یحییٰ بن سعید القطان صحاح ستہ کے راویوں میں شمار ہوتے ہیں۔

یحییٰ القطان
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 738  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 813 (74–75 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لقب أبو سعيد الأحول الحافظ
عملی زندگی
استاذ مالک بن انس  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

پورانامترميم

ان کا مکمل نام یحییٰ بن سعید القطان بن فروخ تمیمی بصری ابو سعید کنیت اورنسبت القطان تمیمی تھی۔حضر ت یحییٰ بن سعید بھی غلام خاندان سے تھے؛ مگرعلم وفضل کے لحاظ سے ان کا شمار ممتاز تبع تابعین میں ہوتا ہے، بصرہ آبائی وطن تھا اور وہیں سنہ۱۲۰ھ میں ان کی ولادت ہوئی۔ [1]

ولادتترميم

ولادت 120ھ میں بصرہ میں ہوئی حافظ حدیث اور ثقہ راوی ہیں

تعلیم وتربیتترميم

شیخ ابن سعید نے جس زمانہ میں آنکھ کھولی اس وقت مملکتِ اسلام کا ہرقصبہ اور ہرقریہ قال اللہ وقال الرسول کی آواز سے گونچ رہا تھا، خدا کو ان سے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدوین کا کام لینا تھا، اس لیے اس نے ان بزرگوں کی خدمت میں جانے کی توفیق عطا کی جواس فن کے امام تھے، ان کے شیوخ کے ناموں پرنظر ڈالنے سے اندازۃ ہوتا ہے کہ اس زمانے کے تمام ممتاز محدثین سے حواہ وہ کسی خطہ کے ہوں انہوں نے استفادہ کیا تھا، خصوصیت سے امام شعبہ رحمہ اللہ جو اس وقت مرجع خلائق تھے، ان کی خدمت میں یہ بیس برس متواتر سماع حدیث کرتے رہے، جن محدثین سے انہوں نے استفادہ کیا تھا ان کی فہرست کافی طویل ہے، چند مشاہیر کے نام یہ ہیں: امام مالک، امام اوزاعی، امام شعبہ، سفیان ثوری، ابن ابی عروبہ، یحییٰ بن سعید الانصاری تابعی، ہشام بن عروہ، امام اعمش، مسعربن کدام، سفیان بن عیینہ، اور سلیمان، اعمش وغیرہ امام نووی نے لکھا ہے کہ یحییٰ بن سعید نے پچاس ایسے شیوخ حدیث سے سماع کیا تھا جوسفیان ثوری رحمہ اللہ جیسے محدث روزگار کے اساتذہ میں تھے۔ وہ اپنی غیرمعمولی ذہانت اور قوتِ حافظہ میں زمانہ طالب علمی سے ممتاز تھے، امام شعبہ اور سفیان ثوری رحمہ اللہ جوخود ان اوصاف میں فائق تھے، وہ ان کی ذہانت اور قوتِ حافظہ پرحیرت کرتے تھے، ان کے ان اوصاف کی شہرت ہوئی توحدیث نبوی کے پیاسے ہرطرف سے اُن کے گرد جمع ہونے لگے، تذکروں میں ان کے حلقہ درس کے بارے میں بہت کم معلومات ملتی ہیں؛ مگربعض ممتاز ائمہ کا برسوں ان کی خدمت میں رہ کر کسب فیض کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ان کا باقاعدہ حلقہ درس تھا، ان سے استفادہ کرنے والوں کے چند نام یہ ہیں: امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، اسحاق بن راہویہ، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان بن عیینہ، ابوبکر بن شیبہ، علی بن المدینی، ان میں سے ہرایک کا شمار کبارتبع تابعین میں ہوتا ہے، ان کے علاوہ اور بھی بے شمار افراد نے ان سے استفادہ کیا تھا، جن میں ان کے لڑکے محمد اور ان کے پوتے احمد بھی ہیں۔ [2] ان کی جلالت علم کا اندازۃ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ امام احمد، ابن معین اور ابن المدینی جیسے ائمہ روزگار ان کے سامنے بیٹھے کی ہمت نہیں کرتے تھے اور ان سے جوکچھ پوچھنا ہوتا تھا کھڑے کھڑے پوچھ لیتے تھے۔

