کتب احادیث کی فہرست

مندرجہ ذیل میں حدیث کے مجموعوں کی فہرست ہے، وہ کتابیں جن میں، اسلامی پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث جمع کی گئی ہیں۔


قال الإمام الحديث أبو حيان سعيد

الحديث مثل المتعة واللحوم والحبر والحديث قرطاس وقلم,حديث لوح فاطمة، حديث مهدي , جميع الأحاديث عن آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ مزيفة, كتاب الفتن وأشراط الساعة , لَاوَاِنِّیْ اَوْتیت الْقُرْاٰنَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ , حَدِيثُ اَلكِسَاء وكلها مزيفة ومزخرفة ، وقال إن البخاري والمسلم أخذوا آلاف المزيفة. ، أحاديث مفبركة في مجموعاتهم.
قال الإمام الحديث أبو حيان سعيد  أن كل أحاديث كتاب الفتن في البخاري ومسلم مزيفة ومختلقة

سنی مجموعےترميم

  1. صحیح بخاری - محمد بن اسماعیل بخاری (المتوفی 256ھ)
  2. صحیح مسلم - مسلم بن حجاج (المتوفی 261ھ)
  3. سنن نسائیاحمد بن شعیب النسائی (المتوفی 303ھ)
  4. سنن ابی داؤد - ابو داؤد السجستانی (المتوفی 275ھ)
  5. سنن ترمذی - ابوعیسی محمد ترمذی (المتوفی 279ھ)
  6. سنن ابن ماجہ - ابن ماجہ ابو عبد اللہ محمد بن یزید قزوینی(المتوفی 273ھ)
  • کتب صحاح کے علاوہ کتابیں
    • دیگر بنیادی کتب /اہم مجموعے
    1. موطأ امام مالک - امام مالک بن انس (المتوفی 179ھ)
    2. مسند احمد بن حنبل - امام احمد بن حنبل (المتوفی 241ھ)
    3. سنن الدارمی -   عبدالرحمن دارمی(المتوفی 255ھ)
    4. صحیح ابن خزیمہ - امام ابن خزیمہ (المتوفی 311ھ)
    5. صحیح ابن حبان - ابن حبان (المتوفی 354ھ)
    6. مستدرک علی الصحیین حاکم - حاکم نیشاپوری(المتوفی 405ھ)
    7. معجم الکبیر طبرانی  - امام طبرانی(المتوفی 360ھ)
    8. معجم الاوسط  طبرانی  - امام طبرانی(المتوفی 360ھ)
    9. معجم الصغیر طبرانی - امام طبرانی(المتوفی 360ھ)
    10. مسند الطیالسی - ابوداؤد طیالسی (المتوفی 204ھ)
    11. مستخرج صحیح ابو عوانہ (مسند ابو عوانہ) - ابو عوانہ الاسفرایینی (المتوفی 316ھ)
    12. مصنف ابن ابی شيبہ - ابن ابی شیبہ (المتوفی 235ھ)
    13. مصنف عبد الرزاقعبد الرزاق بن ہمام الصنعانی (المتوفی 211ھ)
    14. الادب المفرد - محمد بن اسماعیل بخاری (المتوفی 256ھ)
    15. سنن کبریٰ بیہقی (المتوفی 458ھ)
    16. شعب الایمان - بیہقی (المتوفی 458ھ)
    17. الشمائل المحمدیہ (شمائل ترمذی)- ابو عيسى الترمذی (المتوفی 279ھ)
    18. مصنف ابن جریج
    19. السنن الكبرى للنسائي -  احمد بن شعیب النسائی (المتوفی 303ھ)
    20. صحیفہ ہمام ابن منبہ - ہمام ابن منبہ (المتوفی 131ھ)
    21. تہذیب الآثار -ابن جریر الطبری (المتوفی 310ھ)
    22. کتاب الآثار - ابن جریر الطبری (المتوفی 310ھ)
    23. مسند - امام اعظم ابو حنیفہ (المتوفی 150ھ)
    24. مسند - امام شافعی (المتوفی 204ھ)
    25. مسند السراج
    26. مسند فردوس الدیلمی (المتوفی 558ھ)
    27. مسند ابو یعلیٰ - ابی یعلی الموصلی (المتوفی 307ھ)
    28. سنن سعید ابن منصور (المتوفی 229ھ)
    29. سنن دارقطنی (المتوفی 385ھ)
    30. مسند - عبد بن حمید (المتوفی 249ھ)
    31. کتاب الزہد – عبداللہ بن مبارک (المتوفی 181ھ)
    32. مسند– عبداللہ بن مبارک (المتوفی 181ھ)
    33. مسند – عبداللہ بن زبیرالحمیدی (المتوفی 219ھ)
    34. مسند - بزار (المتوفی 292ھ)
    35. الادب - ابن ابی شیبہ (المتوفی 235ھ)
    36. مسند اسحاق بن راہویہ (المتوفی 238ھ)
    • ثانوی کتب احادیث /اہم مجموعے
    1. مشکوۃ المصابیح - الخطیب تبریزی(المتوفی 516ھ)
