خالصتان کا پرچم

تحریک خالصتان بھارتی سکھ قوم کی بھارتی پنجاب کو، بھارت سے الگ کر کے ایک ؛آزاد سکھ ملک بنانے کی تحریک ہے۔ سکھ زیادہ تر بھارتی پنجاب میں آباد ہیں اور امرتسر میں ان کا صدر مقام ہے۔ 1980 کی دہائی میں میں خالصتان کے حصول کی تحریک زوروں پر تھی جس کو بیرون ملک مقیم سکھوں کی مالی اور اخلاقی امداد حاصل تھی۔ بھارتی حکومت نے آپریشن بلیو سٹار کر کے اس تحریک کو کچل ڈالا۔ کینیڈا میں مقیم سکھوں پر یہ الزام بھی لگا کہ انہوں نے بھارتی مسافر طیارہ اغوا کر کے تباہ کر دیا۔ دہشت پر جنگ کے آغاز کے بعد یہ طیارہ واقعہ کینیڈا اور مغربی ابلاغ میں خوب اچھالا گیا[1] جس کی وجہ سے بھارت سے باہر مقیم سکھ اب اس تحریک سے کنی کتراتے ہیں۔ لیکن جب سے مودی کی حکومت آئی ہے سکھوں کی اکثریت اب خالصتان کو بنانے کے لئے متحد ہوچکی ہے اور انہیں دنیا کے کئی ممالک ان کے ساتھ ہیں ٹھیک اس حقوق کی خاطر 2020 کے آخر میں ایک ریفرنڈم کروائیں گے جسے ریفرنڈم میں خالصتان کا جاتا ہے جو بھارت کے موجودہ صوبہ پنجاب اور ہریانہ میں کرایا جائے گا سکھ قوم کی اکثریت آباد ہے اور اس بات کا امکان ہے ستر سے اسی فیصد سکھ خالصتان کے حامی ہیں اس کے نتیجے میں صرف بھارت سے آزادی حاصل کرکے اپنا ایک الگ ملک قائم کرکے اپنی ایک الگ شناخت بحال کر سکتے ہیں اور ہندوؤں کے ظلم وستم سے نجات پا سکتے ہیں

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

بیرونی روابطترميم