چاندی ایک دھاتی عنصر ہے جس کا ایٹمی نمبر 47 ہے۔
قدرتی طور پر اگرچہ سونا آزاد حالت میں پایا جاتا ہے مگر چاندی مرکب حالت میں ملتی ہے۔

47 کیڈمیئمچاندی پلاڈیئم
Cu

Ag

Au
عمومی خواص
نام، عدد، علامت Ag ،47 ،چاندی
کیمیائی سلسلے transition metals
گروہ، دور، خانہ 11، 5، d
اظہار تابدار سفید دھات
جوہری کمیت 107.8682 (2)گ / مول
برقیہ ترتیب [Kr] 4d10 5s1
برقیے فی غلاف 2, 8, 18, 18, 1
طبیعیاتی خواص
رنگ silver
حالت ٹھوس
کثافت (نزدیک د۔ ک۔) 10.49 گ / مک سم
مائع کثافت ن۔پ۔ پر 9.320 گ / مک سم
نقطۂ پگھلاؤ 1234.93 ک
(961.78 س، 1763.2 ف)
نقطۂ ابال 2435 ک
(2162 س، 3924 ف)
حرارت ائتلاف 11.28 کلوجول/مول
حرارت تبخیر 258 کلوجول/مول
حرارت گنجائش (25 س) 25.350 جول/مول/کیلون
بخاری دباؤ
P / Pa 1 10 100 1 k 10 k 100 k
T / K پر 1283 1413 1575 1782 2055 2433
جوہری خواص
قلمی ساخت face-centered cubic
تکسیدی حالتیں 1
(amphoteric oxide)
برقی منفیت 1.93 (پالنگ پیمانہ)
آئنسازی توانائیاں اول: 731.0 کلوجول/مول
دوئم: 2070 کلوجول/مول
سوئم: 3361 کلوجول/مول
نصف قطر 160 پیکومیٹر
نصف قطر (پیمائش) 165 پیکومیٹر
ہمظرفی 153 پیکومیٹر
وانڈروال نصف قطر 172 پیکومیٹر
متفرقات
مقناطیسی ترتیب diamagnetic
برقی مزاحمیت (20 س) 15.87 n Ω·m
حر ایصالیت (300 ک) 429 و / م / ک
حراری نفوذیت (300 ک) 174مک مم / سیکنڈ
حرپھیلاؤ (25 س) 18.9 µm / م / ک
رفتار آواز (باریک سلاخ) (د۔ک۔) 2680 م/سیکنڈ
ینگ معامل 83 گیگاپاسکل
معامل قص 30 گیگاپاسکل
معامل حجم 100 گیگاپاسکل
پوئسون نسبت 0.37
موس سختی 2.5
ویکیر سختی 251 میگاپاسکل
برینل سختی 24.5 میگاپاسکل
سی اے ایس عدد 7440-22-4
منتخب ہم جاء
مقالۂ رئیسہ: چاندی کے ہم جاء
ہم جاء کثرت نصف حیات تنزل ا تنزل ت (ب ولٹ) تنزل پ
105Ag syn 41.2 d ε - 105Pd
γ 0.344, 0.280,
0.644, 0.443
-
106mAg syn زیپٹو سیکنڈ ε - 106Pd
γ 0.511, 0.717,
1.045, 0.450
-
107Ag 51.839% 60 تعدیلوں کیساتھ Ag مستحکم ہے
108mAg syn 418 y ε - 108Pd
IT 0.109 108Ag
γ 0.433, 0.614,
0.722
-
109Ag 48.161% 62 تعدیلوں کیساتھ Ag مستحکم ہے
111Ag syn زیپٹو سیکنڈ β- 1.036, 0.694 111Cd
γ 0.342 -
حوالہ جات