    2. مصابیح السنہ -  ابو محمد حسین بن مسعود بن محمد الفرا البغوی (المتوفی 516ھ)
    3. ریاض الصالحینامام نووی (المتوفی 631ھ)
    4. بلوغ المرام- ابن حجر العسقلانی  (المتوفی 852ھ)
    5. مجمع الزوائد -   الہیثمی (المتوفی 807ھ)
    6. کنز العمال - المتقی الہندی  (المتوفی 979ھ)
    7. زجاجۃ المصابیح - عبداللہ نقشبندی  (المتوفی 1292ھ)
    8. الاربعین– امام نووی (المتوفی 631ھ)
    9. کتاب المعرفۃ سنن و آثار بیہقی (المتوفی 458ھ)
    10. کتاب الاعتقاد - بیہقی (المتوفی 458ھ)
    11. کتاب الدعا – ابن ابی دنیا (المتوفی 281ھ)
    12. الشکر للہ– ابن ابی دنیا (المتوفی 281ھ)
    13. مكارم الأخلاق- ابن ابی دنیا (المتوفی 281ھ)
    14. مسند - حارث بن ابی اسامہ (المتوفی 282ھ)
    15. کتاب السنۃ - الشیبانی(المتوفی 290ھ)
    16. المنتقیٰ – ابن جارود نیشاپوری (المتوفی 307ھ)
    17. مسند – ابوبکر الرویانی (المتوفی 307ھ)
    18. الترغیب والترہیب -  المنذری (المتوفی 656ھ)
    19. جامع السنن والمسانید- ابن كثير  (المتوفی 774ھ)
    20. حصن حصین –امام ابن جزری (المتوفی 833ھ)
    21. اتحاف-شہاب الدین بوصیری (المتوفی 839ھ)
    22. المطالب العالیہ- ابن حجر العسقلانی  (المتوفی 852ھ)
    23. کتاب الاشراف ابن المنذر (المتوفی 318ھ)
    24. نوارد الاصول – حکیم ترمذی (المتوفی 318ھ)
    25. مسند ابن ابی اوفی- ابن صاعد (المتوفی 318ھ)
    26. شرح مشكل الآثار- الطحاوی   (المتوفی 321ھ)
    27. شرح معانی الآثار- الطحاوی   (المتوفی 321ھ)
    28. معجم ابن الاعرابی -(المتوفی 340ھ)
    29. صحیح ابن السکن (المتوفی 353ھ)
    30. فتح الباری (شرح صحیح بخاری) - ابن حجر العسقلانی  (المتوفی 852ھ)
    31. مستخرج علی مسلم از ابونعیم اصفہانی (المتوفی 430ھ)
    32. حلیۃ الاولیاء از ابونعیم اصفہانی (المتوفی 430ھ)
    33. مسند شہاب - ابو عبد الله القضاعی (المتوفی 454ھ)
    34. کتاب المعرفۃ سنن و آثار بیہقی (المتوفی 458ھ)
    35. کتاب الاعتقاد - بیہقی (المتوفی 458ھ)
    36. جامع بیان العلم وفضلہ- ابن عبدالبر(المتوفی 463ھ)
    37. استیعاب - ابن عبدالبر(المتوفی 463ھ)
    38. کتاب الدعا - طبرانی (المتوفی 360ھ)
    39. مکارم الاخلاق - طبرانی (المتوفی 360ھ)
    40. معجم اسماعیلی (المتوفی 371ھ)
    41. مستخرج علی بخاری از اسماعیلی (المتوفی 371ھ)
    42. معجم ابن المقری (المتوفی 381ھ)
    43. الجامع لاخلاق -خطیب بغدادی (المتوفی 463ھ)
    44. تاریخ بغداد -خطیب بغدادی (المتوفی 463ھ)
    45. مشارق الانوار قاضی عیاض (المتوفی 544ھ)
    46. الکامل – ابن عدی (المتوفی 573ھ)
    47. الطیورات– ابو طاہر سلفی  (المتوفی 576ھ)
    48. الموضوعات الکبریٰ– ابن جوزی (المتوفی 597ھ)
    49. جامع الاصول - الجزری ابن الاثير (المتوفی 606ھ)
    50. الغایہ - امام سخاوی (المتوفی 902ھ)
    51. المقاصد الحسنہ  - امام سخاوی (المتوفی 902ھ)
    52. التوضيح الأبرہ  - امام سخاوی (المتوفی 902ھ)
    53. الجامع الربرہ - امام سیوطی (المتوفی 911ھ)
    54. الدرر المنتثرة- امام سیوطی (المتوفی 911ھ)
    55. کشف الخفاء – العجلونی (المتوفی 1162ھ)
    56. نيل الاوطار  - الشوكانی (المتوفی 1250ھ)
    57. الفوائد - الشوكانی (المتوفی 1250ھ)
    58. اللؤلؤ والمرجان – محمد فواد الباقی (المتوفی 1388ھ)
    59. سلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ-  البانی- (المتوفی 1420ھ)
    60. المنہاج السوی  -  ڈاکٹر طاہر القادری (تاحال)

