تعدد ازواج قدیم زمانے سے شادی بیاہ سے جڑی چلی آ رہی ایک روایت ہے۔ اس کی رو سے ایک آدمی کئی عورتوں کے ساتھ بہ یک وقت شادی کر سکتا تھا۔ جب کہ عورتیں اس ایک آدمی کو اپنا خاوند مان کر زندگی گزارتی تھی۔ دنیا میں بہ یک وقت کئی بیویوں کی صورت میں انصاف قائم کرنے اور نہیں کرنے دوںون کے تعلق سے مساویانہ روایات موجود ہیں۔ خصوصًا بادشاہوں کے یہاں کئی بیویوں کی صورت میں ایک بیوی محل خاص تسلیم کی جاتی تھی، جب کہ دوسری بیویاں ثانوی درجے کی حامل ہوتی تھیں۔ عمومًا محل خاص ہی کی اولاد آگے چل کر محل پر قابض ہوتی تھی، جب کہ دیگر شہزادے تخت و تاج کے فیصلوں میں غیر اہم ہوتے تھے۔ دنیا میں تعدد ازواج کی تعداد کا ابھی کوئی تعین نہیں رہا تھا۔ کہیں کسی کی ہزاروں بیویاں رہی ہیں تو کہیں کسی کی دو یا تین۔ موجودہ دور میں مغربی ممالک میں تعدد ازواج ایک جرم ہے۔ جب کہ کئی عرب ممالک میں یہ رواج خاصا پھیلا ہوا ہے۔ حالانکہ لوگ دیگر مذاہب کے بر عکس صرف مسلمانوں میں تعدد ازواج کی روایت کا حوالہ دیتے ہیں، تاہم یہ روایت شاذ و نادر ہی مسلمانوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ کچھ مسلمان ممالک مثلًا ترکی اور الجزائر میں بھی یہ ایک قابل سزا جرم ہے۔

مزید دیکھیے

ترمیم


حوالہ جات

ترمیم