اسلامی عقیدہ

اسلامی الٰہیات

عقیدہ دراصل لفظ "عقد" سے ماخوذ ہے، جس کے معانی ہیں کسی چیز کو باندھنا ،جیسے کہا جاتا ہے "اعتقدت کذا" (میں ایسا اعتقاد رکھتا ہوں) یعنی میں نے اسے (اس عقیدے کو) اپنے دل اور ضمیر سے باندھ لیا ہے۔ لہذا عقیدہ : اس اعتقاد کو کہا جاتا ہے جو انسان اپنے دل میں کسی چیز کے بارے میں رکھتا ہے، کہا جاتا ہے : "عقیدۃ حسنة" (اچھا عقیدہ)، یعنی : "سالمة من الشک" (شک سے پاک عقیدہ)، عقیدہ در حقیقت دل کے یقین کرنے کے عمل کا نام ہے اور وہ ہے دل کا کسی بات پر ایمان رکھنا اور اس کی تصدیق کرنا۔

اسلام کے پیروکار مسلمان کہلاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے عرب کی غیر مہذب قوم دنیا کو تہذیب سکھانے والی اُستاد بن گئی اور موجودہ دور کی سائنسی ترقی کے لیے کی جانیوالی تلاش میں پہلا قدم بھی مسلمانوں کی طرف سے رکھا گیا۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپکے خلفاء راشدین اور صحابہ کرام نے اس کی اشاعت اپنے کردار اور اعمال کے ذریعے پوری دنیا میں کی اور یہ دنیا میں سب سے تیزی کے ساتھ پھیلنے والا مذہب بن چکا ہے۔[1]

تعارفترميم

دوسرے مذاہب اور ادیان کی طرح مسلمان بھی اپنے عقائد کی وجہ سے مختلف فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔ عمان کا پیغام میں جن مذاہب کو مسلمان تسلیم کیا گیا ہے، اُن کے کچھ عقائد ایسے ہیں جو دین اسلام کے تمام ذیلی مذاہب کے ماننے والوں میں مشترک ہیں اور متفقہ اسلامی عقائد کہلاتے ہیں۔ ان عقائد کو ضروریات دین کہتے ہیں۔ ذیل میں ان ہی عقائد کی فہرست اور وضاحت تحریر کی گئی ہے۔ اس تحریر کے لیے کوشش کی گئی ہے کہ اُن کتب سے استفادہ کیا جائے جن میں بنیادی ماخذ یعنی قرآن و حدیث سے حوالہ جات درج ہوں۔ نیز ویکیپیڈیا پر اسلامی عقائد کے حوالہ سے درج کے مضامین سے بھی تفصیلات لی گئی ہیں اور انہی کا حوالہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ باقی عقائد کے لیے انٹرنیٹ کے حوالہ جات درج کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ آسانی سے دیکھے جا سکیں۔

ایمان باللہ(اللہ پر ایمان)ترميم

  1. اللہ ایک ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ نہ اُس نے کسی کو جنا۔ نہ وہ کسی سے جنا گیا۔ نہ اُسکی کوئی بیوی ہے۔ کوئی اس کا مقابل نہیں۔اسی نے سارا جہاں بنانا،

ایمان بالملائکہ(فرشتوں پر ایمان)ترميم

ایمان بالکتب(کتابوں پر ایمان)ترميم

ایمان بالرسل (رسولوں پر ایمان)ترميم

ایمان بالآخرت(قیامت پر ایمان)ترميم

ایمان بالقدر(تقدیر پر ایمان)ترميم

حوالہ جاتترميم