نرگس دت

بھارتی بالی وڈ اداکارہ

نرگس دت[2] (فاطمہ راشد؛ ولادت: 1 جون 1929ء - وفات: 1981ء) ایک بھارتی بالی وڈ اداکارہ تھیں جن کا اصلی نام فاطمہ رشید تھا مگر وہ اپنے فلمی نام نرگس دت سے پہچانی جاتی تھیں۔ نرگس دت پہلی مرتبہ اسکرین پر ایک چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر فلم “تلاشِ حق “ میں نمودار ہو ئی تھیں مگر ان کا اداکاری (ایکٹنگ) کیرئیر 1942ء میں بننے والی فلم “تمنا“ سے شروع ہو تا ہے۔ 1957ء میں ریلیز ہونے والی فلم “مدر انڈیا“میں ان کے کردار "رادھا" کو لا زوال شہرت حاصل ہوئی- 1958ء میں سنیل دت سے شادی کے بعد انھوں نے فلم انڈسٹری کو چھوڑ دیا۔ نرگس کا انتقال 1981ء میں اپنے بیٹے سنجے دت کے فلمی کیرئیر شروع ہونے سے چند دن قبل لبلبہ کے کینسر سے ہوا-بعد ازاں ان کی یاد میں “نرگس دت میموریل کینسر فاؤ نڈیشن “ بھی بنا یا گیا۔

نرگس دت
(انگریزی میں: Nargis ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Fatima Rashid ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 1 جون 1929ء [1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کلکتہ، مغربی بنگال، برطانوی راج
وفات 3 مئی 1981ء (52 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
وجہ وفات سرطان لبلبہ   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت   ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت برطانوی ہند (–15 اگست 1947)
بھارت (26 جنوری 1950–)
ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات سنیل دت (1958–1981)
اولاد سنجے دت
نمرتا دت
پریا دت
والدہ جدن بائی   ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
رکن راجیہ سبھا   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1980  – 1981 
عملی زندگی
پیشہ اداکاری
دور فعالیت 1935، 1942–1967
کارہائے نمایاں برسات (1949ء فلم) ،  شری 420 ،  مدر انڈیا   ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
قومی فلم اعزاز برائے بہترین اداکارہ (برائے:Raat Aur Din ) (1968)
 فنون میں پدم شری   (1958)
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین اداکارہ (برائے:مدر انڈیا ) (1958)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ذاتی زندگی

ترمیم

نرگس کا اداکار راج کپور کے ساتھ طویل عرصے تک رشتہ رہا، جو آوارہ اور شری 420 فلموں میں ان کے شریک اداکار تھے۔ راج کپور شادی شدہ تھے اور ان کے بچے تھے۔ جب راج کپور نے اپنی اہلیہ کو طلاق دینے سے انکار کر دیا تو نرگس نے ان کے نو سال طویل رشتے کو ختم کر دیا۔[3][4]

 
نرگس لاجونتی (1958) میں

بیماری اور وفات

ترمیم

2 اگست 1980ء کو، نرگس راجیہ سبھا کے ایک اجلاس کے دوران بیمار ہوگئیں، اس کی ابتدائی وجہ یرقان سمجھا گیا۔ ان کو گھر لے جایا گیا اور انھیں بمبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ پندرہ دن کے ٹیسٹ کے بعد، اس دوران ان کی حالت بدتر ہوتی چلی گئی اور ان کا وزن تیزی سے کم ہو گیا، انھیں 1980ء میں لبلبے کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور اس بیماری کا علاج نیویارک شہر میں میموریل سلوان-کیٹرنگ کینسر سنٹر میں ہوا۔[5][6] ہندوستان واپس آنے پران کی حالت بگڑ گئی اور انھیں بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ نرگس 2 مئی 1981ء کو شدید بیمار ہوئیں اور اگلے ہی دن ان کا انتقال ہو گیا۔ انھیں ممبئی کے میرین لائنز کے بڑا قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ 7 مئی 1981ء کو نرگس کے بیٹے کی پہلی فلم راکی ​​کے پریمیئر میں ان کے لیے ایک نشست خالی رکھی گئی تھی۔[7]

فلمیں

ترمیم

نوٹ : واضح رہے کہ یہ فہرست مکمل نہیں ہے-

  • تلاشِ حق (1935ء)
  • تمنا (1942ء)
  • تقدیر(1943ء)
  • برسات
  • آدھی رات (1950ء)
  • بے وفا(1952ء)
  • انہونی (1952ء)
  • آہ (1953ء)
  • مدر انڈیا (1957ء)
  • رات اور دن (1967ء)

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. انٹرنیٹ مووی ڈیٹابیس آئی ڈی: https://wikidata-externalid-url.toolforge.org/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0004291 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015
  2. "Archived copy"۔ 01 مئی 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مئی 2009 
  3. Bhaichand Patel (19 November 2007)۔ "Clangorous Liaisons"۔ Outlook۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2015 
  4. Gitanjali Roy (17 January 2017)۔ "Rishi Kapoor Reveals Dad Raj Kapoor's Alleged Affairs With His Heroines"۔ NDTV Movies۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 جولا‎ئی 2017 
  5. Yasser Usman (2018)۔ Sanjay Dutt: The Crazy Untold Story of Bollywood's Bad Boy۔ Juggernaut Books۔ صفحہ: 50۔ ISBN 978-93-86228-58-1 
  6. Bhawana Somaaya (2017-05-25)۔ "Nargis and Sunil Dutt: A Love Story In the House of Heartbreaks"۔ TheQuint۔ اخذ شدہ بتاریخ 08 اگست 2020 [مردہ ربط]
  7. M.L. Dhawan (27 April 2003)۔ "A paean to Mother India"۔ دی ٹریبیون۔ اخذ شدہ بتاریخ 07 ستمبر 2008