اعراف نام کی ایک بڑی سورت قرآن کریم کے آٹھویں اور نویں پارے میں موجود ہے۔ اس سورت میں جنت اور جہنم کے ساتھ ساتھ، اعراف کا ذکر بھی ہے۔

اعراف کیا ہےترميم

اعراف کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک دیوار یا فصیل ہے جس کی بلندی پر کچھ ایسے لوگ کھڑے ہوں گے جن کی نیکی اور گناہ برابر ہوں گے۔

وجہ تسمیہترميم

اعراف پر کھڑے ہونے والے لوگ جنت اور جہنم میں جانے بہت سے افراد کو دیکھ نشانیوں کے ذریعے پہچانیں گے اور ان سے سوال کریں گے۔

اہل اعراف اور اہل دوزخترميم

اعراف والے لوگ جب دوزخیوں میں سے بہت سارے لوگوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ کیا معاملہ ہے تمہارا اپنے آپ کو بڑا کہنا تمہارے کچھ کام نہ آیا اور بہت سارے ایسے لوگ جنت میں داخل ہو گئے جن کے متعلق تم کہا کرتے تھے کہ الله ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔

ایک سبقترميم

وہ لوگ جو اپنی زہد و عبادت کے زعم میں دوسروں کو حقیر جانتے ہیں ان کے لیے ایک سبق ہے کہ معافی یا سزا کا اختیار صرف الله تعالٰی کو ہے۔

اہل اعراف کا انجامترميم

اعراف والے لوگوں کے ساتھ الله تعالٰی کرم کا معاملہ کرے گا اور وہ جنت میں داخل ہوں گے۔

حوالہ جاتترميم

[1]

  1. سورہ اعراف، آیت نمبر ٤٨، پارہ نمبر ٨۔