جے وائی 27 اے ریڈار سسٹم

جے وائی 27 اے ریڈار سسٹم کی جسے دنیا کا سب سے جدید ترین ریڈار سسٹم مانا جاتا ہے۔ پاکستان میں جاسوس طیاروں کی موجودگی کا پتہ چلانے والا جدید ترین جے وائی 27 اے ریڈار سسٹم موجود ہے،جسے میانوالی کی ائیربیس پر نصب کیا گیا ہے۔ یہ ریڈار چائنہ الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن کا تیار کردہ ہے جو کہ ایک لانگ رینج سرویلنس اینڈ گائیڈنس ریڈار ہے۔ یہ ریڈار نہ صرف سٹیلتھ طیاروں کا سراغ لگا سکتا ہے بلکہ ان طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں کی رہنمائی بھی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے چینی فوجی حکام نے اس ریڈار کے متعلق بتایا کہ اسے زمین کے ساتھ ساتھ کسی گاڑی پر یا جنگی بحری بیڑے پر بھی نصب کیا جا سکتا ہے۔

ریڈار کا استعمال، ہوائی جہاز، پانی کے جہاز، موٹر گاڑیوں کی دوری، رفتار، اونچائی اور ان کی سِمت کا پتا لگانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ “رفلیکشن آف الیکٹرومیگنیٹک” لہروں کے اصولوں پر کام کرتا ہے.

ریڈار میں دو آلے ہوتے ہیں سینڈر اور رسیور،سینڈر رفلیکشن آف الیکٹرومیگنیٹک لہروں کو ٹارگٹ کرتا ہے جو اس سے ٹکرا کر واپس رسیور کو ملتی ہیں۔بھیجنے اور واپس ملنے کے درمیان کتنا وقت لگا اس کی بنیاد پر ہی طیارے کے فاصلے، اونچائی اور رفتار کے بارے میں پتا چلتا ہے۔

امریکی دفاعی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے اب دنیا کا جدید ترین ریڈار سسٹم حاصل کر لیا ہے جس کے بعد دنیا کا کوئی بھی جاسوس جنگی طیارہ اب پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ جے وائی 27 اے ریڈار سسٹم 500 کلومیٹر کے فاصلے سے بھی ایف 22 اور اس جیسے دیگر جاسوس طیاروں کی موجودگی کا پتہ چلا لیتا ہے۔

وینزویلا نے اپنے چینی ساختہ وائی جے 27 اینٹی سٹیلتھ ریڈار کی مدد سے اپنی سرحد کے قریب پرواز کرتے امریکی جدید ترین ایف 22 سٹیلتھ فائٹر جیٹ کو شناخت کرکے سرحد کے اندر آنے کی صورت میں بغیر وارننگ دیئے مارگرانے کی دھمکی دے دی تھی۔اب یہ ریڈار سسٹم پاکستان ایئرفورس کے بھی زیر استعمال ہے۔

مزید دیکھیےترميم