شیعی مجموعےترميم

  1. کتاب الکافی، محمد بن یعقوب الکلینی – (المتوفی 328ھ)
  2. من لا یحضرہ الفقیہ، شیخ صدوق
  3. تہذیب الاحکام، شیخ طوسی
  4. الاستبصار، شیخ طوسی


طبقاتِ کتبِ احادیث:ترميم

احادیث کی جامع کتابوں کی مختلف مراتب ومنازل میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے صحت و قوت کے اعتبار سے کتب حدیث کے پانچ طبقات بتائے ہیں۔

حدیث کی چھ کتب صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ صحاح ستہ کہلاتی ہیں۔پہلی دو کتابیں صحیح بخاری، صحیح مسلم صحیحین کہلاتی ہیں، جبکہ آخری چار کتابوں سنن ابوداؤد، سنن نسائی، جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ کو سنن اربعہ کہتے ہیں۔ بعض علماء موطا امام مالک کو بھی صحیح ستہ کے درجہ میں رکھتے ہیں۔  


طبقہٴ اولی:ترميم

کتب حدیث کا پہلا طبقہ  وہ کتابیں ہیں جن کی جملہ احادیث حجت اور قابل استدلال ہیں بلکہ رتبہٴ صحت کو پہنچی ہوئی ہیں، جو حدیث قوی کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔ اس طبقہ میں تقریباً وہ تمام کتابیں داخل ہیں جو اسمِ صحیح کے ساتھ موسوم ہیں۔ اور بعض ان کے علاوہ ہیں۔ جیسے صحیح بخاری، صحیح مسلم، موطا امام مالک، صحیح ابن خزیمہ ، صحیح ابن حبان ،

طبقہٴ ثانیہ:ترميم

وہ کتابیں ہیں جن کی احادیث اخذ و استدلال کے قابل ہیں، اگرچہ ساری حدیث صحت کے درجہ کو نہ پہنچی ہوں اور کسی حدیث کے حجت ہونے کے لئے اس کا رتبہٴ صحت کو پہنچا ضروری بھی نہیں ہے۔ کیونکہ حدیث حسن بھی حجت اور قابل استدلال ہے۔ اس طبقہ میں یہ کتابیں ہیں:   سنن ابوداؤد، سنن نسائی، جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ  ۔ مسند احمد حنبل بھی اسی طبقہ میں ہے۔ اس لیے کہ اس میں جو بعض روایتیں ضعیف ہیں وہ حسن کے قریب ہیں۔

