آشا پوسلے (اصل نام: صابرہ بیگم) پاکستانی فلموں کی پہلی ہیروئن ہیں۔[2][3] 1927ء میں برطانوی ہندوستان کے صوبے پنجاب (پٹیالہ) میں پیدا ہوئیں۔ [4][5][6] [2]

آشا پوسلے
Asha Posley in the film Papiha Re.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1927  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پٹیالہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 25 مارچ 1998 (70–71 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ادکارہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

زندگی اور فلمی سفرترميم

پاکستان کے ابتدائی دور کی فلموں کی ہیروئن تھیں لیکن زیادہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ آشا پوسلے موسیقار عنایت علی ناتھ کی بیٹی تھی اور معروف فلمی پس پردہ گلوکارہ کوثر پروین کی بہن تھیں، ان کی ایک اور بہن رانی کرن تھیں۔ انہوں نے لاہور میں بننے والی پنجابی فلم گوانڈی (1944ء) میں بطور معاون اداکارہ کی حیثیت سے آغاز کیا ، اس کے بعد برطانوی ہندوستان میں فلمائی جانے والی ہندی فلم چمپا (1945ء) میں مرکزی کردار ادا کیا۔ معروف موسیقار غلام حیدر نے انہیں پیشہ ورانہ نام آشا پوسلی دیا تھا۔ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد ، وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئے ملک پاکستان میں ہجرت کر گئیں۔ [2][7] [8]

تقسیم ہند کے بعد فلمی سفرترميم

تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان ہجرت کر گئیں جہاں انہیں پاکستان کی پہلی فلمی ہیرؤئن بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ وہ 1948ء میں پاکستان کی پہلی ریلیز ہونے والی فلم "تیری یاد" کی ہیروئین تھیں جس کی ہدایتکاری کے فرائض داؤد چاند اور رام لعل نے انجام دیے۔ یہ فلم 7 اگست 1948ء کو لاہور کے پربت تھیٹر میں نمائش کے لیے پیش ہوئی، اس میں آشا پوسلے کے ساتھ ناصر خاں (دلیپ کمار کے بھائی) بھی شامل تھے جو تقسیم ہند کے بعد ممبئی میں ہی مقیم رہے۔ وہ مرکزی کرداروں میں کامیاب نہیں تھیں اور صرف فلموں میں پہلی ہیروئین کے طور پر نظر آئیں۔ اس فہرست میں پھرے (1949ء) ، شعلہ (1952ء) اور سدھیر کی پہلی پنجابی فلم بلبل (1955ء) شامل تھیں۔ انھیں ضمنی کرداروں میں شہرت ملی ، خاص طور پر پتن میں نذر (1955ء) کے ساتھ اور دلا بھٹی (1956ء) اور شیخ چلی (1958ء) میں آصف جاہ کے ساتھ مزاحیہ کرداروں میں۔ وہ سسئی (1954ء) ، عشقِ لیلیٰ اور انتظار اور گڈی گڈا (1956ء) وغیرہ جیسی فلموں میں ویمپ یا سائڈ ہیروئن تھیں۔ 1950 کی دہائی کے بعد ، وہ زیادہ تر معاون کردار میں نظر آئیں۔ ما ں کے آنسو (1963ء) ، مرزا جٹ (1967) ، مستانہ ماہی اور انصاف اور قانون (1971ء) وغیرہ کچھ دوسری مشہور فلمیں تھیں۔ تین دہائیوں پر مشتمل کیریئر کے دوران انہوں نے 129 کے قریب فلموں میں کام کیا۔ [9]

ایوارڈترميم

آشا پوسلے کو 1982ء میں ان کی تیس سالہ کارکردگی پر نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔

وفاتترميم

آشا پوسلے 26 مارچ 1998ء کو لاہور، پاکستان میں انتقال کر گئیں۔[2][10] [8]

حوالہ جاتترميم

  1. انٹرنیٹ مووی ڈیٹابیس آئی ڈی: https://wikidata-externalid-url.toolforge.org/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0692695 — اخذ شدہ بتاریخ: 23 نومبر 2019
  2. ^ ا ب پ ت Profile of Asha Posley on Cineplot.com website Published 13 September 2009, Retrieved 12 May 2020
  3. "Kausar Parveen — a phenomenal singer who died young". Daily Times (newspaper) (بزبان انگریزی). 2018-07-06. اخذ شدہ بتاریخ 12 مئی 2020. 
  4. "70 years of Pakistan's film industry". www.geo.tv (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 12 مئی 2020. 
  5. "Pakistani Cinema Had Its Own Way of Looking at Partition Too". The Wire. اخذ شدہ بتاریخ 12 مئی 2020. 
  6. Bali، Karan. "67 years ago today, Pakistanis lined up to see the first film made in their new nation". Scroll.in (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 12 مئی 2020. 
  7. "Kausar Parveen — a phenomenal singer who died young". Daily Times (newspaper) (بزبان انگریزی). 2018-07-06. اخذ شدہ بتاریخ 12 مئی 2020. 
  8. ^ ا ب Asha Posley's Profile on pakmag.net website آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ pakmag.net (Error: unknown archive URL) Retrieved 12 May 2020
  9. Asha Posley Filmography on Complete Index To World Film (CITWF) website Retrieved 12 May 2020
  10. "Kausar Parveen — a phenomenal singer who died young". Daily Times (newspaper) (بزبان انگریزی). 2018-07-06. اخذ شدہ بتاریخ 12 مئی 2020.