حکمت کی کتاب دوسری صدی قبل از مسیح میں یونانی زبان میں لکھی گئی اور سیدنا شاہ سلیمان سے منسوب ہے۔ یونانی ثقافت اور حکمت کا مقابلہ کرتے ہوئے یہودیوں نے یہ کتاب تحریر کی۔ اس کتاب میں حکمت کی فضیلت، اسے حاصل کرنے کے وسائل اور اس کے عمدہ اِثمار کا بیان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام نیکیاں عدل اور حکمت میں شامل ہیں۔ زندگی، معاشرت، فطرتّ، کائنات اور الٰہی حکمت کتاب کے موضوعات ہیں۔ کاتھولک اس کتاب کو الہامی مانتے ہیں کیونکہ اس کی چند آیات کا عہد جدید میں اور خصوصاً پولس کے خطوط میں ذکر پایا جاتا ہے۔ اس کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ (ابواب 1–11) ”عدل و انصاف کی جزاء اور حکمت کے لیے دعا“ کہلاتا ہے اور دوسرے حصے (ابواب 12–19) کو ”الٰہی پروردگاری“ کہا جاتا ہے۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. کلام مقدس کا عہد عتیق و جدید، مغربی پاکستان کے اسقف صاحبان کی ہدایت و اجازت سے بمطابق اصلی متن ترجمہ مُصَحَّحَہ مطبُوعہ سوسائٹی آف سینٹ پال روما 1957ء