خواجہ توکل شاہ انبالوی سلسلہ نقشبندیہ کے معروف بزرگ ہیں۔

ولادت اور نسبترميم

سائیں توکل شاہ انبالوی موضع پکھو کے میں جو ضلع گورد اسپور میں موضع رتر چھتر اور ڈیرہ بابانانک کے درمیان واقع ہے۔ قریباً 1255ھ میں پیدا ہوئے۔ والدین کا سایۂ نہایت کم عمری میں سر سے اُٹھ گیا آپ کا کوئی اور بہن بھائی نہ تھا۔ آپ کے نانا صاحب میاں اللہ دین شاہ مست نے جو نو شاہی طریق کے ایک صاحب نسبت درویش تھے اس در یتیم کی پرورش کی۔ ۔[1]

نامترميم

آپ کے نام مبارک میں مختلف اقوال ہیں جناب مولوی حاجی سید ظہورالدین حضرت قبلہ سائیں توکل ایک روز ارشاد فرمانے لگے: ’’مولوی! ہمارا نام توکل شاہ نہ تھا، ہمیں خدا کی طرف سے یہ لقب عطا ہوا ہے۔‘‘ چنانچہ جناب مولوی سراج الدین احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ جو خطوط آپ کے نام آئے تھے۔ ان میں آپ کا نام مبارک سید توکل شاہ لکھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ لوگوں کو منع کردو، آیندہ مجھے سید نہ لکھیں، میں سید نہیں ہوں۔

بیعتترميم

آپ شمس العرفاں خواجہ قادر بخش کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ شمس العرفاں نے آپ کو اپنے سینہ مبارک سے لگاکر نسبت نقشبندیہ کا القاء کیا اور انوار لطائف سبعہ اور فیوض ولایات ثلاثہ وغیرہ سے مالا مال کر دیا۔ بعد دو ماہ یا کچھ کم و بیش اپنے پیر کی خدمت میں حاضر رہے۔ پھر انبالہ رہنے کی اجازت ہو گئی۔ اس لیے آپ انبالہ چلے آئے۔ مگر جب طبیعت چاہتی تو جہانخیلاں شریف چلے آتے۔ آخر کچھ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد شمس العرفاں نے آپ کو خلافت سے مشرف فرمایا۔

وفاتترميم

جب عمر 58سال کی ہوئی تو ماہ صفر 1315ھ میں وفات ہوئی۔

توکل کا مفہومترميم

ایک روز کسی نے آپ سے توکل کے معنی پوچھے، آپ نے فرمایا کہ توکل کے یہ معنی ہیں کہ مخلوق سے غنا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا جب یہ بات پک جاتی ہے تو توکل پختہ ہوجاتا ہے پھر اگر اسباب بھی مہیا کرے تو توکل کا ثواب مل جاتا ہے اور توکل کے خلاف نہیں ہوتا خواہ کتنے ہی اسباب مہیا کرے، مگر فقیروں کا توکل اور ہی ہے ان کا توکل اسباب کو توڑتا رہتا ہے جہاں کوئی سبب پیدا ہو انہوں نے فوراً اس کو توڑا تب ان کو توکل پختہ ہوتا ہے ماسوا سے امیدیں منقطع ہوکر ذات پر لگ جاتی ہیں۔[2]

حوالہ جاتترميم

  1. تذکرہ توکلیہ مولفہ مولوی نور احمد صاحب مرحوم۔ صفحہ نمبر 621۔
  2. ذکر خیر، خواجہ محبوب عالم صفحہ 294،بزم توکلیہ سیدا شریف پاکستان