اصغر بن ابو الحسین تغلبی

اصغر بن ابو الحسین تغلبی راس عین کا رہنے والا تھا جو حران اور نصیبین کے درمیان ایک شہر ہے۔ اس نے وہاں نبوت کا دعویٰ کیا اور کہنے لگا کہ کتابوں میں جس موعود کا ذکر ہے وہ میں ہی ہوں۔

جھوٹا مسیح موعودترميم

اس نے اپنی خود ساختہ نبوت کے اعلان کے ساتھ ہی یہ کہنا شروع کر دیا جس موعود کا ذکر کتابوں میں آتا ہے وہ وہی ہے، غالباً اس بات سے اس کی مراد یہی تھی کہ وہ مسیح موعود ہے

شعبدے سے فریبترميم

نبوت کے دعوے کے بعد اس نے طرح طرح کے شعبدوں کے فریب سے لوگوں کو اپنا گرویدہ اور ہم خیال بنایا۔ جب اس کے معتقدین کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تو اسے ملک گیری کا شوق چڑھا اور اس نے اپنی ایک فوج بنا لی۔

پیش رو سے الگترميم

تقریباً جتنے بھی لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اس نے مسلمانوں کو ہی نقصان پہنچایا اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا لیکن اس نے پیش رو سے الگ، نصرانیوں کو نشانہ بنایا اور اس کے ملک پر حملہ کر دیا۔ چنانچہ اس کا لشکر بڑے تزک و احتشام کے ساتھ روانہ ہوا اور اور رومیوں سے مقابلہ کیا جس میں رومیوں کو شکست فاش ہوئی اور اصغر بن ابو الحسین بہت سارے مال غنیمت کے ساتھ واپس آیا اور اس کا جھنڈا شان و شوکت سے لہرانے لگا لیکن اتنا ہی نہیں بلکہ اس کے بعد دو اور حملے کیے اور دونوں میں رومیوں کو ہزیمت اٹھانی پڑھی۔ آخر روم کے بادشاہ نے نصر الدولہ بن مروان حاکم دیار و سیافارقین کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ کا اور ہمارا دوستانہ اتحاد ہے لیکن اصغر نے آپ کی مملکت میں رہ کر ہی میرے خلاف تمام کارروائیاں کی ہیں۔ چنانچہ یا تو آپ اس کی سرکوبی کریں یا پھر میں اپنے طریقے معاملے کو رفع دفع کروں گا۔ جب نصر الدولہ نے تمام حالات کا اندازہ کیا تو اسے یہ بات سمجھ آ گئی کہ اگر آج آصغر کے فتنے کو ختم نہیں کیا گیا تو آنے والا وقت زیادہ تباہ کن ہوگا اور ممکن ہے کہ وہ مسلمانوں کے گلے کی ہڈی بن جائے۔ 

آخری انجامترميم

چنانچہ جب تمام حالات کا جائزہ لے لیا تو نصر الدولہ نے چند نوجوانوں کی خدمات حاصل کیں اور وہ لوگ اصغر کے یہاں شاگرد بن گئے۔ اور پھر موقع ملتے ہی اس کا قتل کر دیا اور اس طرح اصغر بن ابو الحسین کے فتنے سے نجات ملی۔

حوالہ جاتترميم

[1]

  1. جھوٹے نبی، ٢٨٢؃