2015ء میں بھارت میں عدم رواداری کے خلاف ساہتیہ اکیڈمی انعامات لوٹانے والی شخصیات کی فہرست

2015ء میں بھارت میں رونما ہونے والے عدم رواداری کے واقعات کے خلاف تقریبًا کئی زبانوں کے ادیبوں نے انہیں حاصل ساہتیہ اکیڈمی انعام اعزازات لوٹا دیے، ان کی فہرست اس طرح ہے :[1]

2015ء میں بھارت میں عدم رواداری کے خلاف ساہتیہ اکیڈمی انعامات لوٹانے والی شخصیات کی فہرستترميم

ادیب کا نام زبان
ادے پرکاش ہندی
نین تارا سہگل انگریزی
اشوک واجپیئ ہندی
سارہ جوزف ملیالم
غلام نبی خیال کشمیری
رحمان عباس اردو
واریم سندھو پنجابی
گربچن سنگھ بھلر پنجابی
اجمیر سنگھ اولاکھ پنجابی
آتم جیت سنگھ پنجابی
جی این رنگناتھ راؤ کنڑا
منگلیش ڈبرال ہندی
راجیش جوشی ہندی
گنیش دیوی گجراتی
ڈی این سری ناتھ کنڑا
کومبر ویربھدرپا کنڑا
رحمت تایخیرے کنڑا
بلدیو سنگھ صدقنامہ پنجابی
جسویندر پنجابی
سرجیت پاتر پنجابی
چمن لال پنجابی
کاشی ناتھ سنگھ ہندی
ہومین بورگوہائن آسامی
منڈکرانتا سین بنگالی
کیکی این دارووالا انگریزی
نند بھردواج ہندی
منور رانا اردو
کرشنا سوبتی ہندی
موہن بھنڈاری پنجابی
مرغوب بانیہالی کشمیری
امبیکا دت ہندی
نیروپما بورگھائن آسامی
کے کٹیایانی ویدھ ماہے تیلگو
بھوپل ریڈی تیلگو

2015ء میں بھارت میں عدم رواداری کے خلاف ساہتیہ اکیڈمی میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے ادیبترميم

حسب ذیل ادیبوں نے ملک میں عدم رواداری کے خلاف ساہتیہ اکیڈمی میں اپنے عہدوں سے استعفٰی دے دیا:[2]

ادیب کا نام زبان
ششی دیش پانڈے کنڑا
کے ست چیدانندن ملیالم
پی کے پراکڑوو ملیالم
اروند ملگٹی کنڑا

ساہتیہ اکیڈمی انعامات کی واپسی کو 400 سے زائد فنکاروں کی تائیدترميم

انجلی ایلا مینن اور سبودھ گپتا کی سرکردگی میں 400 سے زائد فنکاروں کی تائید نے ایک دستخط شدہ بیان جاری کر کے ساہتیہ اکیڈمی کے انعامات واپس لوٹانے والے ادیبوں کی ستائش کی۔[3]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم