کرنل شیر خان

پاکستانی کے عسکری تمغا نشان حیدر وصول کنندہ

کیپٹن کرنل شیر خان شہید (19701999) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع صوابی ایک گاؤں کرنل شیر کلی پرانا نام نواں کلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1999 میں بھارت کے خلاف کارگل کے معرکے میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے پاک فوج کا اعلی ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر کا اعزاز حاصل کیا۔

کرنل شیر خان
معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1970  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع صوابی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 5 جولا‎ئی 1999 (29 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وادی مشکوہ،  ٹائیگر ہل، کارگل،  دراس،  جموں و کشمیر  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات لڑائی میں مارا گیا  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فوجی افسر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
شاخ سندھ رجمنٹ،  ناردرن لائٹ انفنٹری،  پاک فوج  ویکی ڈیٹا پر (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عہدہ کپتان
کرنل  ویکی ڈیٹا پر (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں کارگل جنگ  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابتدائی زندگیترميم

کیپٹن شیر خان چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ اُنکی والدہ کا انتقال 1978 میں ہوا جب شیر خان کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔ اُنکی پرورش پھوپھیوں اور چچیوں نے کی۔ اُنکا خاندان مکمل طور پر مذہبی ہے۔ جس کی وجہ سے شیر خان مکمل طور پر اسلامی تعلیمات اور افکار پر عمل کرتے تھے

تعلیمی سفر اور کیرئیرترميم

گورنمنٹ کالج صوابی سے اپنا انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ائیر مین کے طور پر پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کر لی اور اپنی ٹریننگ مکمل کی اور رسالپور کے بنیادی فلائنگ ونگ میں الیکٹریکل فٹر(اییروناٹیکل) کے طور پر تعینات ہوئے۔ اس دوران انہوں نے دو بار پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کرنے کی کوشش کی جس میں دوسری دفعہ کامیابی حاصل کی۔ اور1992ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شمولیت اختیار کی اور 1994 میں 90لانگ کورس سے گریجویشن مکمل کی۔ ان کی پہلی تعیناتی ستائیسویں سندھ رجمنٹ کے ساتھ اوکاڑہ میں ہوئی۔ ان کے چہرے پہ ہمیشہ ایک فوجی کی مسکراہٹ رہتی تھی جس کی وجہ سے شیراکے لقب سے مشہور تھے۔ کیپٹن شیر خان اپنے آفیسرز اور ساتھیوں کے درمیان بھی بہت مشہور تھے۔۔ جنوری 1998 میں انہوں نے خود کولائن آف کنٹرول پر تعیناتی کے لیے پیش کیا جہاں وہ ستائیسویں سندھ رجمنٹ کے طرف سے ناردرن لائن انفنٹری میں تعینات ہوئے

شہادتترميم

کارگل کی جنگ شروع ہونے کے دوران 15 جون کو امریکی صدر بل کلنٹن کا وزیر اعظم نواز شریف کو فون آیا اور کہا گیا کہ فوراً کارگل سے فوجیں واپس بلوا لو، اس کے بعد جنرل پرویز مشرف اور نوازشریف کے درمیان گفتگو کا سلسلہ جاری رہا 29 جون بھارتی فوج نے پوائنٹ 5060 پوائنٹ 5100 پر دو اہم چوکیاں دوبارہ حاصل کر لیں، 2 جولائی بھارتی فوج نے کارگل پر تین حملے کئے، 4 جولائی بھارتی فوج نے گیارہ گھنٹوں کی لڑائی کے بعد علاقہ میں ٹائیگر ہلز کا علاقہ واپس لے لیا، 5 جولائی کو بھارت نے دارس کا علاقہ واپس لے لیا۔ وزیراعظم نواز شریف ہنگامی بنیادوں پر ایک مختصر ملاقات کے لیے واشنگٹن میں صدر بل کلنٹن سے ملے نواز شریف نے اس ملاقات کے بعد کارگل سے فوجوں کو واپس بلوانے کا اعلان کر دیا۔ 29 جون کو پاکستان کے وزیراعظم نے پاک فوج کو پیچھے ہٹنے کا حکم جاری کیا پاک فوج نے 6 میں سے چار جگہوں کو خالی کیا باقی point 5353 اور tiger hill رہ گئے، point 5353 آج بھی پاک فوج کے قبضے میں ہے ۔ جنگ بندی کے آرڈر کے باوجود ٹائگر ہل کی کمانڈ کیپٹن شیر خان کررہے تھے جس کے پاس کل 30 جوان تھے جنہوں نے ٹائگر ہل پر 5 پوسٹ بنائے تھے، بھارت نے ٹائگر ہل کو واپس لینے کیلئے برگیڈئیر M.P.S Bajwa کو ٹاسک دیا جس نے ٹائگر ہل پر 8 ناکام حملے کیئے باجوہ کے مطابق ان 8 حملوں میں اس کے 60 جوان ہلاک ہوئے تھے، برگیڈیئر باجوہ نے ٹائگر ہل پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں ۔ آخری حملے کے طور پر برگیڈیئر باجوہ نے دو برگیڈز کو بھیجا ۔ اس حملے میں شیرخان زخمی ہوئے لیکن بھارت کے بقول وہ پھر بھی لڑ رہے تھے اور آخر کار شہید ہوگیے__ اس حملے میں پاک فوج کے باقی 27 جوان بھی شہید ہوئے_ بھارت نے پاکستان کے 30 جوانوں کو وہیں دفنا دیا جبکہ برگیڈیئر باجوہ نے کیپٹن شیر خان شہید کی باڈی کو ٹائگر ہل سے نیچے اتارتے ہوئے دہلی بھیج دیا__ باڈی کو دہلی بھیجتے ہوئے برگیڈیئر باجوہ نے اپنے جنرل آفیسر کو شیرخان شہید کی بہادری سے آگاہ کیا اور اپنے ہاتھوں سے لکھا گیا خط ساتھ بھیج دیا کہ شیر کی باڈی کے ساتھ یہ خط بھی بھیج دیا جائے جس میں ان کی بہادری کے اعتراف کے ساتھ شیرخان کیلئے حکومت پاکستان سے اعلیٰ اعزاز کی فرمائش کی تھی، بھارت نے 16 جولائی کو پاکستانی پرچم لپیٹ کرنل شیرخان شہید کی باڈی عزت کے ساتھ پاکستان کے حوالے کیا پاکستان نے شیرخان شہید کی بہادری پر اس کو نشان حیدر سے نوازا

کیپٹن شیر خان کا کورٹ مارشل ہونے کی اطلاعات تھیں جس کی وجہ یہ تھی کہ جنگ بندی کے آرڈر کے باوجود کیپٹن شیر خان جنگ کے جاری رکھے ہوئے تھے ۔


نشان حیدرترميم

 

  نشان حیدر (NH)

مزید دیکھیےترميم

بیرونی روابطترميم

دبیز متن