جمال الدین قفطی مشہور مؤرخ و ادیب جو القفطی سے مشہور ہیں۔
جمال الدين أبو الحسن علي بن يوسف بن ابراہیم بن عبدالواحد القفطي 1172ء میں قفط میں پیدا ہوئے۔ یہ مشہور مورخ اور ادیب تھے۔ ان کے خاندان کے زیادہ تر افراد ایوبیوں کے زمانے میں عہدۂ قضا پر فائز تھے۔ یہ خود بھی اسی عہدے پر فائز رہے۔ مگر علمی مزاج ہونے کی وجہ سے اس عہدہ سے دستبردار ہو کر حلب چلے گئے جہاں عہدۂ میرا نشاء پر فائز کیے گئے۔ انہوں نے تاریخ پر متعدد کتابیں لکھیں جو ضائع ہو چکی ہیں۔ مگر ان کی نہایت مشہور کتاب "اخبار العلماء باخبار الحکماء" اب بھی موجود ہے۔ اس کتا ب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب علما نے یونانی کتابوں سے کتنا استفادہ کیا۔ان کی وفات 646ھ میں ہوئی[1]

حوالہ جاتترميم

  1. إخبار العلماء بأخبار الحكماء دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان