"امیتابھ بچن" کے نسخوں کے درمیان فرق

حذف شدہ مندرجات اضافہ شدہ مندرجات
1 مآخذ کو بحال کرکے 0 پر مردہ ربط کا ٹیگ لگایا گیا) #IABot (v2.0.7
4 مآخذ کو بحال کرکے 0 پر مردہ ربط کا ٹیگ لگایا گیا) #IABot (v2.0.7
سطر 30:
 
[[فائل:AmitabhAnand70.jpg|تصغیر|بائیں|250px|امیتابھ فلم ''آنند'' میں]]
امیتابھ کی اداکاری کا سفر 1969ء میں فلم ''سات ہندوستانی'' سے ہوا، جس کے ہدایت کار خواجہ احمد عباس اور ساتھی اداکاروں میں اتپل دت، مدھو اور جلال آغا شامل تھے۔ گو کے فلم باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی مگر بچن کو ''بہترین نوارد اداکار'' کا پہلا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔<ref name="First national award">{{cite web |work=''India Times'' |title=امیتابھ کا پہلا نیشنل فلم ایوارڈ|url=http://movies.indiatimes.com/articleshow/1905623.cms|access-date=2009-01-25|archive-date=2007-10-13|archive-url=https://web.archive.org/web/20071013222608/http://movies.indiatimes.com/articleshow/1905623.cms|url-status=dead}}</ref>
 
اس کے بعد 1971ء میں ''آنند'' آئی جو کاروباری لحاظ سے کامیاب اور تنقید نگاروں میں بہت سراہی گئی۔ اس فلم میں بچن نے [[راجیش کھنا]] کے برابر ایک ڈاکٹر کا کردار ادا کیا اور اس کے لیے انہیں فلم فیئر بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا۔ اسی سال ''پروانہ'' لگی، اس فلم میں انہوں نے نوین نشچل، یوگیتا بالی اور [[اوم پرکراش]] کے مخالف دیوانے عاشق کا کردار ادا کیا، ایسے منفی کردار میں امیتابھ کو کم ہی دیکھا گیا۔ اس کے بعد ان کی کئی فلمیں باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکیں جن میں 1971ء میں لگنے والی فلم ''ریشماں اور شیرا'' بھی شامل ہے۔ اس دوران میں انہوں نے فلم ''[[گڈی]]'' میں مہمان اداکار کے طور پر کام کیا، اس فلم کے دیگر اداکاروں میں ان کی مستقبل کی شریکِ حیات [[جیا بچن|جیا بہادری]] اور [[دھرمیندر]] شامل ہیں۔ اپنی بھاری آواز کی وجہ سے انہوں نے فلم ''باورچی'' کے ایک حصّہ کو بیان کیا۔ 1972ء میں انہوں نے سفر پر مبنی مزاحیہ سنسنی خیز فلم ''[[بمبئی ٹو گوا]]'' میں کام کیا جس کی ہدایتکاری [[ایس۔ راماناتھن]] نے کی۔ فلم کے دیگر اداکاروں میں [[ارونا ایرانی]]، [[محمود علی|محمود]]، [[انور علی]] اور [[ناصر حسین]] شامل تھے۔
سطر 43:
1975ء میں انہوں نے مختلف موضوعات کی فلموں میں کام کیا جن میں مزاحیہ فلم ''چپکے چپکے ''، جرم کی داستان ''فرار'' اور رومانوی داستان ''ملی'' شامل ہیں۔ اسی سال ان کی دو اور فلمیں پردے پر لگیں جنہیں ہندی سنیما کی تاریخ میں اہم مقام حاصل ہوا۔ ان میں پہلی [[یش چوپڑا]] کی ''دیوار'' جس میں بچن نے ششی کپور، [[نیروپا رائے]] اور [[نیتو سنگھ]] کے مخالف کام کیا، اس فلم میں اپنے کام کے لیے وہ فلم فیئر برائے بہتریں معاون اداکار کے لیے نامزد ہوئے۔ دیوار 1975ء کے سال میں باکس آفس کی بہترین فلموں میں شمار ہوئی اور اس کو چوتھا درجہ ملا۔<ref>{{cite web |url=http://www.boxofficeindia.com/showProd.php?itemCat=181&catName=MTk3NQ== |title=باکس آفس 1975|work=BoxOffice India.com|archiveurl=http://archive.is/TjXa|archivedate=2012-07-20}}</ref> ''انڈیا ٹائمز موویز'' نے دیوار کا شمار ''بالی وڈ کی پچیس دیکھنے لائق فلموں '' میں کیا۔ اس کے بعد 15 اگست 1975ء میں ''شعلے '' ریلیز ہوئی، جو اس وقت بھارت کی تاریخ میں سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی فلم بنی۔ اس فلم کی کل کمائی 2,364,500,000 Rs برابر $60 ملین (افراطِ زر کے بعد) کے لگ بھگ تھی۔<ref name=boxoffice>{{cite web |title=شعلے |url=http://www.ibosnetwork.com/asp/filmbodetails.asp?id=Sholay |publisher=International Business Overview Standard}}</ref> بچن نے اس فلم میں جے دیو کا کردار ادا کیا اور ان کے مخالف بھارتی فلم صنعت کے بڑے اداکاروں نے کام کیا۔ ان میں اداکار [[دھرمیندر]]، [[ہیما مالینی]]، [[سنجیو کمار]]، [[جیا بچن|جیا بہادری]] اور [[امجد خان]] شامل تھے۔ 1999ء میں بی۔ بی۔ سی۔ انڈیا نے فلم شعلے کو ''صدی کی بہترین فلم'' قرار دی۔<ref name="mustsee">{{cite web|title=بالی وڈ کی پچیس دیکھنے لائق فلم|date=اکتوبر 3, 2005|url=http://movies.indiatimes.com/Special_Features/25_Must_See_Bollywood_Movies/articleshow/msid-1250837,curpg-10.cms|publisher=انڈیا ٹائمز موویز|archiveurl=https://web.archive.org/web/20181224230303/http://movies.indiatimes.com/Special_Features/25_Must_See_Bollywood_Movies/articleshow/msid-1250837,curpg-10.cms%20|archivedate=2018-12-24|access-date=2009-01-25|url-status=dead}}</ref> فلم دیوار کیطرح ''انڈیا ٹائمز موویز'' نے شعلے کو ''بالی وڈ کی دیکھنے لائق پچیس فلموں '' کی فہرست میں شامل کیا۔ اسی سال پچاسویں سالانہ فلم فیئر ایوارڈز میں ججوں نے اسے ''فلم فیئر نصف صدی کی بہترین فلم'' کے خاص اعزاز سے نوازا۔
 
شعلے کی کامیابی کے بعد بچن بالی وڈ کی بلندیوں کو چھونے لگے اور 1976ء سے 1984ء کے درمیان میں انہیں کئی فلم فیئر ایوارڈ اور نامزدگیاں ملیں، گو کہ فلم شعلے میں ان کا کردار ماردھاڑ سے بھرا ہوا تھا مگر انہیں نے ہر قسم کے کردار میں خود کو انتہائی خوبی سے نبھا کر اپنا لوہا منوایا، جیسے فلم ''[[کبھی کبھی]]'' (1976ء) میں ان کا رومانوی اور فلم ''[[امر اکبر اینتھونی]]'' (1977ء) اور ''[[چپکے چپکے]]'' (1975ء) میں ان کا مزاحیہ کردار ان کی اداکارانہ صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 1976ء میں ایک بار پھر ہدایتکار یش چوپڑا کی فلم کبھی کبھی میں نظر آئے، یہ ایک رومانوی داستان ہے جس میں امیتابھ ایک نوجوان شاعر کا کردار کرتے ہوئے ایک خوبصورت دوشیزہ پوجا کے عشق میں گرفتار ہو جاتے ہیں، پوجا کا کردار [[راکھی گلزار]] نے ادا کیا۔ اس فلم کے دل پگھلا دینے والے مکالموں اور جذبات کو چھوتے موضوع نے امیتابھ کو ایک نئے روپ میں عوام کے روبرو پیش کیا۔ اس فلم کے لیے ایک بار پھر بچن کو فلم فیئر میں بہتریں اداکار کی ایک اور نامزدگی دلائی۔ 1977ء میں ''امر اکبر اینتھونی'' کے لیے انہیں فلم فیئر برائے بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا، فلم میں امیتابھ [[ونود کھنا]] اور [[رشی کبور]] کے مقابل اینتھونی گونسالوز کا کردار کرتے نطر آئے۔ 1978ء کا سال بغیر کسی شک کے ان کے سامنے اعزازات کا ڈھیر لگ گیا، اس سال ان کی چاروں فلمیں سب سے زیادہ کاروبار کرنے کی فہرست میں سب سے اوپر رہیں۔<ref>{{cite web |work=ibosnetwork.com |title=1978 باکس آفس پر بچن تاریخی سال|url=http://www.ibosnetwork.com/asp/topgrossersbyyear.asp?year=1978}}</ref> فلم ''[[قسمیں وعدے]]'' میں انہوں نے ا مِت اور شنکر کا دوہرا کردار ادا کیا اور ''[[ڈان]]'' میں ڈان اور ان کے ہمشکل وجے کا کردار کرتے نظر آئے۔ فلم ڈان کے لیے انہیں ایک اور فلم فیئر برائے بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا، اس کے علاوہ فلم ''[[تریشول]]'' اور ''[[مقدر کا سکندر]]'' میں ان کی اداکاری کو ناقدین نے بیحد سراہا اور ان دونون فلموں میں انہیں فلم فیئر برائے بہترین اداکار کی نامزدگی ملی۔ فرانسیسی ہدایتکار [[w:François Truffaut|فرانکوئس ٹروفاؤٹ]]<ref>{{cite web | work=China Daily | title= ٹروفاٹ نے بچن کو یک فرد صنعت قرار دیا | url=http://app1.chinadaily.com.cn/star/history/00-07-07/l03-film.html | access-date=2009-01-25 | archive-date=2008-02-01 | archive-url=https://web.archive.org/web/20080201030338/http://app1.chinadaily.com.cn/star/history/00-07-07/l03-film.html | url-status=dead }}</ref> نے ان کی کامیابیوں اور اعزازات کے لیے ”یک فرد صنعت“ لے لقب سے نوازا۔
 
