کیکئی (انگریزی: Kaikeyi) ہندو اساطیر راماین کے مطابق کیکئی ایودھیا کی مہارانی اور راجا دشرتھ کے حرم میں دوسرا درجہ رکھتی تھی۔ دشرتھ کی تینوں بیویوں میں کیکئی کے کارنامے سب سے اہم ہیں۔ انہوں نے ایک جنگ میں اپنی بہادری کی مثال پیش کرتے پوئے اپنے شوہر راجا دشرتھ کی جان بھی بچائی تھی۔ وہ کیکیا کی شہزادی تھی۔ ویسے کو کیکئی کے بیٹے کا نام بھرت تھا مگر ان کا لگاو رام کی طرف بہت زیادہ تھا۔ اسی وجہ سے ان کی خادمہ منتھارا نے رام نے خلاف کیکئی کے خوب کان بھرے اور اسی وجہ سے کیکئی نے رام کو جنگل میں جلا وطن کروادیا۔

راماین کردار
Kaikeyi and Manthara - M. V. Dhurandhar.jpg
منتھرا مہارانی کو رام کے خلاف بھڑکائی ہوئی۔
خاندان
بیویدشرتھ
اولادبھرت (راماین) (بیٹا)

ولادت اور ابتدائی زندگیترميم

کیکئی کی ولادت کیکیا کے راجا اشوتی کے یہاں ہوئی۔ لیکن ولادت کے بعد ہی ان کی والدہ کو جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ ان کی تربیت ان کی آیا، جنہیں وہ ماں بھی مانتی تھی، منتھرا کے ہاتھوں میں ہوئی۔ ان کی تربیت ان کے سات بھائیوں کے درمیان میں ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے وہ بہت جری، نڈر اور بہادر تھی۔

راجا دشرتھ کو اولاد نہیں ہو رہی تھی۔ اس نے نرینہ اولاد کے حصول کے لئے ایک پوجا کا انعقاد کیا۔ اس وقت کے سادھو منش رشیاس رنگ نے دشرتھ کے لئے ایک آگ جلائی اور اس میں سے یگ دیوتا سنہرے طشت میں پاسیم (ایک قسم کی کھیر) لے کر برآمد ہوئے۔ دشرتھ نے اس کھیر میں سے نصف کوشلیا کو دیا، باقی نصف میں کے دو حصے کیے اور نصف سومترا کو دیا۔ پھر باقی بچے آدھے میں سے دو حصے کیے اور نصف کیکئی کو دیا اور باقی بچے آدھے کے دوبارہ سومترا کو دے دیا۔[1] کیکئی کے یہاں بھرت کی ولادت ہوئی تھی۔

منتھرا کا رسوخ اور رام کی جلا وطنیترميم

 
منتھرا نے کیکئی سے کہا کہ راجا دشرتھ کی وصیت ہے کہ رام کو جنگل کی طرف جلا وطن کردیا جائے اور بھرت کو راجا بنایا جائے .

دشرتھ نے دربار کے متقفہ فیصلہ کے بعد رام کو اپنا جانشین بنا دیا۔ کیکئی خود رام کو اپنے بیٹے کی طرح مانتی تھی لہذا وہ اس اعلان سے بہت خوش تھی۔ انہیں ایسا ہی لگا کہ خود ان کا اپنا بیٹا جانشین بنا ہو۔ مگر ان کی خادمہ منتھرا کو لگا کہ اگر رام جانشین بنے تو کیکئی کو محل کی رانی کا رتبہ نہیں ملے گا۔ لہذا اس نے کیکئی کو بھڑکایا اور اس کے کہنے پر کیکئی نے رام کو جنگل کی طرف جلا وطن کروادیا۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "The Ramayana in Sanskrit: Book 1: Chapter 15".