لہروں کا کسی رکاوٹ سے ٹکرا کر اس کے گرد مڑ جانا یا کسی سوراخ سے گذر کر پھیل جانا انکسار diffraction کہلاتا ہے۔ ایسا اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب رکاوٹ کی موٹائی یا سوراخ کا قطر لہروں کے طول موج کے لگ بھگ مساوی ہو۔ یہ انکسار ہر طرح کی لہروں میں ہوتا ہے جیسے پانی کی لہریں، آواز کی لہریں یا برقناطیسی امواج electromagnetic waves۔

ہبل کی دوربین (Hubble Telescope) سے لی گئی ایک تصویر۔ ہر ستارے کے اوپر نیچے اور دائیں بائیں سے پھوٹتی ہوئی روشنی کی کرنیں اصلی نہیں ہیں بلکہ انکسار کی وجہ سے پیدا ہونے والا تصویری نقص ہے۔ انعکاسی دوربین میں چھوٹے آئنے کو سہارا دینے والی چار سلاخوں کے گرد روشنی کے انکسار کی وجہ سے یہ نقص پیدا ہوتا ہے۔ انعطافی دوربین میں روشنی کو سہارا دینے والی سلاخوں سے نہیں گذرنا پڑتا اس لیے انعطافی دوربین کی تصویروں میں یہ نقص نہیں ہوتا۔
کسی CD پر بنے tracts اتنے قریب قریب ہوتے ہیں کہ روشنی کی لہروں میں انکسار diffraction ہو جاتا ہے اور روشنی اپنے رنگوں میں بکھر کر قوس قزح جیسی شباہت پیدا کرتی ہے۔
یہاں لال رنگ سے ایک رکاوٹ دکھائی گئی ہے جس کے درمیان ایک سوراخ ہے۔ بائیں جانب سے ایک لہر اس سوراخ سے گذر کر جب دائیں جانب پہنچتی ہے تو نہ صرف پھیل جاتی ہے بلکہ اس میں phase reversals بھی واقع ہو جاتا ہے۔
جب روشنی کسی شگاف سے گزرتی ہے تو انکسار کی وجہ سے کئی حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ لال رنگ کی لکیر روشنی کے مختلف حصوں کی شدت ظاہر کرتی ہے۔
اگر روشنی کی راہ میں حائل رکاوٹ میں ایک چھوٹا سا چوکور سوراخ ہو تو انکسار کے بعد ایسا نمونہ حاصل ہوتا ہے۔

مزید دیکھیے

ترمیم