علم وفضلترميم

اپنے فضل وکرم اور زہد واتقا کے لحاظ سے زمرۂ تبع تابعین کے گوہر شب چراغ تھے، تمام ائمہ حدیث وفقہ نے ان کے فضل وکمال کا اعتراف کیا ہے، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ میری آنکھوں نے یحییٰ جیسا عالم نہیں دیکھا، ایک بار کسی نے ان سے پوچھا کہ وکیع بن جراح اور یحیی بن سعید میں کون زیادہ صاحب علم ہے، فرمایا کہ میں نےیحییٰ جیسا صاحب علم نہیں دیکھا۔ [3]

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اسی طرح کے اور بھی بیشمار جملے منقول ہیں، ان کا یہ اعتراف بڑی اہمیت رکھتا ہے اس لیے کہ وہ امام شافعی رحمہ اللہ، امام محمد رحمہ اللہ جیسے ائمہ فقہ وحدیث سے استفادہ کرچکے تھے، عبدالرحمن بن مہدی جن کی جلالتِ علم ہرکہ ومہ کومسلم تھی؛ انہوں نے بھی یحییٰ بن معین سے کہا کہ تمہاری آنکھیں ان کے جیسا صاحب فضل وکمال نہ دیکھیں گی، شیخ بندار جوان کی خدمت میں بیس برس رہے تھے، وہ انہیں امام زمانہ کہتے تھے، امام نووی نے لکھا ہے کہ ان کے علم وفضل، امامت وجلالت اور صلاح وتقویٰ پرسب کا اتفاق ہے ان کے علم وفضل کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جب کسی مسئلہ میں ائمہ حدیث کے درمیان اختلاف ہوتا تھا تویہ حکم مقرر ہوتے تھے، ایک بار امام شعبہ کے سامنے کسی مسئلہ میں اختلاف ہوا، اختلاف کرنے والوں نے ان سے کہا کہ آپ کسی کوحکم بنادیجئے، امام شعبہ کی نظر انتخاب حضرت یحییٰ بن سعید پرپڑی؛ چنانچہ ان کے سامنے وہ مسئلہ رکھا گیا؛ انہوں نے امام شعبہ جیسے امام وقت اور استاد کے خلاف فیصلہ دیا؛ مگراستاد کی حق پرستی بھی دیکھئے کہ شاگرد کے فیصلہ کے آگے سرِتسلیم خم کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: اے یحییٰ! تمہاری غیرموجودگی کیسے برداشت کی جائے گی؟۔[4]

حدیثترميم

علم حدیث ان کا خاص فن تھا اور اس میں ان کا مرتبہ امام کا تھا، ارباب تذکرہ لکھتے ہیں کہ عراق میں علم حدیث کا عام رواج ان ہی کی ذات سے ہوا۔ [5] ائمہ حدیث کے یہاں ان کی مرویات کا جومرتبہ تھا، ا کا صحیح اندازہ ان راویوں سے ہوسکتا ہے جوان کے بارے میں انہوں نے ظاہر کی ہیں، مشہور محدث علی بن المدینی کہتے تھے کہ ہمارے معاصرین میں تین آدمی ایسے تھے جنہوں نے بدءشعور سے علم حدیث کی طرف توجہ کی اور اس سے زندگی بھرلپٹے رہے؛ یہاں تک کہ وہ خود مسند تحدیث پرفائز ہوگئے، ان تین آدمیوں میں سب سے پہلا نام انہوں نے یحییٰ بن سعید کا لیا۔ [6] عبدالرحمن بن مہدی جوان کے معاصر اور علم وفضل میں ان سے کم ترنہ تھے! انہوں نے اپنے مجموعۂ حدیث میں دوہزار حدیثیں یحییٰ بن سعید کی سند سے داخل کرلی تھیں جنھیں وہ ان کی زندگی ہی میں روات کرتے تھے۔ [7] ابنِ مہدی جیسے یگانۂ روزگار کا ان کی ز۔دگی ہی میں ان سے روایت کرنا بڑی اہمیت رکھتا ہے، امام نووی نے لکھا ہے کہ ابن مہدی نے ان کے واسطہ سے تیس ہزار روایتیں لکھیں، یعنی لکھی توانہوں نے تیس ہزار تھیں؛ مگرروایت صرف دوہزار کی کرتے تھے؛ اگرکسی حدیث کے تذکرہ میں یہ ذکر ملے کہ ان کوکئی لاکھ حدیثیں یاد تھیں اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اتنے ارشادات نبوی یاد تھے؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اتنی روایتیں یاسلسلہ بیان یاد تھا، ائمہ ان تمام سلسلہ سنت کواس لیے یاد کرتے تھے کہ سب کوسامنے رکھ کرکسی حدیث کے بارے میں صحیح فیصلہ کیا جاسکے، مثلاً ایک ہی حدیث کے متعدد راوی ہوتے ہیں ان میں ایک ناقص روایت کرتا ہے، دوسرا کامل، ایک مفصل روایت کرتا ہے اور دوسرا مجمل، اب دونوں کوسامنے رکھنے کے بعد فیصلہ آسان ہوتا ہے کہ کون سی روایت زیادہ صحیح اور قابل قبول ہے، روایتوں کی کثرتِ تعداد دیکھ کربعض بے سوادوں کواحادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موجودہ ذخیرہ کے بارے میں شبہ ہونے لگتا ہے کہ آخر کار اتنا بڑا ذخیرہ حدیث کہاں سے آگیا؛ مگریہ ان کی کم علمی ہے کہ وہ روایت اور حدیث میں فرق نہیں کرتے، روایت اس سلسلہ بیان کوکہتے ہیں جوراوی حدیث کے سند کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے کے لیے بیان کرتا ہے، اس لیے بسااوقات ایک ہی حدیث کے لیے متعدد سلسلۂ بیان ہوتے ہیں، اس لیے روایات کی کثرت کوحدیث کی کثرت پرقیاس کرنا غلطی ہے، یحییٰ بن سعید کویہ شرف واعزاز کچھ توان کی فطری ذہانت واستعداد کی وجہ سے ملا تھا؛ لیکن اس کا بڑا سبب خود ان کی ذاتی جدوجہد ہے، حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کوعشق تھا، اس کے حصول کے لیئے انہوں نے جومحنت اور کوشش کی اس کی مثال کم ملے گی، اوپر ذکر آچکا ہے کہ وہ صرف امام شعبہ کی خدمت میں بیس برس تک حدیث کا سماع کرتے رہے، وہ بھی کس اہتمام کے ساتھ، خود ان کی زبانی اس کی تفصیل سنیئے، فرماتے ہیں: کامل بیس برس تک میں امام شعبہ رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر رہا اور روزانہ زیادہ سے زیادہ تیرہ حدیثیں ان سے سماع کرکے لوٹتا تھا، غور کیجئے کہ ابن سعید جیسے ذہین وذکی آدمی کا روزانہ صرف تیرہ حدیثوں کا سماع کرنا بلاوجہ نہیں تھا، اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہوسکتی تھی کہ وہ جوکچھ پڑھتے تھے، اس پرپورے طور پرغوروخوض کرتے اور اس سے معافی کا استنباط کرتے تھے، محض حصولِ تبرک کے لیے وہ حدیثیں نہیں سنتے تھے؛ اسی بناء پرحافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ تمام ائمہ حدیث روایت حدیث میں ان کوحجت سمجھتے تھے، ائمہ حدیث کا یہ مقولہ ضرب المثل ہے کہ جوشخص یحییٰ بن سعید کی روایات کوچھوڑدے گا ہم اس کوچھوڑ دیں گے۔ [8]

تنقید رواۃ وروایتترميم

یحییٰ بن سعید صرف حافظِ حدیث ہی نہیں تھے؛ بلک ہان کا شمار ائمہ جرح وتعدیل میں بھی ہوتا ہے، حدیثکی روایت میں سلسلۂ سند کا بڑا اہتمام ہوتا ہے یعنی اس بات کا بڑا لحاظ کیا جاتا ہے کہ حدیث نبوی کی روایت جولوگ کررہے ہیں ان کی یادداشت کیسی ہے؟ ان کے شیوخ کون ہیں؟ ان کے اخلاق وعادات کا کیا حال ہے؟ غرض یہ کہ ایک روایت کے جتنے راوی ہوتے ہیں، ان کے بارے میں جب تک یہ باتیں نہ معلوم ہوں اس وقت تک کوئی روایت قابل اعتبار نہیں سمجھی جاسکتی، تبع تابعین کے زمانہ میں روایت وتحدیث کرنے والے بیشمار اہلِ علم تھے؛ مگرجولوگ روایت ورواۃ کے بارے میں پوری تنقید وتفتیش کرتے تھے، ان کی تعداد بہت تھوڑی تھی، یحییٰ بن سعید بھی ان ہی میں تھے، ابن منجویہ کا بیان ہے کہ: وهوالذى مهد لأهل العراق رسم الحديث، وأمعن فى البحث عن الثقاة، وترك الضعفاء۔ [9] اہلِ عراق کے لیئے حدیث کی بساط انہی نے بچھائی اور ثقہ راویوں کے قبول کرنے اور ضعیف راویوں کے ترک کردینے میں انہوں نے کافی غوروخوض اور تلاش وتفتیش کی علی بن المدینی کا جوخودوجرح وتعدیل کے اساطین میں ہیں، قول ہے کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے زیادہ علم رجال کا اور عبدالرحمن بن مہدی سے زیادہ حدیث کی خطاوصواب کا جاننے والا کسی کونہیں پایا؛ چنانچہ یہ دونوں جس راوی کوضعیف قرار دیتے ہیں اس کوترک کردیتا ہوں اور جن رواۃ سے یہ روایتیں قبول کرلیتے ہیں، میں بھی قبول کرلیتا ہوں۔ [10] خود عبدالرحمن بن مہدی بھی ان کے اس وصف کے ثناخواں تھے، ابراہیم بن محمدتیمی کا بیان ہے کہ: مَارَایت اعلم بالرجال من یحییٰ۔ [11] ترجمہ: میں نے یحییٰ سے زیادہ رواۃ حدیث کا جاننے والا نہیں دیکھا

قوتِ حافظہترميم

علم حدیث میں درک پیدا کرنے کے لیے ہزاروں حدیثوں کے الفاظ اور سینکڑوں راویوں کے حالات پرنظر رکھنی پڑتی ہے، اس لیے جب تک کوئی شخص غیرمعمولی قوتِ حافظہ کا مالک نہ ہو، فنِ حدیث میں غیرمعمولی حیثیت حاصل نہیں کرسکتا، یوں توعام ائمہ حدیث کوخدا نے اس نعمت سے نوازا تھا؛ مگربعض ائمہ اس اعتبار سے ضرب المثل تھے، ان ہی میں یحییٰ بن سعید بھی ہیں، عموماً محدثین کا دستور تھا کہ جن احادیث کودرس میں طلبہ کے سامنے بیان کرنا ہوتا تھا وہ پہلے سے لکھ لیا کرتے تھے؛ تاکہ غلطی نہ ہو؛ مگریحییٰ بن سعید کواپنے حافظہ پراتنا اعتماد تھا کہ وہ بڑی سے بڑی حدیث زبانی سنادیا کرتے تھے، ایک بار سلیمان بن اشعث نے امام احمد سے پوچھا کہ کیا یحییٰ آپ کوزبانی روایتیں سناتے تھے، فرمایا کہ ہاں! ہم نے ان کے پاس کبھی کتاب نہیں دیکھی، عام طور پروہ اپنے حافظے سے روایت کرتے تھے؛ یہاں تک کہ وہ طویل طویل روایتیں جوہم کتابوں میں لکھ لیا کرتے تھے وہ ان کوبے تکلف سنادیا کرتے تھے۔ [12] ایک بار ان کے استاذ امام ثوری نے غالباً امتحان کی غرض سے ایک روایت کا سلسلہ سند قصداً ذرامجمل بیان کیا، یحییٰ نے سنا توفوراً بولے، اس روایت میں یہ اجمال ہے، امام ثوری یہ سن کرحیران رہ گئے اور کہا کہ میں نے تمہارے جیسا فن رجال کا جاننے والا نہیں دیکھا، تم سے کوئی غلطی پوشیدہ نہیں رہتی [13]۔ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایک راوی محمد بن سالم جواپنے نام سے معروف تھے، ان کی کنیت ابوسہل اہلِ علم میں زیادہ معروف نہیں تھی، امام ثوری رحمہ اللہ نے روایت کرتے وقت نام کے بجائے ان کی کنیت کا ذکر کیا، خیال یہ تھا کہ یحییٰ کوراوی کی کنیت کا علم نہ ہوگا اور وہ اسے کوئی نئی روایت سمجھیں گے؛ لیکن امام ثوری کی یہ توقع صحیح ثابت نہیں ہوئی، یحییٰ نے سنتے ہی فرمایا کہ ابوسہل تومحمد بن سالم ہیں، اس سلسلہ میں امام احمد بن حنبل کے متعدد اقوال تذکروں میں ملتے ہیں، ایک بار انہوں نے فرمایا کہ یحییٰ بن سعید حددرجہ قوی الحافظہ اور واقعی محدث تھے، ان کا ایک قول ہے کہ میں نے یحییٰ بن سعید جیسا آدمی نہیں دیکھا، ان پرتثبت فی الحدیث ختم ہے۔ [14] اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ائمہ حدیث نے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدوین میں جتنی دیدہ ریزی ومحنت کی ہے اور راویوں کی تنقید وتوثیق میں جس قدر تلاش اور تفحص سے کام لیا ہے، اس کی نضیردنیا کی مذہبی تاریخ میں ناپید ہے؛ انہوں نے اپنے راہنما ہی کے اقوال وافعال کومدون نہیں کیا؛ بلکہ جن لوگوں نے اس کے کسی قول کوبیان کیا ہے ان کی زندی کے احوال وکوائف بھی لکھ لئے؛ تاکہ غلطی کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔

