حبر ماہر یا چوٹی کے عالم کو کہا جاتا ہے اس کی جمع احبار ہے حبر کا انگریزی میں (Scholar , Authority) ترجمہ ہے۔[1]

ماہر عالم ترمیم

ایسے ماہر عالم کے بارے میں المنجد میں ہے ’’فلان لیس لہ حبر‘‘ فلاں کا کوئی مثل و نظیر نہیں۔[2]

  • اردو میں لفظ متبحر بڑے اور ماہر عالم کے لیے استعمال ہوتا ہے (الحبر : العالم المتبحر فی العلم) الحبر: فيہ الكسر والفتح، والمراد بہ العالم الماہر[3]

حبر اعظم ترمیم

یہود کے ہاں سب سے بڑے عالم کو حبر اعظم کہا جاتا ہے۔[4]

  • قاضی ثناء اللہ پانی پتی لکھتے ہیں ’’احبار کا واحد حَبر اور حِبر ہے۔ حِبر زیادہ فصیح ہے۔ ماہر عالم کو حبر کہتے ہیں۔ بعض علما نے حبر کا معنی جمال لکھا ہے۔ حدیث میں آیا ہے دوزخ سے ایک آدمی ایسی حالت میں نکلے گا کہ اس کا حسن و جمال جا چکا ہوگا۔ تحبیر بمعنی تحسین لفظ حبر (بمعنی جمال) سے ہی بنا ہے۔ علما جمال امت ہیں۔ جمال علم سے آراستہ ہوتے ہیں اس لیے علما کو احبار کہا جاتا ہے ‘‘۔[5]
  • الحِبر: العالِم، واحد أحبار اليهود، وهو أفصح من الحَبْر بالفتح[6] جب یہ زیر کے ساتھ پڑھا جائے تو ماہر اور چوٹی کے علما کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

حبر الامت ترمیم

عبد اللہ بن عباس اور امام شافعی کے لیے انہی معنوں میں حبر الامۃ (امت کا بہت بڑا عالم) استعمال ہوتا ہے یہ عبد اللہ بن عباس کا بہت ہی مشہور لقب ہے۔[7]

  • يُقَالُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الحَبْر وَالْبَحْرُ لِعِلْمه وسَعَتِه[8]
  • ابن عباس کو امت اسلامیہ کے بڑے عالم اور سمندر ان کی علمی وسعت کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔
  • اسی معنی میں سنن کبریٰ میں ایک باب باندھا گیا
  • عَبْدُ اللهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَبْرُ الْأُمَّةِ وَعَالِمُهَا وَتُرْجُمَانُ الْقُرْآنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ[9]
  • عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب اس امت کے بڑے عالم اور ترجمان القرآن ہیں۔
  • الإِمَام الشَّافِعِي حبر الأمة وَإِمَام الْأَئِمَّة[10]
  • امام شافعی اس امت کے چوٹی کے عالم اور امام الائمہ ہیں۔
  • ابراھیم النخعی رحمہ ﷲ تعالٰی کان حبرا فی الحدیث۔ ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ حدیث کے متبحر عالم ہیں [11]
  • ابو موسی نے عبد اللہ بن مسعود کے بارے کہا کہ مجھ سے نہ پوچھو جب تک کہ وہ بڑا عالم تم میں موجود ہیں۔ لاَ تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الحَبْرُ فِيكُمْ[12]

حوالہ جات ترمیم

  1. المورد (عربی انگلش ڈکشنری) صفحہ 451
  2. المنجد صفحہ، 183، کتب خانہ دار الاشاعت کراچی
  3. .حاشیہ بخاری
  4. القاموس الوحید، صفحہ 305، وحید الزماں، ادارہ اسلامیات کراچی
  5. تفسیر مظہری سورۃ المائدہ آیت 44
  6. شمس العلوم ودواء كلام العرب من الكلوم ،مؤلف: نشوان بن سعيد الحميرى اليمني، دار الفكر دمشق شام
  7. کراماتِ صحابہ صفحہ 230 عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ ناشر مکتبۃ المدینہ باب المد ینہ کراچی
  8. النهايہ فی غريب الحديث والأثر، مؤلف: أبو السعادات ابن الأثير، ناشر: المكتبة العلميہ - بيروت
  9. السنن الكبرى مؤلف: أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب بن علي الخراساني، النسائي، ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت
  10. مسند امام شافعی، ناشر: دار الكتب العلمية، بيروت لبنان
  11. فتاویٰ رضویہ جلد 25 صفحہ 118
  12. بخاری