"ببر شیر" کے نسخوں کے درمیان فرق

حذف شدہ مندرجات اضافہ شدہ مندرجات
Add 1 book for verifiability (20210503)) #IABot (v2.0.8) (GreenC bot
7 مآخذ کو بحال کرکے 0 پر مردہ ربط کا ٹیگ لگایا گیا) #IABot (v2.0.8
سطر 190:
اگرچہ ببر شیر عام حالات میں انسانوں کا شکار کرتے ہیں لیکن بعض بالخصوص نروں کو کبھی اس کی لت پڑ جاتی ہے۔ اس متعلق مشہور شائع ہونے والا ایک واقعہ 1898ء میں ظہور پزیر ہوا جس میں دو ببر شیروں نے کینیا یوگینڈا ریلوئے لائن پر کام کرنے والے مزدوروں پر حملے کیے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ببر شیر نے 28 افراد نو ماہ کے تعمیراتی دور میں ہلاک کیے۔ <ref name=Patterson>{{cite book | last = Patterson |first=Bruce D. | year = 2004 | title = The ببر شیرs of Tsavo: Exploring the Legacy of Africa's Notorious Man-Eaters | publisher = McGraw-Hill | isbn = 0-07-136333-5}}</ref> جس شکاری نے ان کا شکار کیا اس نے ان [[آدم خور]] ببر شیروں کی خصوصیات بڑی تفصیل سے لکھی ہیں وہ لکھتا ہے کہ ان کے بال نہ تھے اور وہ عام ببر شیروں سے جسامت میں کافی بڑے تھے اور بعض دانت بھی ٹوٹے ہوئے تھی کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹوٹے دانت ببر شیر کو آدم خوری پر مجبور کرتے ہیں لیکن یہ بات ماہرین کے نزدیک درست نہیں ان کے نزدیک انسانی آبادی کا شیروں کے علاقوں میں آباد ہونا ہی اس کی صحیح وجہ ہے۔ <ref>{{Cite journal |last=Patterson |first=Bruce D. |author2=Neiburger, Ellis J.|author3=Kasiki, Samuel M. |date=فروری 2003 |title=Tooth Breakage and Dental Disease as Causes of Carnivore–Human Conflicts |journal=Journal of Mammalogy |volume=84 |issue=1 |pages=190–96|doi=10.1644/1545-1542(2003)084<0190:TBADDA>2.0.CO;2}}</ref>
 
تساو اور عام آدم خور ببر شیروں کے مطالعہ کرنے والے ماہر لکھتے ہیں کہ بیمار یا زخمی ببر شیروں کے آدم خوری کی جانب مائل ہونے کے زیادہ امکانات رہتے ہیں۔ لیکن یہ رویہ کوئی غیر معمولی یا حقائق سے ہٹ کر نہیں ہے جہاں ببر شیر کو پالتو مویشی یا انسانی آبادی پر حملے کا موقع ملتا ہے وہ ایسا کرتا ہے اس کے ثبوت پرائمیٹ اور پینتھرائن خاندان کے رکازیاتی علوم سے ملتے ہیں۔ <ref>{{Cite journal |url=http://www.man-eater.info/gpage6.html |archiveurl=https://web.archive.org/web/20071030031426/http://www.man-eater.info/gpage6.html |archivedate=30 اکتوبر 2007 |accessdate=7 جولائی 2007 |last=Peterhans |first=Julian C. Kerbis |author2=Thomas Patrick Gnoske |title=The Science of Man-eating | journal = Journal of East African Natural History | volume = 90 | issue = 1&2 | year = 2001 | pages = 1–40 |doi=10.2982/0012-8317(2001)90[1:TSOMAL]2.0.CO;2 }} {{wayback|url=http://www.man-eater.info/gpage6.html |date=20071030031426 }}</ref>
[[فائل:Lionsoftsavo2008.jpg|تصغیر|تساوو کے آدم خوروں کی تصویر، شکاگو]]