جرح وتعدیلترميم

ائمہ حدیث نے تدوین حدیث میں رواۃ کی جرح وتعدیل میں جس حزم واحتیاط سے کام لیا ہے، اس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی؛ مگرپھربھی وہ انسان تھے اس لیے ان سے بھی بعض تسامحات ہوئے ہیں اور ان پران کی دوسرے ہم عصر یابعد کے محدثین نے گرفت کی ہے؛ چنانچہ بڑے بڑے ائمہ کے تذکرہ میں جہاں ان کے محاس واوصاف کا تذکرہ ملے گا وہیں ان پرجرح وتنقید بھی ملے گی، یعنی اس بات کی تفصیل ملے گی کہ ان سے روایتِ حدیث میں کیا کیا غلطیاں ہوئی ہیں؛ اسی جرح وتنقید ہی کا یہ فیض ہے کہ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا چشمۂ صافی گدلا نہیں ہونے پایا؛ ورنہ دوسرے مذاہب کے پیشواؤں کی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بھی انسانوں میں گم ہوجاتی، اتنی احتیاط اور دیدہ ریزی کے بعد بھی اہلِ بدعت نے بہت سے افسانے گھڑکر عوام میں پھیلاہی دئے؛ یحییٰ بن سعید کے تذکرہ میں ان کے محدثانہ محاسن کی تفصیل توبہت ملتی ہے؛ مگران کی کسی مخصوص غلطی کا ذکر نہیں ملتا، صرف امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ایک قول ملتا ہے، امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ انہوں نے متعدد احادیث کے بیان کرنے میں غلطی کی ہے؟ مگرغلطی سے کون بچا ہے؟۔ [15] اس کے ساتھ یہ فرمانا کہ غلطی سے کون بچا ہے؟ بڑی اہمیت رکھتا ہے، مقصد یہ تھا کہ بڑے بڑے ائمہ سے روایت حدیث میں غلطی ہوتی ہے، اس لیے ان سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں؛ مگرامام احمد نے غلطیوں کی نشاندہی نہیں کی ہے۔

عبادت اور اخلاق وکردارترميم

یحییٰ بن سعید اپنے اخلاق وکردار اور اتقاء پرہیزگاری میں اسلام کی زندہ تصویر تھے، ان کی ہرادا سے خدا کی اطاعت وفرماں برداری کا اظہار ہوتا تھا، ان کی زندگی میں خدا کی نافرمانی کی کوئی مثال ڈھونڈھے سے نہیں ملتی، ان کے ایک شاگرد وبندار جوان کی خدمت میں بیس سال مسلسل رہے تھے، فرماتے ہیں: اختلفت إلى يحيى بن سعيد عشرين سنة فما اظن أنه عصى الله تعال۔ [16] ترجمہ:میں نے بیس برس تک ابن سعید کی خدمت میں آمدورفت رکھی، میرا گمان ہے کہ اس مدت میں کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جسے خدا کی نافرمانی کہا جاسکے امام احمد فرماتے ہیں کہ وہ کسی حالت اور کسی کام میں ہوں میں نے ان کے جیسا اادمی نہیں دیکھا، ابن معین کا بیان ہے کہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ ان کی جماعت ترک ہوئی ہو، نماز باجماعت کے حددرجہ پابند ہونے کے ساتھ نوافل کا بھی پورا اہتمام کرتے تھے، جتنی نفل نمازیں شروع کردیتے تھے، ان پرمداومت کی کوشش کرتے۔ [17] کلامِ الہٰی کی تلاوت سے خاص شغف تھا، ان کے صاحبزادے کا بیان ہے کہ عموماً دن رات میں ایک بار قرآن ختم کرلیتے تھے۔ [18]

