بیت صیدا کا نابینا

ایک دفعہ یسوع مسیح بیت صیدا پہنچے تو چند آدمی آپ کے پاس ایک اندھے کو لاکر درخواست کرنے لگے کہ آپ اسے بصارتِ چشم عطا فرمائیں۔ آپ اندھے کا ہاتھ پکڑ کر اسے گاؤں سے باہر لے گئے۔ پھر اپنی تھوک میں مٹی گیلی کر کے اس کی آنکھوں پر لگائی اور ہاتھ اس پر رکھ کر پوچھا "کیا تو کچھ دیکھتا ہے؟" اس آدمی نے نظر اٹھا کر کہا "میں آدمیوں کو دیکھتا ہوں کیونکہ وہ مجھے چلتے ہوئے ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے درخت۔" آپ نے ایک مرتبہ پھر اس کی آنکھوں پ رہاتھ رکھے اور اس کی بصارت  بحال ہو گئی یہاں تک کہ سب چیزیں صاف نظر آنے لگیں۔ آپ نے رخصت کرتے وقت اسے تاکید کی کہ "اس گاؤں کے اندر قدم بھی نہ رکھنا۔"[1]

یسوع کا بیت صیدا میں ایک اندھے کو بینائی دینا، مصور Carl Bloch

حوالہ جاتترميم

  1. انجیل شریف بہ مطابق مرقس باب 8 آیت 22 تا 26