ایجنٹ اورنج (Agent Orange) جڑی بوٹیاں تلف کرنے والے ایک نہائت مضرِ صحت کیمیائی مواد کا خفیہ نام ہے جو امریکا نے جنوبی ویتنام کے جنگلات و دیہات میں 1961ء سے لے کر 1971ء تک چھڑکا۔ اس کا مقصد ان جنگلات کو تلف کرنا تھا جہاں ویت کانگ گوریلے امریکی افواج سے چھپتے تہے۔ امریکیوں نے 80,000 مکعب میٹر سے زیادہ کیمیائی مواد ویت نام میں استعمال کیا جس کے مقامی آبادی پر نہائت مضر اثرات برآمد ہوئے۔ ان اثرات میں کینسر اور جینیاتی امراض شامل ہیں۔ اس کا نام ان بڑے ڈرموں کے رنگ کی وجہ سے پڑا جن میں اسے لایا جاتا تھا۔

امریکی جہاز جنوبی ویتنام میں ایجنٹ اورنج چھڑکتے ہوئے۔ 26 جولائی 1969ء

پیدا کارترميم

اس کیمیائی مواد کو امریکا کے بڑے اداروں جیسے ڈاو کیمیکل (Dow Chemical)، مونسانٹو (Monsanto) اور ڈائمنڈ شیمروک (Diamond Shamrock) نے تیار کیا۔ ویتنامیوں کو صرف نقصان اور بیماریاں ملیں مگر ویتنام سے واپس آنے والے فوجیوں کو، جنہیں ویتنامیوں کی نسبت بہت کم نقصان برداشت کرنا پڑا، امریکی حکومت نے کئی لاکھ ڈالر جرمانے کے طور پر دیے۔

ویتنامیوں کا نقصانترميم

ایجنٹ اورنج کے چھڑکنے سے 48 لاکھ ویتنامی افراد زیرِ اثر آئے جن میں سے چار لاکھ اموات واقع ہوئیں، پانچ لاکھ سے زیادہ بچے پیدائشی امراض کے ساتھ پیدا ہوئے اور لاکھوں لوگ معذور ہوئے۔[1]

عدالتی فیصلےترميم

ویتنامی متاثرین کی ایک تنظیم نے وی۔ اے۔ وی۔ اے (Vietnam Association for Victims of Agent Orange/Dioxin) نے 2004ء میں امریکی عدالت میں مقدمہ دائر کیا جس میں ڈاو کیمیکل (Dow Chemical)، مونسانٹو (Monsanto) اور ڈائمنڈ شیمروک (Diamond Shamrock) جیسے بڑے اداروں سے جرمانہ طلب کیا گیا مگر اس مقدمہ کو ایک جج نے ختم کرتے ہوئے کہا کہ اس جرمانہ کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔ یہ وہی جج تھا جس نے کچھ عرصہ قبل امریکی فوجیوں کو جرمانے دلوائے تھے جو اس کیمیائی مواد کو صرف چھڑکنے کی وجہ سے اس کا شکار ہوئے تھے۔

نگار خانہترميم

حوالہ جاتترميم

  1. The Globe and Mail, جون 12, 2008. 'Last Ghost of the Vietnam War'