پریوں کی کہانی (انگریزی: Fairy tale) وہ کہانی ہوتی ہے جس میں بچوں کی نفسیات سے لے کر بڑوں تک کی نفسیات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ اگر چیکہ مرکوزیت بچوں اور خاص طور پر دس سال سے کم عمر کے بچوں پر ہوتی ہے۔ کہانیوں کے شائقین کے لیے نئے موضوع اور نئے اسلوب نگارش یہ کہانیاں پیش کی جاتی رہتی ہیں۔[1] ان کہانیوں میں عام انسانوں کے ساتھ ساتھ پریوں، جِنوں، بھوتوں، مافوق الفطرت عجیب و غریب جان دار، فرشتے، شیاطین اور جانور شامل ہوتے ہیں۔ کئی بار ایک ایسی دنیا کی منظر کشی کی جاتی ہے جو حقیقی دنیا سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ اس میں تخیل کا بڑا دخل ہے۔ کہانیوں میں معجزات اور عام حالات سے عجیب واقعات دکھائے جاتے ہیں۔ کہانیوں میں لوگوں کی فطرت اور عجیب و غریب سرشت کی عکاسی کی جاتی ہے۔ یہ کہانیوں کا بنیادی مصدر اور ماخذ زبانی روایات ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے کئی تحریری کتابوں میں ایک ہی مشہور کہانی دو یا کئی اور طریقوں سے بیان کی جاتی ہے۔ یہ صورت حال عمومًا مشہور کہانیوں کے لیے ہوتی ہے جو عنوان اور کرداروں کی وجہ سے زبان زد عام ہو چکے ہیں۔ کئی بار لوگ خود سے بھی کوئی سوچی سمجھی کہانیاں لکھ کر بھی پریوں کی کہانی کے طور پر پیش کر دیتے ہیں۔ ہر پری کی کہانی کا کوئی منفرد پہلو اور ایک منفرد پس منظری منظر کشی ہوتی ہے۔ اکثر پریوں کی کہانیوں میں کوئی سبق آموز پہلو بھی ہوتا ہے۔ یہ سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حق کی جیت ہوتی اور جو باطل ہے اس کی ہار ہوتی ہے۔ روایتی طور پر مشہور پریوں کی کہانیوں میں الف لیلہ و لیلہ اور اللہ دین کا چراغ رہے ہیں۔ جب کہ ایلس ان ونڈر لینڈ جیسی نسبتًا جدید ادبی تخلیقات بھی بازار میں دست یاب ہیں اور خاص طور بچوں کی دل چسپی کا سبب ہیں۔ یہ کہانی ایک لڑکی کی خوابوں کی دنیا کی سیر اور ان میں کئی عجیب و غریب واقعات اور مافوق الفطرت جان داروں کا ہونا بچوں میں دل چسپی کا باعث رہا ہے۔

1906ء کی ایک پریوں کی کتاب کا سر ورق


مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم