مرکزی مینیو کھولیں
وان گوف، خود اپنی نظر میں

ونسنٹ ولیم وین خوخ (پیدائش: 30 مارچ 1853ء – وفات: 29 جولائی 1890ء) ایک ولندیزی مابعد تاثریتی (انگریزی: Post-Impressionist) مصور تھے جن کے فن پاروں کے شوخ رنگوں اور جذبات انگیز اثر نے 20 ویں صدی تک پر اپنے اثرات مرتب کیے۔ پوری زندگی پریشانیوں سے دوچار رہنے اور ذہنی بیماری کے بڑھتے ہوئے مستقل دوروں کے بعد صرف 37 کی عمر میں وفات پا گئے جس کی وجہ بندوق کے ذریعے خودکشی کی کوشش میں آنے والا زخم تھا۔ اپنی زندگی میں آپ کے کام کو کم سراہا گیا لیکن ان کی شہرت کا اصل آغاز موت کے بعد ہوا۔

آج وین خوخ کو تاریخ کے عظیم ترین مصوروں میں شمار کیا جاتا ہے اور جدید مصوری کی بنیادیں ڈالنے والا اہم مصور گردانا جاتا ہے۔ وان گوف نے 20 کے پیٹے میں مصوری کا آغاز کیا اور ان کے بہترین فن پارے آخری دو سالوں میں تخلیق ہوئے۔ انہوں نے 2 ہزار سے زائد فن پارے تخلیق کیے جن میں سے 900 تصاویر اور 1100 خاکے تھے۔

اپنی زندگی میں شہرت نہ ملنے کے باوجود جدید مصوری پر آپ کے گہرے اثرات ہیں آج ان کے کئی فن پارے دنیا کے مشہور اور مہنگے ترین فن پاروں میں شمار ہوتے ہیں۔

اس کے مرنے کے بعد اس کی تصاویرلاکھوں ڈالر میں فروخت ہوئیں بلکہ دنیا میں سب سے مہنگی پینٹنگ اسی کی ہے۔ یہ اس کا سیلف پورٹریٹ ہے جو 1998 میں سات کروڑ پندرہ لاکھ ڈالر میں نیلام ہوا تھا۔ اس کی پینٹنگ اسٹاری نائٹ کو مونا لیزا کے بعد سب سے زیادہ مقبول فن پارہ کہا جاتا ہے۔