پوسائڈن یونانی اساطیر کے بارہ اولمپوی دیوتاؤں میں سے ایک تھا۔ اِس کے دائرہِ اختیار میں سمندر اور بحریرہ تھے اور یہ گھوڑوں کو مطیع کرنے میں بھی مستحسن تھا، چنانچہ اِسے ”سمندروں کا دیوتا“ کہا جاتا ہے۔ یہ زمین کو بھی لرزاں کر سکتا تھا اور اِسی لیے اِسے کبھی ”بُھونچالوں کا دیوتا“ بھی تصّور کیا جاتا ہے۔ فنون میں پوسائڈن کو ایک بوڑھے آدمی کی شکل میں دِکھایا جاتا ہے جس کے داڑھی اور سَر کے بال گھُنگرِیلے ہوتے ہیں۔

پوسائڈن
God of the sea, earthquakes, soil, storms, and horses
0036MAN Poseidon.jpg
Poseidon from Milos, 2nd century BC (National Archaeological Museum of Athens)
مسکنکوہ اولمپس, or the Sea
علامتTrident, fish, dolphin, horse and bull
ذاتی معلومات
شریک حیاتAmphitrite، ایفرودیت، Demeter, and پوسائڈن
اولادتھیسیس، Triton، Polyphemus، اورین، Belus، Agenor، Neleus,
Atlas (the first king of اٹلانٹس)
والدینکرونس و ریہہ
ہم مارد پدرHades، Demeter، ہیسٹیہ، ہیرہ، زیوس، Chiron
رومی مساویNeptune

زندگیترميم

پیدائشترميم

پوسائڈن کرونس اور ریہہ کا دوسرا بیٹا تھا۔ دیگر بیانوں میں پوسائڈن کو پیدائش کے وقت اِس کا باپ، کرونس، نِگل گیا۔ کیونکہ پوسائڈن خود ایک لافانی دیوتا تھا، یہ کرونس کے پیٹ میں جا کر مرا نہیں بلکہ ابد کی قید میں جیتا رہا۔ کرونس نے پوسائڈن سمیت اپنے چار اور نومولود بچوں کو کھا لیا جن میں اِس کا ایک بھائی ہادس اور تین بہنیں، ہیسٹیہ، ڈیمیٹر اور ہیرہ، شامل تھیں۔ یہ سب بچے اپنے باپ کے پیٹ میں زندگی بسر کرتے رہے۔ جب اِس کے سب سے چھوٹے بھائی زیوس کی پیدائش ہوئی تو اِس کی ماں ریہہ نے زیوس کو ایک غار میں چھپا کر اِس کے باپ کو کپڑے میں لپٹا پتھر کھلا دیا۔ آگے جا کر زیوس نے اپنے بہن بھائیوں کو اپنے باپ کے پیٹ سے آزاد کروایا اور پوسائڈن، زیوس کے ہمراہ، تیتانی دیوتاؤں کے خلاف جنگ میں اُتر آیا۔

  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

نگار خانہترميم

حوالہ جاتترميم