ادارۂ ادبیات اردو کا قیام 1920ء میں ہوا تھا۔ یہ ادارہ حیدرآباد کے علاوہ سابقہ ریاست حیدرآباد کے دیگر اضلاع میں اردو زبان و ادب کے فروغ کا کام کرتا تھا اور اس کی ریاست کے اضلاع میں بھی شاخیں تھی۔

ادارہ ادبیات اردو
ادارہ ادبیات
Small sab-ras-shumara-number-001-magazines-4.jpg
ادارہ ادبیات اردو کی جانب سے چھپنے والے ماہنامہ سب رس کا ایک شمارہ
جانشین پروفیسر بیگ احساس
قیام 1920
بانی ڈاکٹر محی الدین قادری زور
قیام بطور حیدرآباد
قانونی حیثیت سرگرم
مقصد اردو زبان اور ادب کا فروغ
مقام
  • حیدرآباد

شعبےترميم

ادارے کے حسب ذیل شعبے دور نظام میں فعال تھے :

  1. تعلیم بالغان
  2. اشاعت کُتُب
  3. کتب خانہ
  4. تحفظ علمی و ادبی آثار
  5. میوزیم
  6. شعبہ نسواں
  7. تیاری اردو انسائیکلوپیڈیا
  8. ماہنامے کی اشاعت
  9. دفتری شعبہ[1]

ٓٓ

امدادترميم

اس ادارے کو ابتدا میں 3,500 روپیے سالانہ کی سرکاری امداد دی جاتی تھی۔ پھر اس کے بانی ڈاکٹر محی الدین قادری زور کی حکومت سے نمائندگی کی وجہ سے 1944ء سے یہ امداد بڑھاکر 12,000 روپیے سالانہ کر دی گئی۔ حالانکہ سرکاری امداد اس کی ضروریات کی تکمیل کا ایک اہم ذریعہ تھا، تاہم دیگر ذرائع سے بھی مالی ضروریات کی تکمیل بھی ہوتی تھی۔[1]

اضافی امداد کے ساتھ نئی شرائط اور ادارے کا نیا کردارترميم

  • ادارے کی اعلٰی ترین مجلس میں بالالتزام جامعہ عثمانیہ کا ایک نمائندہ منظورہ سرکار اور ناظم تعلیمات بحیثیت رکن رہے گا۔
  • ادارے کے کتب خانے اور علمی ذخیرے محققین علم و ادب کے لیے کھلے رہیں گے۔
  • ادارے پر لازم تھا کہ اضافی رقم کا نصف حصہ بلڈنگ فنڈ کے لیے مختص کیا جائے۔[1]

ایوان اردو کی تعمیرترميم

1944ء سے 1948ء کے بیچ ہر سال پانچ ہزار روپیے سالانہ محفوظ کیے جاتے رہے۔ حیدرآباد کے سوماجی گوڑہ علاقے پر جہاں آج ایوان اردو کی عمارت کھڑی ہے وہ ڈاکٹر محی الدین زور کی اہلیہ کا عطیہ تھی۔ مگر ہرسال جمع پیسوں اور کچھ دیگر وسائل سے یہ عمارت مکمل ہوئی۔ عمارت کا افتتاح زور نے 22 مارچ 1960ء کو کیا تھا۔[1]

ادارے کا موجودہ موقفترميم

ادارہ ادبیات اردو آج کے دور میں بھی اپنی مطبوعات اور رسائل کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ادارہ ادبیات اردو کے امتحانات اردو ماہر، اردو عالم، اردو فاضل حیدرآباد و سکندرآباد، اضلاع و بیرون ریاست تلنگانہ کے تمام مراکز پر ایک ساتھ منعقد کرتے آ رہا ہے۔ یہ امتحانات دونوں ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مختلف تعلیمی اداروں میں کئی مساوی قابلیتوں کے برابر تصور کیے جاتے ہیں۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ت ماہنامہ سب رس. ادارۂ ادبیات اردو کے استحکام میں ڈاکٹر زور کا کلیدی کردار. 77. pp. 8-10. آئی ایس ایس این 970-2015-2017 H-HD 970-2015-2017 
  2. -امتحانات-ادخال-فی-807789/ ادارہ ادبیات اردو کے امتحانات ادخال فیس کی تاریخ کا اعلان