طبقہٴ ثالثہ:ترميم

یہ طبقہ  ان کتابوں کا ہے جس میں صحیح، حسن، ضعیف، معروف، شاذ، منکر، خطاء، صواب، ثابت اور مقلوب سب قسم کی حدیث ملتی ہیں۔ اور ان کتابوں کو علماء کے درمیان زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل نہ ہوئی ہو۔ ان کتابوں کی بعض روایتیں قابل استدلال ملتی ہیں اور بعض ناقابل استدلال۔ جیسے سنن ابن ماجہ ، مسند ابوداؤد طیالسی ، مسند ابویعلی الموصلی، مسند البزار، مصنَّف عبدالرزاق ، ابن شیبہ ، وغیرہ ان حضرات کا مقصد ان تمام روایتوں کو جمع کرنا ہے جو اُن کو مل جائیں، تلخیص و تہذیب،اور قابل عمل روایات کا انتخاب ان کا مقصد نہیں۔

طبقہٴ رابعہ:ترميم

ان کتابوں کا ہے جن کی ہر حدیث پر ضعف کا حکم لگایا جائے گا بشرطیکہ وہ حدیث صرف اس کتاب میں ہو۔ اوپر کے طبقات کی کتب میں نہ ہو، جیسے مسند الدیلمی ، تاریخ بغداد، حلیة الاولیاء اور دلائل النبوة وغیرہ۔

طبقہٴ خامسہ:ترميم

موضوعات کی کتابوں کا ہے، جن میں صرف احادیث موضوعہ ہی ذکر کی جاتی ہیں۔ علماء محققین ، محدثین وناقدین نے بہت سی ایسی کتابیں لکھی ہیں جن میں وہ صرف احادیثِ موضوعہ کو تلاش کرکے لائے ہیں تاکہ عام اہلِ علم ان سے باخبر ہوکر دھوکہ میں آ نے سے بچیں۔ چنانچہ علامہ ابن الجوزی کی الموضوعات الکبری اس سلسلہ کی مشہور کتاب ہے۔ اور جیسے امام سیوطی کی ”اللآلی المصنوعة فی الاحادیث الضعیفہ“ ملا علی قاری کی ”الموضوعات الکبری“ اور ”المصنوع فی معرفة الموضوع“ وغیرہ

