ہارون رشید (پاکستانی کرکٹر)

(ہارون رشید (کرکٹر) سے رجوع مکرر)

ہارون رشید ڈار Haroon Rasheed Dar(پیدائش :25 مارچ 1953ء کراچی) سابق پاکستانی کرکٹر ہیں جنہوں نے 19983ء سے 1977ء تک 23 ٹیسٹ اور 12 ایک روزہ میچز کھیلے۔ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مینیجر بھی رہے۔ ہارون رشید ڈار نے پاکستان کے علاوہ کراچی' نیشنل بینک آف پاکستان' پی آئی اے' سندھ اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کی طرف سے بھی کرکٹ کا آغاز کیا۔ ان کے 6 بھائی طاہر رشید ڈار (181 فرسٹ کلاس میچ)' احمد رشید ڈار (9 فرسٹ کلاس میچ)' فاروق رشید ڈار (13 فرسٹ کلاس میچ)' محمود رشید ڈار (87 فرسٹ کلاس میچ)' محتشم رشید ڈار (23 فرسٹ کلاس میچ) اور عمر رشید ڈار (146 فرسٹ کلاس میچ) کھیلے۔

ہارون رشید ٹیسٹ کیپ نمبر77
Rene Schoonheim and Haroon Rashid 1978.jpg
ہارون رشید (دائیں) 1978ء میں
ذاتی معلومات
پیدائش25 مارچ 1953ء (عمر 70 سال)

کراچی, پاکستان
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیدائیں ہاتھ کا میڈیم گیند باز
تعلقاتاحمد رشید (بھائی)
فاروق رشید (بھائی)
محمود رشید (بھائی)
طاہر رشید (بھائی)
عمر رشید (بھائی)
محتشم رشید (بھائی)
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ
میچ 23 12
رنز بنائے 1217 166
بیٹنگ اوسط 34.77 20.75
100s/50s 3/5 -/1
ٹاپ اسکور 153 63*
گیندیں کرائیں 8
وکٹ
بولنگ اوسط
اننگز میں 5 وکٹ
میچ میں 10 وکٹ n/a
بہترین بولنگ
کیچ/سٹمپ 16/- 3/-
ماخذ: [1]، 4 فروری 2006

ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگیترميم

ہارون رشید نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز آسٹریلیا کے خلاف سڈنی کے مقام پر 1977ء میں کیا تھا۔ پاکستان نے اس ٹیسٹ میں 8 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی کیونکہ اس نے 32 رنز کا ہدف بغیر نقصان کے حاصل کرلیا تھا۔ پہلی اننگ میں آسٹریلیا کی ٹیم 211 رنز بنا سکی۔ گیری کوزیئر کے 50 رنز نمایاں تھے۔ پاکستان کی طرف سے عمران خان 102/6 اور 42/3 نے ٹیم کو آسٹریلیا پر حاوی ہونے میں مدد دی تھی۔ آصف اقبال 120، جاوید میانداد 64 اور ہارون رشید کے 57 رنز کی مدد سے پاکستان 360 رنز تک جا پہنچا۔ دوسری اننگز میں آسٹریلیا کے 180 رنز تک محدود رہنے کی وجہ سے پاکستان کیلئے یہ میچ جیتنا آسان ہوگیا تھا۔ عمران خان 63/6 اور سرفراز نواز 77/3 کے ساتھ آسٹریلیا کیلئے میچ کو بچانا مشکل بنا گئے تھے۔ پہلے ٹیسٹ میں ہارون رشید کے 57 رنز اس لحاظ سے بھی قابل تحسین تھے کہ پاکستان یہ ٹیسٹ جیت گیا تھا۔ 1977ء میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے دورے کی ٹھانی۔ ہارون رشید نے برج ٹائون پر 33 اور 39، پورٹ آف سپین میں 4 اور 7 رنز سکور کئے تاہم جارج ٹائون کے میچ میں وہ بھرپور طریقے سے واپس آ کر 32 اور 60 رنز کی باریاں کھیل ڈالیں۔ یہی نہیں بلکہ کنگسٹن کے ٹیسٹ میں پہلی اننگ میں 72 جبکہ دوسری اننگز میں 31 رنز کے ساتھ انہوں نے اس دورے پر شاندار اختتام کیا۔ اسی سیزن کے آخر میں انگلستان کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ لاہور کے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی اننگ نمایاں تھی۔ مدثر نذر 104، جاوید میانداد 71 کے ساتھ انگلش بولروں پر ٹوٹ پڑے لیکن ٹیم کے سکور 407 رنز 9 کھلاڑی آئوٹ پر ڈکلیئر کے پیچھے اصل ہیرو ہارون رشید تھے۔ 244 گیندوں پر 298 منٹ میں انہوں نے 122 رنز سکور کئے۔ یہ ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری تھی جس کی تکمیل کے دوران انہوں نے 17 چوکے اور ایک چھکے سے مدد لی۔ دوسری اننگز میں انگلش بیٹنگ نے کچھ ہمت دکھائی مگر بہت دیر ہوچکی تھی۔ 288 رنز تک ہی محدود رہونے کی وجہ سے پاکستان کو جیت کا مزہ مل گیا۔ وسیم راجہ 3 اور سرفراز نواز 4 وکٹوں کے ساتھ اس کامیابی میں معاون بنے تھے۔ ہارون رشید 45 رنز کے ساتھ دوسری اننگز میں ناقابل شکست رہے لیکن ابھی کھیل جاری تھا کہ ہارون رشید نے حیدر آباد کے اگلے ٹیسٹ میں بھی انگلش بولرز کیلئے ڈرائونا خواب تشکیل دیا۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 275 رنز بنائے جس میں ہارون رشید کی سنچری کا اثر تھا۔ انہوں نے 108 رنز کیلئے 176 گیندوں کا 216 منٹ میں انتخاب کیا۔ مسلسل دوسری سنچری کے ساتھ انہوں نے بہت سے مداح بنا لئے تھے۔ انگلش ٹیم 191 پر ڈھیر ہوگئی تھی۔ عبدالقادر کی غچہ دیتی ہی گیندیں کھیلنا انگلش کھلاڑیوں کے بس کی بات نہ تھی جنہوں نے 44/6 کی ناقابل یقین کارکردگی پیش کی۔ پاکستان نے 4 کھلاڑیوں کے نقصان پر 259 رنز بنا کر اننگ ڈکلیئر کی۔ ہارون رشید 45 کے ساتھ ایک بار پھر متاثر کرگئے۔ ان کا ساتھ مدثر نذر 66 اور جاوید میانداد 61 نے بھی خوب دیا تھا۔ کراچی کے تیسرے ٹیسٹ میں 270 تک محدود رہے جبکہ پاکستان کے جوابی دورہ انگلستان میں بھی رنز ہارون رشید سے دور نظر آئے۔ اسی طرح نیوزی لینڈ کے خلاف 1979ء کے واحد ٹیسٹ میں وہ صرف 40 اور 35 رنز ہی بنا سکے۔ آسٹریلیا کے خلاف 1979-80ء کی سیریز میں وہ دوبارہ آہستہ آہستہ فارم میں آتے دکھائی دیئے جب انہوں نے 4، 47، 6، 10 اور 29 رنز کی باریاں سمیٹیں۔ یہ صورتحال ان کی آئندہ کیریئر پر نظر آتی دکھائی دی اور ٹیم میں ہارون رشید کا رہنا مشکل لگنے لگا۔ اسی لئے انہیں 2 سال تک دوبارہ ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تاہم 1982ء میں انہیں سری لنکا کے خلاف پاکستان ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ کراچی کے پہلے ٹیسٹ میں ہارون رشید نے ایک بڑی اننگ کھیل کر پاکستان کے سکور کو 396 رنز تک پہنچا دیا جس میں ان کے 153 رنز شامل تھے۔ تاہم پاکستانی اننگز میں طاہر نقاش 57 اور راشد خان 51 کے ساتھ معاون ثابت ہوئے۔ ہارون رشید نے 153 رنز بنانے میں 242 گیندوں کا سامنا کیا۔ سری لنکا نے جواب میں 344 رنز بنائے۔ دوسری اننگ میں ہارون رشید کی باری نہیں آئی اور یہ ٹیسٹ برابری پر ختم ہوگیا۔ فیصل آباد کے اگلے ٹیسٹ میں ہارون رشید کے بلے سے صرف 25 رنز امڈے۔ یہ سیزن ہارون رشید کا آخری سیزن تھا جب انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں قومی ٹیم کی نمائندگی کی جس میں کراچی ٹیسٹ میں انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف 82 اور فیصل آباد میں 51 رنز کی اننگز اپنے ریکارڈ کا حصہ بنائیں۔ 1982-83ء میں ان کا آخری ٹیسٹ بھارت کے خلاف حیدر آباد میں تھا جہاں وہ واحد اننگ میں بغیر کوئی رنز بنائے آئوٹ ہوئے۔

ون ڈے کرکٹترميم

ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں ہارون رشید کو 1977ء میں انگلستان کے خلاف سیالکوٹ میں ٹیم کا حصہ بنایا گیا تھا جس میں وہ صرف 5 رن ہی بنا پائے۔ مجموعی طور پر ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں وہ ایک یا دو اننگ کے علاوہ کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ 1979ء کے دوسری عالمی کپ مقابلوں میں انگلینڈ کے خلاف 20 اور کینیڈا کے خلاف 37 ناٹ آئوٹ کی اننگ کچھ متاثر کن تھی جبکہ 1982ء میں سری لنکا کے خلاف لاہور میں منعقدہ ایک روزہ میچ ان کا آخری ایک روزہ بین الاقوامی میچ تھا جس میں ان کی بیٹنگ نہ آئی۔

اعداد و شمارترميم

ہارون رشید نے 23 ٹیسٹ میچوں کی 36 اننگز میں ایک مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر 1217 رنز بنائے۔ 153 کے سب سے بڑے انفرادی سکور کے ساتھ ان کو 34.77 کی اوسط حاصل ہوئی۔ 3 سنچریاں' 5 نصف سچریاں اور 16 کیچز ان کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے 12 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی 10اننگز میں 2 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر 166 رنز سکور کئے۔ 20.75 کی اوسط سے ریکارڈ کا حصہ بننے والے ان رنزوں میں 63 ناقابل شکست رنز ان کا سب سے زیادہ سکور ہے اور ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ان کی طرف سے یہی ایک نصف سنچری سکور کی گئی ہے۔ ہارون رشید نے 149 فرسٹ کلاس میچوں کی 234 اننگز میں 27 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر 7500 رنز بنائے۔ 36.23 کی اوسط حاصل ہونے میں ان کے 153 رنز کی بہترین انفرادی باری کا فی حصہ تھا۔ فرسٹ کلاس میچوں میں 15 سنچریاں اور 126 کیچز بھی لئے۔ انہوں نے ٹیسٹ میں 16 اور ون ڈے کرکٹ میں 3 کیچز بھی پکڑے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم