ بی ہے۔جوتاریخی تجربات کووسعت دینے کےساتھ ساتھ اس کی یادآوری اور سبق آموزی میں اضافے کا باعث بنا ہے۔جن چشم دیدواقعات کو اذہان سے باہر لاکر ماہرانہ قلم اور ہنرکے ذریعے جو تصویر کشی کی گئی ہے وہ نہ صرف کامیابی بلکہ ایک عظیم کارنامہ ہے۔مصنفہ کی یہ کاوش ان تحریروں میں سے ایک ہے جس کاترجمہ کیا جانا لازم وضروری ام رہے۔اس کتاب میں جن چہار مجاہد خواتین کا ذکر کیا گیا ہے، خاص طور پر اس مصنفہ محترمہ معصومہ آباد پر سلام بھیجنا ضروری سمجھتا ہوں۔ (والسلام علیکم ورحمۃ اللہ

حوالہ جاتترميم

میں زندہ ہوں، معصومہ آباد، مترجم ظہیر الحسن کربلائی، اسلام آباد:الولایہ پبلیکیشنز، 2015ء، 517ص