ایلہ بستی کا ذکر قرآن میں اجمالا آیا ہے جو اصحاب سبت کے واقعہ کہلاتا ہے

  • واَسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعاً وَيَوْمَ لاَ يَسْبِتُونَ لاَ تَأْتِيهِمْ كَذَلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ

اور آپ ان سے اس بستی کا حال دریافت فرمائیں جو سمندر کے کنارے واقع تھی، جب وہ لوگ ہفتہ (کے دن کے احکام) میں حد سے تجاوز کرتے تھے (یہ اس وقت ہوا) جب (ان کے سامنے) ان کی مچھلیاں ان کے (تعظیم کردہ) ہفتہ کے دن کو پانی (کی سطح) پر ہر طرف سے خوب ظاہر ہونے لگیں اور (باقی) ہر دن جس کی وہ یوم شنبہ کی طرح تعظیم نہیں کرتے تھے (مچھلیاں) ان کے پاس نہ آتیں، اس طرح ہم ان کی آزمائش کر رہے تھے بایں وجہ کہ وہ نافرمان تھے
اس قریہ کے بارے میں اقوال مختلف ہیں، بعض نے اَیْلَۃ، کہا ہے اور بعض نے طبریہ اور بعض نے مدین اور بعض نے ایلیاء اور کہا گیا ہے کہ شام میں ساحل بحر کے قریب مراد ہے کہا جاتا ہے، [1] اور اس بستی کی تعیین کے بارے میں اختلاف ہے۔ پس ابن عباس، عکرمہ اور سدی نے کہا ہے : وہ ایلہ ہے ۔[2] اور ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ ایلہ اور طور کے درمیان مدین ہے۔ زہری نے کہا ہے : وہ طبریہ ہے۔ قتادہ اور زید بن اسلم نے کہا ہے : وہ شام کے سوا حل میں سے ایک ساحل ہے اور یہ مدین اور عینوں کے درمیان ہے، اسے مقناۃ کہا جاتا ہے۔[3]

حوالہ جاتترميم

  1. تفسیر جلالین
  2. المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 467
  3. تفسیر قرطبی