[[فائل:AmitabhRekhaSilsila.jpg|تصغیر|دائیں|امیتابھ اور ریکھا سلسلہ میں]]
سطر 64:
=== اداکاری سے وقتی سبکدوشی 1988-1992ء ===
 
1988ء میں امیتابھ نے فلم ''[[شہنشاہ]]'' سے دوبارہ اداکاری میں قدم رکھا۔ امیتابھ کی واپسی کی خبروں کی وجہ سے یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ہوئی۔<ref>{{cite web |url=http://www.boxofficeindia.com/cpages.php?pageName=top_actors&PHPSESSID=cfa06e3b5a051913d58987e99cd292ae |work=www.boxofficeindia.com/topactors.htm |title=چوٹی کا اداکار|archiveurl=http://archive.is/Gkda|archivedate=2012-07-20}}</ref> مگر اس کے بعد کی فلمیں امیتابھ کو ان کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے میں ناکام رہیں۔ 1991 میں ''[[ہم]]'' کی کامیابی سے لگنے لگا کے شاید امیتابھ کی کامیاب واپسی ممکن پے مگر ایس نہ ہو سکا اور ان کی فلمیں باکس آفس پر ناکام ہوتی رہیں۔ کامیاب فلموں کی کمی کے باوجود 1990ء میں فلم ''[[اگنی پتھ]]'' میں مافیا ڈان کا کردار ان کو دوسرا نیشنل فلم ایوارڈ دلا گیا۔ یہ ان کے بڑے پردے پر آخری دن تھے۔ 1992ء میں ''[[خدا گواہ]]'' کے بعد امیتابھ نے پانچ سال کے لیے اداکاری سے سبکدوشی اختیار کرلی اور 1994 میں ان کی تاخیر سے لگنے والی فلم ''[[انسانیت]]'' بھی ایک ناکامی ثابت ہوئی۔<ref name=" باکس آفس 1994">{{cite web |url=http://www.boxofficeindia.com/showProd.php?itemCat=200&catName=MTk5NA== |work=باکس آفس انڈیا |title=باکس آفس 1994 |archiveurl=httphttps://web.archive.isorg/DJmrweb/20130107074858/http://www.boxofficeindia.com/showProd.php?itemCat=200 |archivedate=20122013-01-07 |access-20date=2009-01-25 |url-status=dead }}</ref>
 
=== پیش کاری اور اداکاری میں واپسی 1996–1999 ===
سطر 84:
مئی 2007ء میں ان کو دو فلمیں ''[[چینی کم]]'' اور ''[[شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا]]'' ریلیز ہوئیں۔ شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا نے باکس آفس پر کافی اچھی کارکردگی دکھائی مگر چینی کم کو درمیانہ درجہ کا کاروبار کرسکی۔<ref name="udxlrh">{{cite web|url=http://www.boxofficeindia.com|title=باکس آفس انڈیا|archiveurl=https://web.archive.org/web/20181224230305/https://www.boxofficeindia.com/|archivedate=2018-12-24|access-date=2009-01-25|url-status=live}}</ref>
 
اگست 2007ء میں ان کی فلم شعلے کی کاپی ''[[رام گوپال ورما کی آگ]]'' زبردست بریقے سے ناکام ہوئی اور مبصروں سے بھی اسے کافی بری تنقید ملی۔ ان کی پہلی انگریزی فلم [[رتو پارنو گھوش]] کی ''[[دی لاسٹ ایئر]]'' کا 9 ستمبر2007ء میں [[ٹورونٹو]] فلم میلہ میں پریمیئر ہوا۔ اس فلم کو تنقید نگاروں نے بلیک کے بعد ان کی بہترین فلم قرار دیا۔<ref>{{cite web|url=http://www.bollywoodhungama.com/features/2007/09/11/3020|title=بلیک کے بعد امیتابھ کی بہترین کارکردگی|archiveurl=https://web.archive.org/web/20181224230320/http://www.bollywoodhungama.com/news/features/check-out-hot-and-sexy-amy-jackson/|archivedate=2018-12-24|access-date=2009-01-25|url-status=live}}</ref> ہدایت کار [[میرا نائر]] کی فلم ''[[شانتا رام]]'' امیتابھ کی پہلی بین الاقوامی فلم ہو گی، فلم میں [[ہالی وڈ]] کے مشہور اداکار [[جونی ڈیپ]] بھی ہیں۔<ref name="ہالی وڈ">{{cite web |work=ourbollywood.com |title=امیتابھ جونی ڈیپ کے مقابل اداکاری کریں گے |url=http://www.ourbollywood.com/2007/02/amitabh_bachchan_will_star_opp.html |access-date=2009-01-25 |archive-date=2007-04-01 |archive-url=https://archive.today/20070401195932/http://www.ourbollywood.com/2007/02/amitabh_bachchan_will_star_opp.html |url-status=dead }}</ref>
 
== اعزازات ==