احسان دانش (1914 کاندھلہ - 1982)، پیدائشی نام احسان الحق، اردو کے مقبول شاعر تھے۔ انہوں نے صرف پانچویں حماعت تک تعلیم حاصل کی تھی، اس کے بعد وہ مزدوری کر کے اپنا گزر بسر کیا کرتے تھے۔ احسان دانش نے لاہور آکر شاعری کا آغاز کیا۔

احسان دانش
پیدائشاحسان الحق

1914ء

کاندھلہ، ہندوستان
وفات22 مارچ 1982ء (عمر: 68 سال)

لاہور، پاکستان
پیشہشاعر، مصنف، معمار
قومیتپاکستانی
شہریتپاکستانی
اصنافشاعری، نثرنگاری، لسانیات
ادبی تحریکترقی پسند تحریک
نمایاں کامجہان دانش
اہم اعزازاتتمغا امتیاز، 22 مارچ 1978ء
اولاد5

ان کی شاعری قدرت کی اور اس ماحول کی عکاسی کرتی ہے جس میں انہوں نے مزدوری کی۔ چونکہ وہ خو د مزدور تھے اس وجہ سے مزدور اورکمزور طبقہ کے لوگوں کے درد کو محسوس کرتے تھے

نمونہ شاعریترميم

نظر فریب قضا کھا گئی تو کيا ہوگا
حیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہوگا

بزعم ہوش تجلی کی جستجو بے سود
جنوں کی زد پہ خرد آگئی تو کیا ہوگا

نئی سحر کے بہت لوگ منتظر ہيں مگر
نئی سحر بھی جو کجلا گئی تو کیا ہوگا

نہ رہنماؤں کی مجلس ميں لے چلو مجھ کو
ميں بے ادب ہوں ہنسی آگئی تو کیا ہوگا

غم حیات سے بیشک ہے خود کشی آساں
مگر جو موت بھی شرما گئی تو کیا ہوگا

تصانیفترميم

  • ابلاغ دانش
  • تشریح غالب
  • آواز سے الفاظ تک
  • فصل سلاسل
  • زنجیر بحران
  • ابر نیسان
  • میراث مومن
  • اردو مترادفات
  • درد زندگی
  • حدیث ادب
  • لغت الاصلاح
  • نفیر فطرت

خودنوشتترميم

  • جہان دانش
  • جہان دیگر

بیرونی روابطترميم