خالص چاندی کا بسکٹ جس کا وزن آدھا کلو ہے۔

چاندی کی تاریخ

چاندی کی کان کنی کوئی 5000 سال قبل اناطولیہ (موجودہ ترکی) میں شروع ہوئی اور جلد ہی یہ آس پاس کے علاقوں (یونان، کریٹ، مشرق قریب) میں تجارت کے لیے بطور کرنسی استعمال ہونے لگی۔ شروع شروع میں چاندی کے خام ڈلے استعمال ہوئے جن پر بعد میں مہر لگا کر سکے بنائے گئے۔
3200 سال قبل یونان کی Laurium کی کانوں سے چاندی کی کثیر مقدار برآمد ہونے لگی جس سے یونان کے اقتدار میں بڑا اضافہ ہوا اور سکندر اعظم ایک عظیم فوج تشکیل دے سکا۔ سکندر اعظم کو روزانہ 500 کلو گرام چاندی فوج پر خرچ کرنی پڑتی تھی۔[1]
1900 سال قبل ہسپانیہ (اسپین) چاندی کی پیداوار کا بڑا مرکز بن گیا۔ یہاں کی چاندی استعمال کرتے ہوئے رومیوں نے اپنا اقتدار وسیع کیا۔ ایشیا سے تجارت اور مصالحوں کی درآمد کے لیے چاندی ہی استعمال کی جاتی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق دوسری صدی عیسوی میں روم کی معیشت میں دس ہزار ٹن یعنی 86 کروڑ تولے چاندی موجود تھی۔ رومی حکومت کے مالیاتی اہلکار اس بات سے پریشان ہوتے تھے کہ چین سے ریشمی کپڑے کی درآمد کی وجہ سے ان کے ملک کی چاندی کم ہوتی جا رہی ہے۔
سن 750 سے 1200 تک چاندی کی کان کنی وسطی یورپ تک پھیل گئی اور جرمنی اور مشرقی یورپ میں چاندی کی کئی کانیں دریافت ہوئیں۔ سن 1500 تک کانکنی اور کچ دھات سے خالص چاندی حاصل کرنے کی ٹیکنالوجی میں خاصہ اضافہ ہوا۔
1492 میں کولمبس نے امریکا دریافت کیا اور اس کے بعد وہاں چاندی کی بے شمار کانیں دریافت ہوئیں۔ 1500 سے 1800 تک بولیویا، پیرو اور میکسیکو دنیا بھر کی چاندی کی پیداوار کا 85 فی صد مہیا کرتے تھے۔
اس کے بعد دوسرے ممالک میں بھی چاندی کی پیداوار بڑھتی چلی گئی۔ شمالی امریکا کی نیویڈا کی کان Comstock Lode ایک بڑی دریافت تھی۔ 1870 تک چاندی کی سالانہ پیداوار 40 ملین سے بڑھ کر 80 ملین اونس تک جا پہنچی تھی۔
1876 سے 1920 تک کا عرصہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس دوران ٹیکنالوجی میں بے شمار ایجادیں ہوئیں اور نئے علاقوں کی چھان پھٹک کی گئی۔ سن 1800 سے 1875 تک اوسط سالانہ پیداوار 30 ملین اونس تھی لیکن 1900 تک یہ چار گنا بڑھ کر 120 ملین اونس سالانہ تک پہنچ چکی تھی۔

1900 سے 1920 کے درمیان آسٹریلیا سنٹرل امریکا، کینیڈا، افریقا، جاپان، چلی اور یورپ میں مزید کانیں دریافت ہوئیں اور اس طرح اس کی پیداوار 190 ملین اونس سالانہ تک جا پہنچی۔

آج چاندی کی سالانہ پیداوار 671 ملین اونس ہے یعنی 20.8 ہزار ٹن سالانہ ہے۔ اس طرح چاندی سونے سے لگ بھگ سات گنا زیادہ فراواں ہے لیکن قیمت میں سونے سے لگ بھگ 55 گنا سستی ہے۔ (بسمتھ سونے سے صرف دو گنا زیادہ فراواں ہے لیکن سونے سے دو گنا کی بجائے 100 گنا سستا ہے۔[2])

چونکہ ہندوستان میں چاندی کی پیداوار بہت کم تھی اور ہندوستان تجارت کے لیے چاندی پر بہت زیادہ انحصار رکھتا تھا اس لیے انیسویں صدی میں دوسرے ممالک میں چاندی کی پیداوار بڑھنے پر ہندوستان نسبتاً نقصان میں رہا۔ اس کے برعکس انگلستان بہت فائدے میں رہا کیونکہ چاندی کی نئی کانوں والے بیشتر علاقے اس کے زیر اثر تھے۔

