حمیدالدین کرمانی

آپ اسماعیلی مذھب اور حضرت امام حاکم بامراللہ علیہ السلام کے دورکے عظيم امرتبت اور نامور فلسفی داعی تھے۔دوسرے اسماعیلی داعیوں کی طرح آپ کی ابتدائی ذندگی کےحالات بھی پردۂ اخفا میں ہیں۔ آپ کی تعلیم کے بارے میں اتنا معلوم ہوا ہے ۔ کہ آپ نے پہلے مشہور فلسفی داعی سیدنا ابو یعقوب الجستانی سے اسماعیلی حقائق اور فلسفے کی تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد مزید تعلیم اور فیض حاصل کرنے کے لئے قاہرہ تشریف لے گئے ۔جہان آپ نے شریعت و حکمت کے علوم پر عبور حاصل کیا اور دعوت کے مدارجِ عالیہ طے کرکے اوجِ کمال پر پہنچے ۔چنانچہ آپ کو اس علمیت اور قابلیت کے پیش نظر میسوپوٹومیا اور شمال مغربی ایران یعنی عراق عرب اور عراق عجم دونوں میں حجت جزیرہ کے مرتبے پر فائز کیاگیا۔ اسی لئے آپ حجتہ العراقین کے لقب سے مشہور ہوۓ۔ آپ اکثر بغداد اور بصرہ میں نقل مکانی کرتے اور اسماعیلی مذھب کی تبلیغ و اشاعت کے لئے مجالس الحکمتہ منعقد کیا کرتے تھے۔ اور آپ ہی کوششوں سے دعوت کوزبردست فروغ حاصل ہوا۔یہان تک کہ موصل کے عقیلی امراء نے بھی اسماعیلی مذھب قبول کیا۔ اور الجھ 401ھ ! 1010ء میں معتمدالدولہ قرواش بن مقلد العقیلی نے موصل ،انبار؛ مدائن ؛ اور کوفہ میں حضرت امام حاکم بامراللہ علیہ السلام کے نام کاخطبہ جاری کیا۔ جہان پہلے عباسی خلیفہ کے نام کاخطبہ پڑھایا جاتا تھا۔ پھر 408ھ! 1017ء میں امام حاکم علیہ السلام نے آپ کو قاہرہ بلوایا کیونکہ یہان دعوت کے کام میں کچھ روکاوٹیں پیدا ہوگئی تھیں۔اور کچھ عرصے کے لئے امام علیہ السلام کو درالحکمتہ بند کرنا پڑا تھا۔(درالحکمت ایک الگ ادارہ تھا جو مذھبی حقیقی تعلیمات پر سرچ کرتا تھا) چنانچہ آپ قاہرہ آۓ اور پھر سے درالحکمتہ کو کھولاگیا۔اور آپ کے رئیس (صدر) مقررہوۓ۔ آپ نےدرالحکمتہ میں مختلف موضوعات پر لیکچر دیئے اور داعیوں اور عام لوگوں میں امامت کی حقیقت کو سمجھنے میں جو اختلاف پیدا ہوگئے ان کو دور کرنے کے لئے بہت سی کتابیں اور رسالے لکھے۔ اسماعیلی دعوت میں آپ ایک منفرد مقام اور حیثیت کے مالک تھے۔آپ کی تعریف میں بہت سے داعیوں نے اپنے خیالات کااظہار کیاہے۔داعی ادریس لکھتے ہیں۔ کہ داعی ۔حمیدالدین احمدبن عبداللہ دعوت کی وہ بنیاد ہیں۔جس پر اس کی شاندار عمارت قائم ہے۔ اس کے زریعے دعوت کوشہرت حاصل ہوئی۔اس کا مینار سیدھا کھڑا رہا۔ اس کے زریعے مشکلات حل ہوئیں۔ اسی طرح شامی داعی سید نور احمد لکھتے ہیں۔کہ اگر اسماعیلی دعوت سیدنا کرمانی کے علاوہ کسی اور کو پیدا نہ بھی کرتی تو بھی آپ تن تنہااس کی فخر وبزرگی کے لئے کافی ہیں۔

وفاتترميم

آپ نے 408ھ/ 1017ء یا 411ھ/ 1020ء میں وفات پائی۔

تصنیفاتترميم

داعی ادریس نے سیدنا کرمانی کی تصنیفات کی کل تعداد 39 بتائی ان کتابوں میں سے بعض تومحفوظ ہوچکی ہیں۔اور بعض مطبوعات یا مخطوطات کی صورت میں ابھی تک دستیاب ہیں۔آپ کی تمام تر تصنیفات اسماعیلی مذھب کی حقانیت کے اسباب اور معترضین کے اعتراضات کے رد میں ہیں۔اور بالخصوص اسماعیلی حقائق پر آپ کی جوکتابیں ہیں۔وہ اسماعیلی دعوت میں نہایت ہی اہمیت کی حامل ہیں۔ان میں سے چند مشہور کتاب یہ ہیں۔ راحتہ العقل۔ کتاب الریاض ۔ المصابیح فی اثبات الامہ۔۔ تنبیہہ الہادی ۔الاقوال الذہبیتہ۔۔الرسالتہ الواعظہ وغیرہ[1]

حوالہ جاتترميم

  1. ۔۔۔۔۔۔۔اسماعیلی ویب سائیٹ سے تاریخ دیکھنے کیلئے۔http://www.ismaili.net/heritage/node/10359