مرکزی مینیو کھولیں
پروٹوسیمیٹک

ابجد موجودہ دور میں رائج زبانوں کی بنیاد ہے، یہ ابجد کس طرح بن گئے اس کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ قدرت نے انسان کو پیدا کرتے وقت ابجد کا سرمایا بھی ساتھ ہی عطا فرمایاچنانچہ ہر ننھے بچے کی زبان سے خواہ کسی ملک کا بھی ہو آں، اوں، با، تا، دا، شاں، شوں، غاں، غوں، فاں، فوں، ماں، ناں، وا وغیرہ کی آوازیں خود بخود نکلتی ہیں اور انسان نے انہیں آوازوں سے ابجد کی بنیاد ڈالی۔ ابجد کے حروف انہیں آوازوں سے وضع کیے گئے: ا ب ج د ہ و ز ح ط ی ک ل م ن س ع ف ص ق ر ش ت اس کے بعد ان آوازوں سے جو انسان کے لب و حلق سے نکلتی ہیں، دوسرے حروف بھی متعین کرلی گئیں، مثلاً ث خ ذ ض ظ غ پ ٹ چ ڈ ڑژ گ آ ں ء وغیرہ اگرچہ حروف تہجی کی تعداد مختلف زبانوں میں مختلف ہے مگر اُن سب کا ماخذ ایک ہی ہے۔ تعداد میں فرق ہونے کا سبب یہ ہے کہ بعض قوموں نے آواز کے باریک پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے زیادہ حروف بنالئے اور بعض نے موٹے پہلو کے اعتبار سے کم حروف وضع کیے۔ آثارِ قدیمہ اور لسانیات کے ماہرین کے مطابق وہ پہلی زبان جس نے اولین ابجدی حروف وضع کیے پروٹو سیمیٹک ہے ۔

پروٹوسیمیٹک

پروٹو سیمیٹکترميم

 
افرو ایشیائی زبانوں کا پھیلاؤ۔ دوسرے مرحلے میں سامی زبانوں کی تشکیل دکھائی دیتی ہے

پروٹو سیمیٹک (ProtoSemitic) جسے آثارِقدیمہ کے اکثر ماہرین پروٹو سینائی (ProtoSinaitic) اور پروٹوکنعانی (ProtoCanaanite) زبان بھی کہتے ہیں، حقیقتاً تمام ابجد زبانوں کی ماں ہے یعنی آج ہم جو بھی حروف پڑھتے ہیں چاہے وہ ا ب پ ت ٹ ہوں یا ABCD وغیرہ یہ تمام حروف اسی زبان سے اخذ کیے گئے ہیں۔ آثار قدیمہ نے اس زبان کے زیادہ تر آثار مغربی ایشیاء اور افریقا کے درمیانی علاقوں سے دریافت کیے ۔

 
پروٹوسیمیٹک

حروف تہجیترميم

پروٹو سیمیٹک زبان میں حروف تہجی کی تعداد 22 ہوتی تھی یعنی اب ت ج ح د ر ز س ش ص ط ع ف ق ک ل م ن و ہ ی اور باقی حروف مثلاً ث خ ذ ض ظ غ پ ٹ چ ڈ ڑ ژ گ جیسے الفاظ اس میں شامل نہ تھے۔ یہ زبان اردو ہی کی طرح دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے۔ اس زبان کے رکھے گئے نام پروٹو سیمیٹک سے ہی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ زبان سامی النسل اقوام کی اولین زبان تھی۔ یہ زبان آج سے چھ سے آٹھ ہزارسال قبل مغربی ایشیا میں رائج تھی اور اس سے دیگر جو زبانیں وجود میں آئیں ان میں میخی، پیکانی، عکادی، کنعانی، فونیقی، آرامی، عبرانی، سریانی، عربی، یونانی، لاطینی، اہرامک، گیز(ایتھوپیائی)، سبائی، ثمودی، بربر، آرمینی، پہلوی، برہمی، سائرلک اور انگریزی وغیرہ شامل ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پروٹو سیمیٹک زبان کے اکثر الفاظ آج بھی اِن زبانوں میں جوں کے توں رائج ہیں

حوالہ جاتترميم

ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کراچی