فصاحت عربی لفظ ہے جس کے لغوی معنی ظاہر اور صاف ہونے کے ہیں۔ عربی زبان میں کہتے ہیں فَصَحَ الصبحُ=صبح ظاہر ہوئی۔ اَفْصَحَ الاَمرُ= معاملہ واضح ہو گیا۔ افصح اللبنُ=دودھ بے جھاگ ہو گیا۔

علمائے ادب نے فصاحت کی یہ تعریف کی ہے کہ لفظ میں جو حروف آئیں ان میں تنافر نہ ہو، الفاظ نامانوس نہ ہوں، قواعدِ صرفی کے خلاف نہ ہو۔ علم بیان کی اصطلاح میں ایسا کلام جو مقام اور حال کے مطابق ہو۔ کلام بلیغ میں فصاحت کا ہونا لازمی ہے، لیکن فصاحت کے لیے بلاغت لازمی نہیں ہے۔ گویا فصاحت اور بلاغت کے درمیان عموم و خصوص مطلق کی نسبت پائی جاتی ہے۔

بلاغت کی تعریف یوں بھی کی گئی ہے کہ ایسا کلام جس میں مخاطب کے سامنے وہی نکات بیان کیے جائیں جو اسے پسند ہوں۔ جو اس کو ناگوار محسوس ہوتے ہوں ان کو حذف کر دیا گیا ہو۔ زیادہ اہم باتوں کو پہلے بیان کیا گیا ہو اور کم اہمیت رکھنے والی باتوں کو بعد میں، نیز غیر ضروری باتوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہو۔