سکندر اعظم کے دور کا بازیرہ سوات کا ایک قدیم قصبہ ہے جو مرکزی شہر مینگورہ سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

پاکستان میں اطالوی آرکیالوجی مشن کے سربراہ ڈاکٹر لوکا ماریہ کے مطابق دریافت شدہ ہندو یونانی شہر کے آثار کا تعلق دوسری صدی قبل مسیح سے ہے۔

ان کے مطابق آرکیالوجسٹ کی ٹیم پاکستانی اور اطالوی ماہرین پر مشتمل تھی جنھوں نے ہندو یونانی شہر کے آثار کے علاوہ ساتویں اور آٹھویں قبل مسیح کے گندھارا آثار کو بھی دریافت کیا ہے جب کہ تیسری صدی قبل مسیح کی موریا سلطنت کے آثار بھی ملے ہیں۔

بازیرہ بریکوٹ کا اصل اور پرانہ نام ہے کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم نے 327 قبل مسیح میں اس کو فتح کیا تھا

بازیرہ بریکوٹ کا اصل اور پرانہ نام ہے کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم نے 327 قبل مسیح میں اس کو فتح کیا تھا

بازیرہ کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ یہ سکندر اعظم کے شہر سے موسوم ہے جہاں اطالوی آرکیالوجی مشن 1984ء سے کھدائی کر رہا ہے جہاں انھوں نے یونانی، موریا، ہندو یونانی، ہندو شاہی اور اسلامی دور کے آثار دریافت کیے ہیں۔

ان کے مطابق جن دو جہگوں پہ کھدائی ہوئی ہے ان میں ایک کشان دور کی ہے جس میں ایک مندر کے آثار ملے ہے اس میں پانی کی ٹینکی بھی ملی ہے اور اس کا تعلق تیسری صدی عیسوی سے ہے۔

دوسری جگہ پر ہونے والی کھدائی کی اہمیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ اس میں گریک دور کے بعد کے جو لوگ اور ادھر کے جو لوگ تھے وہ آپس مل گھل مل گئے تھے اس سے ہندو گریک وجود میں آیا وہ لوگ اس شہر میں بسے ہے اور ان کا تعلق دوسرے قبل مسیح سے ہے اور اس دور کے کافی واضح اثار ملے ہیں جسمیں برتن کے ٹکڑے ، ہتھیار اور اس دور کے بادشاہوں کے سکے و دیگر سامان ملا ہے

بازیرہ میں یہ کھدائی پوری دنیا میں جنوبی ایشیا میں اور پاکستان میں بریک تھرو ہے

بازیرہ میں یہ کھدائی پوری دنیا میں جنوبی ایشیا میں اور پاکستان میں بریک تھرو ہے

سوات مختلف آثار قدیمہ، گندھارا تہذیب اور مختلف مذاہب کے حوالے سے ہزاروں سال قدیم تاریخ اور آثار رکھتا ہے۔

اس حوالے سے ماہر ثقافت فضل خالق نے بتایا کہ کتابوں میں مذکور ہے کہ سکندر اعظم یہاں آیا تھا لیکن اس حوالے سے ہمارے پاس دستیاب ثبوت کم تھے لیکن اب جو کھدائی ہوئی ہے اور جو چیزیں دریافت ہوئی ہے ان سے ہمارے پاس کافی ثبوت ہے۔

ان کے مطابق بازیرہ میں یہ کھدائی پوری دنیا میں جنوبی ایشیا میں اور پاکستان میں بریک تھرو ہے۔

بازیرہ بریکوٹ کا اصل اور پرانہ نام ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سکندر اعظم نے 327 قبل مسیح میں اس کو فتح کیا تھا اور یہ ہندو یونانی دور میں ایک مظبوط فوجی چھاونی کے طور پر بنایا گیا تھا۔ جب اس چھاونی کی حیثیت ختم ہوئی تو یہ ایک بڑے شہر کی حیثیت اختیار کرگیا اسکے علاوہ بریکوٹ میں اور بھی بہت سے مقامات پر اثار قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔

حوالہ جاتترميم