مرکزی مینیو کھولیں

}}

کلاسیک کے عظیم ادیبوں و شعرا ایک فطین، زی شعور اور مخصوص جمالیاتی حسں کے حامل ھوتے تھے اور وہ اپنے اظہار میں ہنر بھی تھے۔ وہ اچھی طرح سے اور مؤثر طریقے سے لکھتے بھی تھے، اس میں حکمت بھی ھوتی تھی اور مستقبل آنے والے متوقع حادثات اور آنے والی دریافتوں کا عندیہ بھی دیا جاتا ہے۔ ان کے فکری واہموں میں حقیقت پسندانہ خواب پوشیدہ ھوتے تھے۔ کلاسیکل کہانیوں میں شیشے کے اندر کوسوں دور کے منظر نظر آتے تھے۔ پھر چند ہی صدیوں بعد یہی واہمے سچ ثابت ھوئے اور ہم نے دیکھا کہ پھر ٹیلی وژن بھی آیا اوراب ہم فیس ٹائم کا لطف بھی اٹھارھے ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ کلاسیک کے بغیر ادب ایسا درخت ہوتا ہے جس کی جڑیں نہیں ھوتیں۔ بہت آسان لفظوں میں کلاسیک وہ ادب جس کی تخلیق تو ماضی میں ہوئی ہو لیکن جو عہد حاضر میں بھی اہمیت کا حامل ہو۔ جو وقت کی گرد میں دب کر معدوم نہ ہو گیا ہو۔ مثال کے طور پر ہومر، شیکسپئیر، غالب، میر، اقبال وغیرہ۔ اب اگر کلاسیک کی فلسفیانہ مبادیات پر غور فکر کرنا ہو تو ٹی ایس ایلیٹ کا مضمون "کلاسیک " کیا ہے؟ کا مطالعہ کافی ہوگا۔ جمیل جالبی کے ترجمے "ایلیٹ کے مضامین" میں یہ مضمون بھی شامل ہے۔ کلاسیک کی تفہیم و تعبیر کوئی ایسا پیچیدہ معاملہ نہیں ہے .اصل میں بنیادی بات وھی ہے کہ تاریخ کے ارتقائی عمل میں کلاسیک ادب اپنا کردار ادا کرتا ھوا تہذیبوں کو ایک اساس فراھم کر دیا کرتا ہے اور پھر اسی زبان کا ادب اپنے تسلسل میں روائیات کے ساتھ آگے بڑھتا ھوا عصر حاضر کی تمام ادبی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور پھر آج کا زندہ رہ جانے والا ادب آنے والے کل کا کلاسیک ادب کہلائے گا۔ ادب پر کلاسیک گہرا اثر ہوتا ہے۔ جو ادبی تاریخ کی ایک جمالیاتی قدر بھی ہے۔