سر ایان ٹیرنس بوتھم (پیدائش: 24 نومبر 1955ء) ایک انگریز کرکٹ مبصر، ہاؤس آف لارڈز کے رکن اور سابق کرکٹ کھلاڑی ہیں جو 2017ء سے درہم کاؤنٹی کرکٹ کلب کے چیئرمین ہیں۔

ایئن بوتھم
 

ہاؤس آف لارڈز کا رکن
عارضی لارڈ
آغاز منصب
5 اکتوبر 2020
زندگی ہم مرتبہ
معلومات شخصیت
پیدائش 24 نومبر 1955ء (69 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہیسوال   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت مملکت متحدہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عارضہ رنگ اندھا پن   ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ کرکٹ کھلاڑی ،  ایسوسی ایشن فٹ بال کھلاڑی ،  آپ بیتی نگار   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل کرکٹ ،  ایسوسی ایشن فٹ بال   ویکی ڈیٹا پر (P641) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
 افیسر آف دی آرڈر آف دی برٹش ایمپائر
وزڈن کرکٹر آف دی ایئر  
 نائٹ بیچلر    ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ایئن بوتھم

کیریئر

ترمیم

وہ ایک مشہور انگریز قد آور کرکٹ کھلاڑی ہیں جنھوں نے انگلستان کی طرف سے 102 ٹیسٹ اور 116 ایک روزہ بین الاقوامی میچز میں شرکت کی ہے اور انھیں ایک جوشیلے اور بااثر آل راؤنڈر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے 1974ء سے 1993ء کے درمیان انھوں نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں 383 وکٹیں لے کر خود کو انگلستان کا عظیم آل راونڈر ثابت کیا انھیں ’بیفی‘بھی کہا جاتا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بوتھم نے خون کے کینسر یا لیکومیا کے لیے کام کرنے والے خیراتی ادروں کے لیے 10 ملین پاؤنڈز سے زیادہ رقم جمع کی۔ 2004ء میں ایئن بوتھم کو بی بی سی نے لائف ٹائم اچیو منٹ ایوارڈ دیا گیا اور 2007ء میں انھیں سر کا خطاب دیا گیا۔اس کے علاوہ انھوں بطور کرکٹ کمینٹیٹر اور تجزیہ کار بھی کرکٹ سے اپنا تعلق قائم رکھا ان کے صاحبزادے لیام جمیز بوتھم نے بھی 3 فرسٹ کلاس میچ کھیلے مگر بدقسمتی سے وہ خود سے منسوب توقعات پوری نہ کر سکے۔ ایان بوتھم کو کھیل کی تاریخ کے عظیم آل راؤنڈرز میں سے ایک کے طور پر سراہا جاتا ہے، بوتھم نے ٹیسٹ اور ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ دونوں میں انگلینڈ کی نمائندگی کی۔ اس نے اپنی زیادہ تر فرسٹ کلاس کرکٹ سمرسیٹ کے لیے کھیلی، دوسرے اوقات میں وورسٹر شائر، ڈرہم اور کوئنز لینڈ کے لیے مقابلہ کیا۔ وہ ایک جارحانہ دائیں ہاتھ کے بلے باز تھے اور دائیں ہاتھ کے فاسٹ میڈیم باؤلر کے طور پر، اپنی سوئنگ گیند بازی کے لیے مشہور تھے۔ وہ عام طور پر وکٹ کے قریب فیلڈنگ کرتے تھے، خاص طور پر سلپ میں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں، ایان بوتھم نے 208 کے سب سے زیادہ سکور کے ساتھ 14 سنچریاں اسکور کیں اور 1986ء سے 1988ء تک سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹوں کا عالمی ریکارڈ قائم کرکے اپنے ساتھی آل راؤنڈر سر رچرڈ ہیڈلی کو پیچھے چھوڑ دیا۔ انھوں نے 27 بار ایک اننگز میں پانچ وکٹیں اور چار بار میچ میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔ 1980ء میں، وہ ٹیسٹ کی تاریخ کے دوسرے کھلاڑی بن گئے جنھوں نے ایک ہی میچ میں 100 رنز بنانے اور 10 وکٹیں لینے کا میچ ڈبل مکمل کیا۔ اگست 2018ء میں انگلینڈ کے 1000 ویں ٹیسٹ کے موقع پر، انھیں انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے ملک کی عظیم ترین ٹیسٹ الیون میں شامل کیا تھا۔ ایان بوتھم بعض اوقات تنازعات میں بھی ملوث رہے ہیں، جس میں حریف آل راؤنڈر عمران خان سے متعلق ایک انتہائی مشہور عدالتی مقدمہ اور رائل سوسائٹی فار پروٹیکشن آف برڈز کے ساتھ جاری تنازع شامل ہے۔ یہ واقعات، ان کی میدان میں کامیابی سے جڑے میڈیا کی توجہ حاصل کر لی خاص طور پر ٹیبلائیڈ پریس نے انھیں اپنی عادت کے مطابق کافی پریشان کیا بوتھم نے اپنی شہرت کو بچپن کے لیوکیمیا پر تحقیق کے لیے رقم اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ ان کوششوں سے بلڈ وائز کے لیے لاکھوں پاؤنڈز کا احساس ہوا، جس میں سے وہ صدر بنے۔8 اگست 2009ء کو، انھیں آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔ جولائی 2020ء میں، یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ایان بوتھم کو ہاؤس آف لارڈز میں لے جایا جائے گا اور وہ کراس بینچ پیر کے طور پر بیٹھیں گے۔ ایان بوتھم کی کرکٹ سے باہر کھیلوں کی وسیع دلچسپیاں ہیں۔ وہ اسکول میں ایک باصلاحیت فٹ بالر تھا اور اسے کیریئر کے طور پر کرکٹ اور فٹ بال میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ اس نے کرکٹ کا انتخاب کیا لیکن، اس کے باوجوداس نے چند سیزن کے لیے پیشہ ورانہ فٹ بال کھیلا اور اسکنٹورپ یونائیٹڈ کے لیے فٹ بال لیگ میں گیارہ بار کھیلے، 2017ء میں کلب کے صدر بنے وہ ایک شوقین گولفر ہے اور اس کے دیگر مشاغل میں اینگلنگ اور شوٹنگ شامل ہیں۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم