1920ء میں گاندھی جی اور مولاناابوالکلام آزاد نے غیرملکی مال کے بائیکاٹ اورنان کوآپریشن (ترک موالات) کی تجویزپیش کی،یہ بہت کارگرہتھیار تھا، جواس جنگ آزادی اور قومی جدوجہدمیں استعمال کیاگیا، انگریزی حکومت اس کا پورا پورا نوٹس لینے پر مجبورہوئی اوراس کا خطرہ پیدا ہوا کہ پورا ملکی نظام مفلوج ہوجائے اورعام بغاوت پھیل جائے، آثار انگریزی حکومت کے خاتمہ کی کی پیشینگوئی کررہے تھے۔(ہندوستانی مسلمان،ص۱۵۷) اس تحریک کو تحریک عدم تعاون بھی کہا جاتا ہے،

ہندوستان میں ترک موالات کے اعلان کے بعد جس قوم نے سب سے پہلے اس میں حصہ لیا اور سب سے شدید اثر اس تحریک کا قبول کیا وہ مسلمان تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا محمد علی جوہر نے علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے اس تحریک میں شمولیت کی اپیل کی تو باوجود یونیورسٹی سے جذباتی لگاؤ اور جوش و خروش کے مسلمان طلبہ نے انگریزی پروفیسروں کا بائیکاٹ کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یونیورسٹی غیر معینہ عرصے کے لیے بند ہو گئی۔ اس کے مقابلے میں گاندھی جی نے سر توڑ کوشش کی کہ کسی طرح بنارس کی ہندو یونیورسٹی بند ہو جائے مگر مدن موہن مالوہ نے ان کی ایک نہ چلنے دی اور بالآخر انہیں بے نیل مرام واپس آنا پڑا۔

اسی طرح لاہور کے اسلامیہ کالج کو بند کرنے کی سر توڑ کوشش ہوئی۔ عبداللہ چغتائی ان دنوں کالج کے سٹاف میں شامل تھے۔ میاں فضل حسین جیسے مدیر سیکرٹری تھے اور علامہ اقبال جنرل سیکرٹری تھے۔ کالج میں طلبہ کا ایک خاص گروپ اس بات پر مصر تھا کہ کالج کو بند کر دیا جائے۔ حبیبیہ ہال کے جلسہ میں پروفیسر مظفر الدین قریشی اور طالب علم عبدالباری نے ایسی دھواں دھار تقریریں کی تھیں کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں بھی ایسی تقریریں نہیں ہوئی ہوں گی۔ یہ تمام تقریریں انگریزی زبان میں ہوئی تھیں جن میں انگریزوں کے خلاف اور ترک موالات کے حق میں پورا زور خطابت مقررین نے صرف کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ روزنامہ ’’ زمیندار‘‘ نے بھی ایک مقالہ افتتاحیہ سپرد قلم کیا جس میں اسلامیہ کالج کو غیرت دلائی گئی تھی کہ وہ بھی تحریک ترک موالات میں شامل ہو کر اتحاد ملی کا ثبوت دے۔ اس مقالہ افتتاحیہ کا عنوان یہ شعر تھا:

بر در مدرسہ تا چند نشینی حافظ

خیز تا از در میخانہ کشادی طلبیم

اس کا اثر یہ ہوا کہ کالج میں مکمل طور پر ہڑتال ہو گئی جس سے میاں فضل حسین سخت برہم ہوئے۔

پروفیسر خوجاہ عبدالحمید لکھتے ہیں:’’ نومبر 1920ء میں ہندوستان بھر میں تحریک عدم تعاون زوروں پر تھی۔ لاہور میں کانگریس کے کارکنوں کی خاص توجہ اسلامیہ کالج پر تھی۔ ہندو اور مسلمان اکابر لاہور میں جمع تھے اور ان کی ہدایات پر کانگریسی کارکنوں نے اسلامیہ کالج میں پڑھائی کا کام تقریباً نا ممکن بنا دیا تھا، یہاں تک کہ اسلامیہ کالج کا وجود معرض خطر میں پڑ گیا تھا۔ ڈاکٹر اقبال ان دنوں انجمن حمایت اسلام کے جنرل سیکرٹری تھے۔ چنانچہ ایک روز کالج کے چند پروفیسروں نے یہ فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان متضاد فتووں اور قرار دادوں کے متعلق، جن کی بارش ہر سمت سے کالج میں ہو رہی تھی، ان کی رائے دریافت کی جائے۔ ڈاکٹر صاحب ان دنوں انار کلی والے مکان میں رہتے تھے۔ ڈیڑھ دو گھنٹے تک تحریک عدم تعاون کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوتی رہی۔ معلوم ہوا کہ ابھی انہوں نے اس تحریک کی ضرورت اور اہمیت کے متعلق کوئی قطعی رائے قائم نہیں کی۔ گاندھی جی کی انہوں نے بہت تعریف کی اور جو کام وہ ہندو قوم کے لیے کر رہے تھے اسے مد نظر رکھتے ہوئے فرمانے لگے کہ کوئی تعجب نہ ہو گا اگر ہندوؤں کی آئندہ نسلیں انہیں اوتار تسلیم کر لیں، ظریفانہ انداز میں فرمانے لگے کہ جس قدر کام کالج میں ہو سکتا ہے، کرتے جاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کالج ٹوٹ جائے اور آپ لوگوں کو تلاش روزگار کی زحمت اٹھانا پڑے۔ بلکہ میرا مشورہ ہے کہ ایک وقت کا کھانا چھوڑ دو۔ میں نے بھی یہ کام شروع کر دیا ہے اور میری صحت پر اس کا بہت اچھا اثر پڑا ہے۔ اس پر ایک قہقہہ بلند ہوا اور سب لوگ سلام کر کے واپس آ گئے۔ ‘‘

جب تحریک ترک موالات میں شرک ہونے اور کالج کو بند کر دینے کا مطالبہ زور پکڑ گیا تو 1920ء میں انجمن حمایت اسلام کے زیر اہتمام مناظرانہ نوعیت کے ایک جلسے کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں تمام سرکردہ ارکان مثلاً میاں سر فضل حسین، شیخ عبدالقادر، علامہ اقبال اور مزنگ پارٹی نے شرکت کی۔ کل تیس ارکان اس مذاکرے میں شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور مولانا ابو الکلام آزاد کو بطور خاص اس جلسے میں مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے پورے زور شور سے ترک موالات کے حق میں تقریریں کیں۔ مولانا آزاد نے ترک موالات کے حق میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ مسلمانوں کے دشمن ہیں ان سے ترک موالات کرنا عین ایمان ہے۔ ان لوگوں کی طرف سے، جو ترک موالات کے حق میں نہیں تھے، خان بہادر شیخ عبدالقادر نے تقریر کی اور کہا کہ مسلمان پہلے ہی تعلیمی لحاظ سے خاصے پس ماندہ ہیں۔ اگر ترک موالات میں حصہ لے کر مسلمان طلبہ کو تعلیم سے محروم کیا گیا تو اس سے ہمیں ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ پھر مولانا محمد علی نے ایک طویل تقریر ترک موالات کے حق میں کی جس کے بعد ممبران کی تحریک سے ایک ریزولیوشن پیش کیا گیا۔ اس میں تحریر تھا کہ گورنمنٹ سے آئندہ کوئی مالی امداد نہ لی جائے اور یہ مالی بوجھ مسلمان قوم خود اٹھائے۔ نیز اگر طلبہ کثرت رائے سے منظور کر لیں تو کالج کا الحاق یونیورسٹی سے ختم کر دیا جائے۔

جب یہ ریزولیوشن پیش ہوا تو علامہ اقبال اور دوسرے تمام ہم خیال ارکان نے اس کی سخت مخالفت کی۔ کیونکہ سوال امدادکا نہیں تھا اور نہ ہی مالی امداد کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ اصل مسئلہ طلبہ کی تعلیم اور مستقبل کا تھا جو کالج بند ہونے سے یقینا خطرے میں پڑ جاتا۔

پروفیسر محمد مسعود احمد صاحب تحریکِ ترک موالات کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تحریک خلافت میں متوقع کامیابی کے بعد مسٹر گاندھی نے دوسرا قدم اٹھا یا اور 1920ء میں تحریکِ ترک موالات کا اعلان کر دیا ۔ 28؍ مئی 1920ءکو بمبئی میں خلافت کانفرنس کا اجلاس ہوا جس میں عدم تعاون کے اصول کو تسلیم کیا گیا۔2؍ جون 1920ءکو الٰہ آباد میں ایک اجلاس ہوا جس میں ہندو اور مسلمان راہنمائوں نے شرکت کی۔اس میں تحریک ترکِ موالات کی قرار داد اصولاً پاس کر دی گئی اور اس طریقہ کار کو مسٹر گاندھی کی صوابدید پر چھوڑدیا گیا۔اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی ترتیب دی گئی جو مندرجہ ذیل اشخاص پر مشتمل تھی

1) مسٹر گاندھی

2) مولانا محمد علی جوہر

3) مولانا شوکت علی

4) مسٹر کھتری

5) مولانا حسرت موہانی

6 ) ڈاکٹر کچلو

حوالہ جاتترميم