چین میں بھی تجارت کے لیے چاندی کا صدیوں سے استعمال ہوتا رہا تھا۔ لیکن چین سے تجارت کرنے والے ممالک کا مسئلہ یہ ہوتا تھا کہ چین اپنی ضرورت کی ہر چیز خود بنا لیتا تھا اور اسے چاندی کے علاوہ کسی چیز کی درآمد کی ضرورت نہیں تھی۔ تجارت کو متوازن رکھنے کے لیے (یعنی چین سے اپنی چاندی واپس لینے کے لیے) انھیں چین کو کچھ نہ کچھ فروخت کرنا ضروری تھا۔ انیسویں صدی میں مملکت برطانیہ نے جو چین سے چائے، ریشم اور پورسلین کے برتن امپورٹ کرتی تھی چاندی میں ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا اور 1839 اور 1856 میں چین پر جنگ افیون مسلط کر دی۔ چین کی اس جنگ میں شکست کے بعد جنگ بندی کے معاہدے میں یہ شرط شامل تھی کہ برطانوی تاجروں کو چین میں افیم بیچ کر چاندی کمانے کی اجازت ہو گی۔[3] یہ افیم برطانوی ہندوستان میں کاشت کی جاتی تھی۔ 1858 میں ان برطانوی تاجروں نے چین میں 4500 ٹن افیم بیچی۔[4]

چاندی کی پیداوار

لگ بھگ پچھلے 500 سالوں میں دنیا بھر میں 15 لاکھ ٹن چاندی کانوں سے نکالی گئی۔ اس کا 60 فیصد پچھلے 70 سالوں میں نکالا گیا۔[5]

دہائی دنیا بھر کی سالانہ پیداوار
ملین اونس میں
1840 25
1860 40
1870 70
1880 100
1890 160

2013ء سے 2019ء کے سات سالوں میں انڈیا نے اوسطاً ہر سال 6278 ٹن (200 ملین اونس) چاندی خریدی۔[6]

انڈیا کی سالانہ چاندی کی امپورٹ (ٹنوں میں)[7]
سال چاندی کی درآمد
1999
2,369
2000
3,407
2001
3,404
2002
2,561
2003
2,496
2004
1,746
2005
3,276
2006
317
2007
2,703
2008
5,429
2009
1,264
2010
2,588
2011
4,633
2012
2,120
2013
6,132
2014
7,083
2015
8,506
2016
3,546
2017
5,398
2018
7,654
2019
5,630

چاندی کی قیمتیں

سال چاندی کی سالانہ اوسط قیمت[8])
US$/ozt
سونے کی سالانہ اوسط قیمت[9])
US$/ozt
چاندی کے مقابلے سونے کی قیمت
ratio
بازیاب شدہ چاندی کے عالمی ذخائر۔ ٹن میں[10]
1840 1.29 20 15.5 N/A
1900 0.64 20 31.9 N/A
1920 0.65 20 31.6 N/A
1940 0.34 33 97.3 N/A
1960 0.91 35 38.6 N/A
1970 1.63 35 22.0 N/A
1980 16.39 612 37.4 N/A
1990 4.06 383 94.3 N/A
2000 4.95 279 56.4 420,000
2005 7.31 444 60.8 570,000
2009 14.67 972 66.3 400,000
2010 20.19 1,225 60.7 510,000
2011 35.12 1,572 44.7 530,000
2012 31.15 1,669 53.6 540,000

چاندی کی چند مشہور اقسام

فائل:Canadian Silver Maple Leaf coin 1 oz reverse.png
خالص چاندی کا بناکینیڈین میپل لیف سکہ۔ اس کا وزن ایک اونس یعنی 31.1 گرام ہے۔
  • الٹرا فائن %99.99 خالص۔ چاندی کے بسکٹ (پانسا) اور سکے جیسے کینیڈین میپل لیف (Canadian Maple Leaf)
  • خالص چاندی یا فائن سلور %99.9 خالص۔ بسکٹ بنانے اور چاندی کی ملمع کاری میں استعمال ہوتی ہے۔
  • بریٹانیہ سلور (Britannia Silver)۔ %95.8 خالص
  • اسٹرلنگ سلور %92.5 خالص (یعنی 22.2 قیراط)۔ پاونڈ اسٹرلنگ سے مراد اسی چاندی کی ایک پاؤنڈ مقدار تھی۔[11] ایک پاؤنڈ 38.88 تولے کے برابر وزن ہوتا ہے۔
  • میکسیکن سلور %92.5 خالص
  • چاندی کے امریکی سکے %90 خالص
  • چاندی کے اسکینڈے نیویا کے سکے %83 خالص
  • جرمن سلور %80 خالص۔ نقلی جرمن سلور میں چاندی کی بجائے 75% تانبہ اور 25% نکل ہوتا ہے جیسے 5 سینٹ کا امریکی سکہ جو نکل کہلاتا ہے۔[12]
  • مصر کی چاندی %80 خالص

نقطہ پگھلاؤ

خالص چاندی 961 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھلتی ہے جو سونے کے نقطہ پگھلاؤ سے لگ بھگ سو درجہ کم ہے۔
اسٹرلنگ چاندی یعنی 92.5 فیصد چاندی اور 7.5 فیصد تانبے کا بھرت صرف 893 ڈگری سینٹی گریڈ پر پگھل جاتا ہے جو خالص چاندی یا خالص تانبے کے نقطہ پگھلاؤ (1083) سے کم ہوتا ہے۔
22 قیراط کے چاندی کے سکے 879 ڈگری سینٹی گریڈ پرپگھل جاتے ہیں۔[13]

ہوا کا اثر

چاندی ہوا کی آکسیجن سے عمل نہیں کرتی یعنی اسے زنگ نہیں لگتا۔ نمی اور اوزون کی موجودگی میں چاندی کو ہلکا سا زنگ لگ سکتا ہے۔ چاندی گندھک (سلفر) سے بڑی جلدی عمل کرتی ہے جس کی وجہ سے اس پر کالے دھبے پڑ جاتے ہیں۔ ہوا میں موجود ہائیڈروجن سلفائیڈ کی وجہ سے چاندی کے برتن اور زیورات آہستہ آہستہ کالے پڑ جاتے ہیں۔ اگر چاندی کے چمچ سے انڈا پھینٹا جائے تو چمچ کالا ہو جاتا ہے کیونکہ انڈے میں بھی گندھک موجود ہوتی ہے۔
پگھلی ہوئی حالت میں چاندی اپنے حجم کا 22 گنا آکسیجن جذب کر لیتی ہے جو ٹھنڈا ہونے پر خارج ہو جاتی ہے۔ اس عمل کو spitting of silver کہتے ہیں۔[14] صرف آکسیجن ایک ایسی گیس ہے جو چاندی کے ورق کے آر پار گذر سکتی ہے۔ سونے میں یہ خاصیت بالکل نہیں ہوتی۔

خریداری کا رجحان

امریکا کی ٹکسال 1986 سے سونے اور چاندی کے سکے بنا کر مارکیٹ کی قیمت پر بیچ رہی ہے۔2008 کے مالی بحران کے بعد چاندی کے ان سکوں کی اوسط سالانہ فروخت میں 500 فیصد (یعنی 5 گنا) اضافہ ہو گیا ہے جبکہ سونے کے سکوں کی فروخت میں صرف 50 فیصد (ڈیڑھ گنا) اضافہ ہوا ہے۔[15]
کینیڈا میں بھی2008 کے بعد چاندی کے سکوں کی فروخت چار گنا بڑھ گئی ہے۔[16]

مغربی ممالک میں ایسے ادارے عام ہیں جو چاندی کے خریدار کو حقیقی چاندی کی بجائے محض کاغذی رسید دیتے ہیں جسے کاغذی چاندی کہا جاتا ہے۔ اس طرح چاندی کا ایک ہی ٹکڑا کئی کئی گاہکوں کو بیچا جا سکتا ہے۔ ہر گاہک کے پاس چاندی کی بجائے چاندی کے کلیم کی رسید ہوتی ہے۔ مئی 2017ء کے ایک اندازے کے مطابق اس طرح چاندی پر لیوریج 517 گنا ہو چکا ہے جبکہ سونے پر لیوریج 233 گنا ہے۔[17]

چاندی کی بڑی فروخت

ماضی میں کچھ مواقع ایسے بھی آئے جب چاندی کی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت ہوئی۔

  • 1871 سے 1873 کے درمیان فرانس نے 30 کروڑ فرانک کی چاندی خریدی تاکہ جرمنی کو تاوان جنگ ادا کر سکے۔[18]
  • 1903 میں چین کو بوکسر کی جنگ کی شکست کا تاوان بھرنے کے لیے بڑی مقدار میں چاندی خریدنی پڑی۔
  • 1907 کی افراتفری (panic) میں چاندی کی قیمت بڑھ گئی۔
  • 1918 میں ہندوستان کی برطانوی حکومت نے 9330 ٹن (30 کروڑ اونس یا 80 کروڑ تولے) چاندی خریدی اور روپے کے مزید سکے جاری کیے۔
  • 1919 میں چین نے دوبارہ بڑی مقدار میں چاندی خریدی۔
  • 1921 میں امریکا نے 6250 ٹن چاندی خریدی۔
  • 1932 میں ہندوستان نے بڑی مقدار میں چاندی بیچی۔
  • 19 اپریل 1933 کو امریکا نے گولڈ اسٹینڈرڈ ترک کر دیا جس سے چاندی کی مانگ میں اچانک اضافہ ہوا۔
  • 1934 میں امریکا میں سلور پرچیز ایکٹ نافذ ہوا۔ گھریلو چاندی بحساب نصف ڈالر فی اونس ضبط کر لی گئیِ۔ 1938 تک امریکا نے کاغذی سلور سرٹیفیکٹ چھاپ چھاپ کر 40000 ٹن چاندی کا ذخیرہ بنا لیا۔[19]
  • نومبر 1935 میں چین کو سلور اسٹینڈرڈ ترک کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔
  • دس جولائی 1939 کو امریکا نے چاندی کی قیمت کا کنٹرول سنبھال لیا۔
  • 1945 میں چاندی کی قیمت بڑھانا پڑ گئی۔
  • 24 جون 1968ء کو امریکا اپنے سلور سرٹیفیکٹ کے بدلے چاندی دینے کے وعدے سے مُکر گیا۔
  • 15 اگست 1971 کو امریکا اپنے گولڈ اسٹینڈرڈ کے وعدے سے بھی مکر گیا۔
  • 18 دسمبر 1971 کو ڈالر کی قیمت گرانی پڑ گئی یعنی سونے چاندی کی قیمت بڑھانی پڑی۔
  • 10 گست 1972 کو چاندی کی زیادہ سے زیادہ قیمت کی حد ختم کرنی پڑی۔
  • جنوری 1980 میں چاندی کی قیمت 48 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی۔[20]

اقتباس

  • 1888ء میں کسی مصنف نے لکھا کہ
"چاندی کی قیمت کا انحصار ان کونسل بل پر تھا۔ جب بھی بینک آف انگلینڈ چاندی کی قیمت گرانا چاہتا تھا تو وہ کونسل بل کی قیمت گرا دیتا تھا۔ اگر کوئی اور چاندی ہندوستان بھیجنے کی کوشش کرتا تھا تو بینک آف انگلینڈ کونسل بل کی قیمت بڑھا دیتا تھا جس کی وجہ سے چاندی ہندوستان کی نسبت لندن میں زیادہ مہنگی ہو جاتی تھی۔ بہت سارے لوگوں نے چاندی ایشیا بھیجنے کی کوشش کری اور ناکام رہے اور آخر کار اپنے ارادوں سے دست بردار ہو گئے کیونکہ بینک آف انگلینڈ سے مقابلہ کرنا ممکن نہ تھا۔

[21]

مزید دیکھیے

بیرونی ربط

حوالہ جات

  1. [1][مردہ ربط]
  2. Uses, Cost, and Facts - Bismuth
  3. British Colonialism Laid The Ground For The Crises In Hong Kong & Kashmir
  4. First Opium War - Wikipedia
  5. WORLD SILVER PRODUCTION: 3 Charts You Won’t See Anywhere Else
  6. Dear Governments, Spend as Much as You Can by jhanders
  7. Indian Gold and Silver Import Charts/
  8. "London Fix Historical Silver"۔ 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 04 مارچ 2013 
  9. "London Fix Historical Gold"۔ 09 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 04 مارچ 2013 
  10. "Silver Statistics and Information"۔ USGS۔ 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 04 مارچ 2013 
  11. "آرکائیو کاپی"۔ 14 نومبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 نومبر 2021 
  12. German Silver or Nickel Silver
  13. Kitco
  14. Britannica
  15. "SILVER EAGLES vs GOLD EAGLES"۔ 09 مئی 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 09 جولا‎ئی 2015 
  16. "Canadian Silver Maple Leaf Sales Hit New Record"۔ 12 جون 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 09 جولا‎ئی 2015 
  17. PAPER vs. PHYSICAL: The Amazing Amount Of Leverage In The Silver Market
  18. Full text of "The French Indemnity of 1871 and its Effects"
  19. Encyclopedia of Money By Larry Allen
  20. "آرکائیو کاپی"۔ 14 نومبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 نومبر 2021 
  21. "William M. Stewart, 1888"۔ 24 اکتوبر 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 مارچ 2017