مرکزی مینیو کھولیں

ویکیپیڈیا میں خوش آمدید


منتخب مضمون


Israëls-A Jewish Wedding-1903.jpg

یہودیت میں شادی کو مرد و عورت کے درمیان کا ایک ایسا بندھن تصور کیا جاتا ہے جس میں خدا بذات خود شامل ہے۔ گوکہ ان کے یہاں شادی کا واحد مقصد افزائش نسل نہیں ہے لیکن اس عمل کو افزائش نسل کے ربانی حکم کے پورا کرنے کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر جب مرد و عورت شادی کے رشتے میں منسلک ہوتے ہیں تو انہیں یک جان دو قالب سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی یہودی مرد شادی نہ کرے تو تلمود کی نگاہ میں وہ ایک ”نامکمل“ مرد ہے۔

یہودیت کے ازدواجی نظام پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہاں عورت کا مقام نہایت پست ہے اور اس کی وجہ یہ نظریہ ہے کہ حوا نے آدم کو ممنوعہ پھل کھانے پر اکسایا اور اسی وجہ سے وہ جنت سے نکالے گئے۔ اور اسی بنا پر عورت کو مرد کی غلامی، حیض جیسی ناپاکی اور حمل کے درد کی سزا ملی۔ بائبل میں ہے:

مَیں تیرے دردِ حمل کو بہت بڑھاؤں گا۔ تُو درد کے ساتھ بچّے جنے گی اور تیری رغبت اپنے شَوہر کی طرف ہوگی اور وہ تُجھ پر حُکومت کرے گا۔

”تمدن عرب“ میں یہودی معاشرہ میں عورت کی حیثیت ان سخت الفاظ میں بیان کی گئی ہے:

”گھوڑا اچھا ہو یا برا اسے مہمیز کی ضرورت ہے اور عورت اچھی ہو یا بری اسے مار کی ضرورت ہے۔

یہودیت میں عورت کی شادی خاوند کی خدمت اور اولاد پیدا کرنے کے لیے ہے۔ اگر کسی کے یہاں کئی سال تک اولاد نہ ہو تو وہ بلا جھجک دوسری شادی کر سکتا ہے اور اس کام کے لیے اسے اپنی بیوی سے کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ بائبل میں ہے:

”بِیوِیاں کرو تاکہ تُم سے بیٹے بیٹِیاں پَیدا ہوں اور اپنے بیٹوں کے لِیے بِیوِیاں لو اور اپنی بیٹِیاں شَوہروں کو دو تاکہ اُن سے بیٹے بیٹِیاں پَیدا ہوں اور تُم وہاں پَھلو پُھولو اور کم نہ ہو۔
نکاح کے قانون کی طرح طلاق کا قانون بھی یہودی روایات میں عورت کی مظلومیت کی داستاں سناتا ہے۔ یہودی مرد جب چاہے چھوٹی سی لغزش پر طلاق دے دیتے اور ان کو یہ حق مذہب نے دیا تھا۔

حالیہ واقعات


شپلوامہ حملہ، 2019ء


آج کا دن


آج: اتوار، 17 فروری 2019 عیسوی بمطابق 11 جمادی الثانی 1440 ہجری (م ع و)

Rashidminhas.jpg
واقعات
ولادت
وفات

ویکیپیڈیا سے وابستہ ہوں!


ویکیپیڈیا ایک آزاد اور کثیر لسانی دائرۃ المعارف ہے جس میں ہم سب مل جل کر لکھتے ہیں اور مل جل کر اس کو سنوارتے ہیں۔ ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری سنہ 2001ء میں ہوا، جبکہ اردو ویکیپیڈیا کا اجرا جنوری سنہ 2004ء میں عمل میں آیا۔ اس وقت اردو ویکیپیڈیا میں 143,538 مضامین موجود ہیں۔

دیگر زبانیں