اقسام کتبِ احادیث:ترميم

  • صحیح : احادیث کی وہ کتاب جس میں حدیث کی سند متصل ہو اور عادل و ضابط راوی نے عادل  و ضابط راوی سے نقل کیا ہوا ور آخر تک ہر راوی اسی درجہ کا ہو اور حدیث شذوذ (کسی دوسری حدیث سے اختلاف) اور علت سے پاک ہو۔  [مثال :صحیح بخاری  ؛ صحیح مسلم  ؛ صحیح ابن حبان ؛ صحیح ابو عوانہ ؛ صحیح اسماعیلی  ؛ صحیح (مستدرک) حاکم ]
  • سنن: سنن حدیث کی وہ کتاب ہے، جس میں عملی احکام سے متعلق احادیث فقہی ترتیب (الایمان، الطہارۃ، الصلاۃ، الزکاۃ، فرائض) پر جمع کی گئی ہوں۔  [مثال :سنن نسائی؛ سنن ابی داؤد ؛ سنن ابن ماجہ ؛ سنن دارمی؛ سنن دارقطنی ؛ سنن بیہقی ؛ سنن (جامع) ترمذی]
  • مسند: مسند میں احادیث ان کے راوی صحابہ کرام کے مراتب و درجات کے اعتبار سے جمع کی جاتی ہیں [مثال : مسند احمد بن حنبل ؛ مسند امام شافعی، مسند ابو داؤد طیالسی، مسند عبد بن حمید،  مسند حارث بن اسامہ، مسند بزار؛ مسند فردوس دیلمی]
  • جامع: جامع سے مراد حدیث کی وہ کتاب ہے کہ جس میں اسلام سے متعلق ان میں سے آٹھ موضوعات یا ابواب شامل ہوں، عقائد، احکام، رقاق، آداب الطعام و شرب، تفسیر و تاریخ و سیرۃ، سفر و العقود یا شمائل،  معاد، فتن، آداب اور المناقب وغیرہ [مثال : جامع ترمذی ؛ جامع (صحیح) بخاری ؛ ]
  • مستدرک : ‘‘مستدرک’’ احادیث کی ایسی کتاب جس میں مصنف ایسی روایات جمع کرے جو کسی دوسرے مصنف کی شرائط کے مطابق ہوں لیکن اس کی کتاب میں نہ ہوں ۔   ان میں کسی کتاب کی احادیث پر استدراک کیا جاتا ہے۔  [مثال :مستدرک حاکم ؛ مشکوٰۃ]
  • مستخرج: مستخرج احادیث کی وہ کتاب جس میں مصنف کسی دوسری کتاب کی حدیثوں کو اپنی سندوں سے روایت کرے۔ [مثال : مستخرج اسماعیلی علی صحیح البخاری؛ مستخرج علی صحیح مسلم ابو نعیم اصفہانی ]
  • معجم : ‘‘معجم’’ حدیث کی ایسی کتاب کو کہتے ہیں جس مصنف ایک خاص ترتیب کے ساتھ بہ ترتیب حروف تہجی ، اپنے ہر استاد، شیوخ ، قبائل یا شہروں کے نام کے ساتھ روایات کو الگ الگ جمع کرے ۔ [مثال :معجم الکبیر  و صغیر طبرانی]
  • موطا : حدیث کی وہ کتاب جس کو مؤلف نے دوسرے علما کے سامنے پیش کیا ہو اور ان علما نے مؤلف کے ساتھ اتفاق کیا ہو اسے مؤطا کہتے ہیں۔ [مثال : موطا امام مالک ؛ موطا امام محمد ؛  موطا ابن ابی ذئب؛ ]
  • مصنف: تصنیف حدیث کا ایک طریقہ ہے جس میں احادیث فقہی ترتیب سے جمع کی جاتی ہیں۔ یعنی مرفوع،موقوف، مقطوع اور مرسل احادیث، صحابہ اور تابعین کے اقوال ایک ترتیب سے جمع کر دیے جاتے ہیں۔ [مثال : مصنف عبدالرزاق ؛ مصنف ابی بکر ابن ابی شیبہ ؛ مصنف سلیمان بن داؤد ]
  • اربعین: اربعین سے مراد حدیث کی وہ کتاب ہے جس میں ایک یا ایک سے زائد عنوانات پر چالیس احادیث جمع کی گئی ہوں۔ اسے چہل حدیث بھی کہتے ہیں۔ [مثال : اربعین نووی؛ اربعین ابن حجر؛ اربعین شاہ ولی اللہ؛ اربعین ثنائی؛ الاربعون لابن تیمیہ؛ اربعین بہائی]
  • جزو: حدیث کی وہ کتاب ہے کہ جس میں صرف ایک راوی یا ایک جزوی مسئلے پر یا کسی خاص موضوع پر احادیث جمع کی گئی ہوں۔ اسے فرد بھی کہتے ہیں۔ [مثال : الادب المفرد از بخاری؛ جزو رفع الیدین از بخاری؛ جزو قرائۃ خلف الامام از بیہقی؛ ]
  • کتب السنۃ:حدیث کی وہ کتابیں جن میں اتباع نبیﷺاور بدعات سے اجتناب کی احادیث ہوں۔ [مثال : کتاب السنۃ الشیبانی؛ السنۃ ابن ابی عاصم]
  • کتب الجمع:حدیث کی وہ کتابیں جن میں حدیث کی کچھ کتب کو جمع کیا جاتا ہے۔ [مثال : جامع الاصول، الامام ابن الاثیر]
  • کتب الزوائد:حدیث نبوی کی ایسی کتب جن میں کچھ کتب حدیث کی احادیث پر کسی کتاب یا کتب سے زائد احادیث جمع کی جاتی ہیں۔ [مثال : مجمع الزوائد –الہیثمی؛ اتحاف الخیرۃ البوصیری]
  • کتب الاحکام:یہ حدیث نبوی کی ایسی کتب ہیں جو صرف احکام کی احادیث پر مشتمل ہیں۔ [مثال : المنتقی  ابن جارود؛ بلوغ المرام  ابن حجر]
  • اس کے علاوہ  علل اور موضوع  احادیث کے مجموعہ، احادیث القدسیۃ،  زہد، اذکار ، دلائل النبوۃ یعنی معجزات  اور   طب نبوی پر  احادیث کے مجموعے  شامل ہیں۔


مزید دیکھیےترميم