بشری فرخ پاکستانی شاعرہ ہیں جن کا تعلق پشاور سے ہے [1]۔ آپ نامور ٹی وی کمپئر ، اداکارہ ، شاعرہ اور سفرنامہ نگار ہیں۔ انھوں نے بطور میزبان پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کی خدمت کی ہے۔ وہ خیبر پختونخوا کی فنکارہ ہیں جنہوں نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو میں چار مختلف زبانوں اردو ، پشتو ، ہندکو اور انگریزی میں فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ بشری فرخ نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے بہت سے پروگرام کیے ہیں۔ ان کے پروگرام خاص طور پر نوجوانوں میں بہت مقبول رہے ہیں۔بشری فرخ کے نو شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔[2] [3]

بشری فرخ
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 16 فروری 1957ء (عمر 65 سال)
پیشہ اداکارہ، شاعرہ

حالات زندگیترميم

آپ 16 فروری 1957 کو پشاور ، صوبہ خیبر پختون خواہ میں پیدا ہوئیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف پروڈیوسر فرخ سیر سے شادی ہوئی۔ 40 سالوں سے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستہ ہیں۔آپ کو پاکستان ٹیلی ویژن پشاور سنٹر کی پہلی اناونسر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔آپ نے پاکستان ٹیلی ویژن پشاور سنٹر کے اردو ، پشتو اور ہندکو ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔اپنے شوہر فرخ سیر کی وفات کے بعد شعر گوئی کی طرف مائل ہوئیں۔آپ کا ایک سفر نامہ اور 8 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔آپ کو خیبر پختون خواہ کی پہلی صاحب کتاب شاعرہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ملکی اور غیر ملکی سطح پر کئی مشاعروں اور کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔آپ کی ادبی خدمات کے حوالے سے پشاور یونی ورسٹی اور قرطبہ یونی ورسٹی میں ایم اے اور ایم فل کی سطح مقالے لکھے جا چکے ہیں۔آپ "کارواں حوا لٹریری فورم" کی چیئر پرسن بھی ہیں۔[4]

پیشہ ورانہ زندگیترميم

پاکستان ٹیلی ویژن (پشاور سینٹر)ترميم

پی ٹی وی پشاور سنٹر میں 10 سال بطور میزبان خدمات انجام دیں اور 35 سال تک ڈراما آرٹسٹ کی حیثیت سے کام کیا۔ ====

ریڈیو پاکستانترميم

بطور میزبان، کمپیئر اور 35 سال تک ڈرامہ آرٹسٹ کی حیثیت سے ریڈیو پاکستان کی خدمت کی۔

خواتین مصنفین فورمترميم

خواتین مصنفین فورم (Women writer's Forum) کی جنرل سکریٹری کی حیثیت سے 3 سال تک خدمات انجام دیں۔ ایک سال خواتین مصنفین فورم کی ناظم اعلی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

بزنس وومن ایسوسی ایشنترميم

تعلقات عامہ کے افسر کی حیثیت سے 2 سال تک بزنس وومن ایسوسی ایشن سے جڑی رہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر مینجمنٹ سائنسز (آئی سی ایم ایس) کے ساتھ تعلقات عامہ کے افسر کی حیثیت سے دو سال تک خدمات انجام دیتی رہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر مینجمنٹ سائنسز حیات آباد پشاور نے بطور انچارج ادبی ونگ آئی سی ایم ایس (ICMS) ایک سال تک خدمات حاصل کیں۔

تصانیفترميم

آپ کی درج ذیل کتب شائع ہوئیں:

  • اک قیامت ہے لمحہ موجود(اردو شاعری)
  • ادھوری محبت کا پورا سفر(اردو شاعری)
  • بہت گہری اداسی ہے(اردو شاعری) [5]
  • محبتاں دے مزاج وکھرے(ہندکو شاعری)
  • جدائی بھی ضروری ہے(اردو شاعری) [6]
  • مجھے آواز مت دینا(اردو شاعری)
  • ورفعنا لک ذکرک(اردو نعتیہ مجموعہ)
  • تو کجا من کجا(اردو نعتیہ مجموعہ)
  • خمینی کے ایران میں(اردو سفر نامہ)

اعزازاتترميم

  • اباسین آرٹس کونسل ادبی ایوارڈ 2017-2018 [7]
  • سردار عبدالرب نشتر ایوارڈ
  • ہندکو ورلڈ کانفرنس ایوارڈ 2005
  • بزم بہار ادب سلور جوبلی ایوارڈ 2005
  • سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ایوارڈ
  • فروغ ادب ایوارڈ
  • روزن انٹرنیشنل لٹریری ایوارڈ
  • تانگھ وسیپ ایوارڈ
  • خیبر کالج آف کامرس شیلڈ
  • عظیم ویلفیئر سوسائٹی ایوارڈ
  • پی ٹی وی بہترین کارکردگی ایوارڈ 1998
  • موسیقار اعظم ایوارڈ 1997
  • ایگفا ایوارڈ 1997
  • فرنٹیئر کلچرل کلب ایوارڈ
  • فرنٹیئر آرٹس کونسل ایوارڈ
  • میر آرٹس کونسل ایوارڈ
  • کوکا کولا ایوارڈ 1978
  • سلطانی ایوارڈ 1976
  • قومی سیرت ایوارڈ
  • خوشحال خان خٹک ایوارڈ
  • روزن انٹر نیشنل ایوارڈ
  • طاہر کلانچوی ایوارڈ

حوالہ جاتترميم

  1. "Women pledge to resist honour killings". Daily Times. 14 March 2007. اخذ شدہ بتاریخ 26 ستمبر 2011. 
  2. "اردو شاعرات کے تذکرے اور اُردو میں خواتین کے رسائل". 12 مارچ 2021. 
  3. "صفیہ اختر کی یاد می". 11 مارچ 2021. 27 نومبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 13 مارچ 2021. 
  4. روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد 7 نومبر 2014
  5. "بہت گہری اداسی ہے، بشری رحمن کی دوسری شاعری کی کتاب". 13 مارچ 2021. 
  6. "بشریٰ فرخ کا شعری مجموعہ'جدائی بھی ضروری ہے':تحقیقی و تنقیدی جائزہ". 13 مارچ 2021. 
  7. "Poets, writers receive awards for literary, research work". Dawn. 28 September 2019. اخذ شدہ بتاریخ 09 ستمبر 2020.