قرآن کا اثر اور خوف آخرتترميم

لیکن وہ محض قرآن خواں نہیں تھے؛ بلکہ ان پرقرآن کا وہی اثر ہوتا تھا، جوقلب مؤمن پرہونا چاہیے؛ بلکہ بسااوقات قرآن کی زبان سے آخرت کا تذکرہ سن کروہ بے خود ہوجاتے تھے؛ ممتاز محدث علی بن المدینی کا بیان ہے کہ ایک بار ہم لوگ ان کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، حاضرین میں سے کسی سے فرمایا کہ قرآن پاک کا کوئی حصہ سناؤ اس نے سورۂ دُخان کی تلاوت شروع کی، جوں جوں وہ پڑھتا جاتا تھا ان پررقت طاری ہوتی جارہی تھی، جب وہ اس آیت: إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَاتُهُمْ أَجْمَعِينَ۔ [19] ترجمہ: میں اپنے لیے وہی پسند کرتا ہوں جواللہ عزوجل میرے لیے پسند کرتا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ مصیبت وبیماری میں گھبراہٹ اور پریشانی مؤمن کی شان نہیں ہے؛ کیونکہ بیماری ومصیبت مردِمؤمن کے لیے کفارہ سیئات ہوتی ہیں اس لیے ان کوخدا کی رحمت سمجھنی چاہیے۔

متانت وسنجیدگی اور سادگی وقناعت پسندیترميم

متانت وسنجیدگی اور سادگی وقناعت پسندی کے وہ پیکر تھے، ان کے پوتے کا بیان ہے کہ میرے دادا نہ کبھی مذاق وہنسی کرتے تھے اور نہ قہقہہ لگاکرہنستے تھے، وہ کبھی حمام میں غسل کے لیے نہیں گئے اور نہ زیبائش وآرائش کے لیے تیل وسرمہ لگانے کے عادی تھے۔ [20] ان کی اس سنجیدگی سے لوگ ناجائز فائدہ بھی اُٹھاتے تھے، ایک بار کسی پڑوسی سے کچھ بات چیت ہوگئی، پڑوسی نے ان کوبرابھلا کہنا شروع کیا، یحییٰ بن سعید اس بدزبانی کا جواب دے نہیں سکتے تھے، اس لیے رونے لگے اور فرمایا کہ اس نے سچ کہا! کہ میں کون ہوں اور کیا ہوں، غالباً اس نے ان کے غلام ہونے پرکچھ تعریض کی ہوگی، اس وقت کے علماء اپنے غیرمعمولی فضل وکمال کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی طرح نہایت سادہ وضع میں رہتے تھے، سادگی کی وجہ سے عام آدمیوں کوان کے فضل وکمال کا علم بھی نہیں ہوپاتا تھا، ابن عماد کا بیان ہے کہ یحییٰ بن سعید بالکل معمولی آدمی معلوم ہوتے تھے؛ مگرجب حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا درس دینے لگتے تھے توبڑے بڑے فقہا کوزبان کھولنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ [21] سادگی لباس ہی تک محدود نہیں تھی بلکہ کھانے پینے میں بھی طبیعت نہایت سادہ اور قناعت پسند واقع ہوئی تھی، جوکچھ مل جاتا صبروشکر کے ساتھ خود کھاتے اور بال بچوں کوکھلاتے، ابن ابی صفوان کا بیان ہے کہ ان کا آذوقۂ حیات صرف غلہ تھا، کبھی جوآگیا توجوکھالیا، گیہوں آگیا توشکر بھیج کراس کوکھالیا، کھجوریں آگئیں تواس سے سدرمق کرلیا۔ [22] غرض کھانے پینے اور لباس میں نہ توعیش وتنعم سے کام لیتے تھے اور نہ اس کے لیے بہت زیادہ جدوجہد اور پریشانی کوپسند کرتے تھے، ان کے نام کا ایک جز قطان ہے، اس کے بارے میں سمعانی نے لکھا ہے کہ یہ قطن (ردہوئی) کی طرف نسبت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہاں روئی کا کاروبار ہوتا تھا۔

فن رجالترميم

فن رجال کا سلسلہ ان ہی سے شروع ہوا۔ علامہ ذہبی نے لکھا ہے کہ فن رجال میں اول جس شخص نے لکھا وہ یحی بن سعید القطان ہیں۔ امام احمد بن حنبل کا قول ہے "میں نے اپنی آنکھوں سے یحیٰ کا مثل نہیں دیکھا۔"

حدیث سے شغفترميم

حدیث کے امام حافظ،ثقہ،متقن،قدوہ تھے۔ امام مالک وابن عینیہ اور شعبہ کے معاصرین میں سے ہیں امام ابو حنیفہ کے قول پر فتوی دیتے تے اور آپ سے امام احمد و ابن المدینی اور ابن معین نے روایت کی، بیس سال تک ہر روز قرآن شریف کا ختم کرتے رہے اور چالیس سال تک آپ سے مسجد میں زوال فوت نہ ہوا۔ آپ کا دستور تھا کہ بعد نماز عصر کے آپ منارۂ مسجد میں تکیہ لگا کر بیٹھ جاتے اور آپ کے روبرو امام احمد وابن مدینی اور ابن خالد کھڑے ہو کر حدیث پوچھتے اور مغرب تک کسی کو نہ کہتے کہ بیٹھ جاؤ اور نہ آپ کی ہبیت و جلال سے کوئی بیٹھ سکتا تھا،۔ آپ سے صحاح ستہ والوں نے تخریج کی

امام ابو حنیفہ کے شاگردترميم

اس فضل و کمال کے باوجود امام ابو حنیفہ کے حلقۂ درس میں اکثر شریک ہوتے اور ان کی شاگردی پر فخر کرتے تھے۔ علامہ ذہبی نے لکھا ہے کہ یحیٰ بن سعید القطان اکثر امام ابو حنیفہ کے قول پر ہی فتوی دیا کرتے تھے۔ ۔

وفاتترميم

اٹھتر سال کی عمر میں 198ھ میں بمقام بصرہ وفات پائی۔[23]

اولادترميم

اُن کی نرینہ اولاد میں محمدبن یحییٰ کا نام تذکروں میں ملتا ہے، یہ بھی صاحب علم وفضل تھے، محمد کے ایک صاحبزادے احمد کا تذکرہ بھی رواۃ حدیث کے سلسلہ میں ملتا ہے؛ انہوں نے اپنے دادا سے بھی استفادہ کیا تھا

حوالہ جاتترميم

  1. (تہذیب الاسماء:۲/۱۵۴)
  2. (تہذیب التہذیب:۱۱/۲۱۶)
  3. (تاریخ بغداد:۱۴/۱۳۹)
  4. (تہذیب التہذیب:۱۱/۲۲۰)
  5. (تہذیب التہذیب:۱۱/۲۰۰)
  6. (تاریخ بغداد:۱۱/۱۳۷)
  7. (تاریخ بغداد:۱۱/۱۳۷)
  8. (تہذیب الاسماء:۲/۵۵)
  9. (تہذیب الاسماء:۱/۷۱۵، شاملہ،مصدر الكتاب: ملف وورد أهداه بعض الأخوة للبرنامج۔ دیگرمطبوعہ:۲/۵۵)
  10. (تہذیب الاسماء:۲/۵۵)
  11. (تہذیب الاسماء:۲/۵۵)
  12. (تہذیب الاسماء:۲/۵۵)
  13. (یہ اقوال تہذیب التہذیب میں ملیں گے)
  14. (تہذیب الأسماء)
  15. (تاریخ بغداد:۱۴/۱۱۰)
  16. (تہذیب التہذیب:۱۱/۱۹۲، شاملہ، المؤلف: ابن حجر العسقلاني، موقع يعسوب۔ دیگرمطبوعہ:۱۱/۲۱۹)
  17. (تہذیب الاسماء:۲/۱۵۴)
  18. (تاریخ بغداد)
  19. (الدخان:۴۰)
  20. (تاریخ بغداد)
  21. (تاریخِ بغداد:۱۱/۱۷۰)
  22. (تاریخ بغداد:۱۴/۱۴۰)
  23. موسوعہ فقہیہ ،جلد28 صفحہ 341، وزارت اوقاف کویت، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا