رخصت، اجازت، علم حدیث کی ایک اصطلاح، جس کے معنی ہیں ‘ اپنے علم حدیث کو آگے پہنچانے کی اجازت دینا ‘۔ اس میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اجازۃ حاصل کرنے والا، اجازۃ دینے والے کا نام بھی بطور سند کے پیش کرے اس کے لیے ضروری نہیں کہ دونوں کی ملاقات بھی ہو، گویا اجازۃ تحریری بھی ہو سکتی ہے۔

احادیث کو تدوین کرنے کے بعد ان میں تحریف کا پہلو بہت کم ہوگیا ہے اور ایسی صورت میں روایت نقل کرنے کی اجازت کی اب صرف ایک اعزازی حیثیت رہ گئی ہے۔

عملی طور پر اجازۃ کی روایت اتنی آگے بڑھی کہ لوگوں نے علما کو سر بازار گھیر کر اجازے حاصل کرنا شروع کر دیے یہاں تک کہ مسافر علما کو بھی نہیں چھوڑا جاتا تھا اس پر نوبت یہاں تک پہنچی کہ علما نے وصیتیں شروع کر دیں کہ ان کی بیان کردہ احادیث کو روایت کرنے کا اجازۃ تمام مسلمانوں کو حاصل ہے۔

عِلْمِ حدیث کا ایک قاعِدَہ ہے کہ مُحَدِّثِیْنِ کرام اپنے شاگردوں کو یا جن کو حدیثِ پاک بیان کریں ، اُن کو سَنَدِ حدیث کی اجازت دیتے ہیں اور یہ اُصُول ہے کہ جس کو یہ اجازت حاصِل نہ ہو ، وہ اُس حدیثِ پاک کو اپنی سَنَد سے بیان نہیں کر سکتا۔ یہ ایک اُصُول کی بات ہے اور اس اُصُول کی تفصیلات ہیں ، جنہیں عُلَمائے کرام ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

اجازے عمومانثر میں سیدھے سادھے اسلوب میں لکھے جاتے تھے۔ بعد ازاں رنگین اور مرصع اسلوب کو استعمال کیا جانے لگا ۔ کئی اجازے منظوم صورت میں بھی لکھے گئے۔[1]

اجازت کی ضرورت احادیث کی روایت کے لیے ہوتی ہے، یعنی: اگر کسی نے کسی محدث سے حدیث نہیں پڑھی ہے اور وہ اُس کی سند سے احادیث روایت کرنا چاہتا ہے اور محدث اُس طالب کی استعداد وصلاحیت کی بنا پر اُسے اپنی سند سے احادیث روایت کرنے کی اجازت دے دیتا ہے تو اس اجازت کی بنا پر وہ شخص، شیخ کی سند سے احادیث روایت کرسکتا ہے، اور اگر کسی نے باقاعدہ کسی محدث سے احادیث پڑھی ہوں تو یہ پڑھنا اجازت کو متضمن ہے، الگ سے مستقل اجازت کی ضرورت نہیں، اور کسی محدث سے حدیث پڑھنے کے لیے صراحتاً پڑھنے کی اجازت ضروری نہیں، اس کے لیے درس میں شرکت کی اجازت کافی ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. شاہکار اسلامی انسائیکلو پیڈیا، صفحہ 97، جلد3، سید قاسم محمود، کلفٹن کالونی لاہور