"کفر" کے نسخوں کے درمیان فرق

3,826 بائٹ کا اضافہ ،  4 سال پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
 
ان جیسی اور بہت سی آیات میں کفر ایمان کا مقابل ہے جس کے معنی ہیں بے ایمان ہوجانا، اسلام سے نکل جانا ۔ اس کفر میں ایمان کے مقابل تمام چیزیں معتبر ہوں گی یعنی جن چیزوں کا ماننا ایمان تھا ان میں سے کسی کا بھی انکار کرنا کفر ہے ۔ لہٰذا کفر کی صدہا قسمیں ہوں گی ۔ خدا کا انکار کفر، اس کی تو حید کا انکا ر یعنی شرک یہ بھی کفر، اسی طر ح فرشتے،دوزخ وجنت، حشر نشر ، نماز ، روزہ،قرآن کی آیتیں،غرضیکہ ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے ۔ اسی لئے قرآن شریف میں مختلف قسم کے کافروں کی تردید فرمائی گئی ہے جیسا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ شرک کی بحث میں آوے گا۔
 
*'''[[حقیقتِ کفر]]'''
 
جیسے کہ صدہاچیزوں کے ماننے کا نام ایمان تھا لیکن ان سب کا مدار صرف ایک چیز پر تھا یعنی پیغمبر کوماننا کہ جس نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کما حقہ مان لیا ۔ اس نے سب کچھ مان لیا ۔ اسی طر ح کفر کا مدار صرف ایک چیز پر ہے یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاانکار، ان کی عظمت کا انکار ، ان کی شان اعلی کا انکار ، اصل کفر تو یہ ہے باقی تمام اس کی شاخیں ہیں مثلا جورب کی ذات یا صفات کاانکار کرتا ہے وہ بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے کہ حضور نے فرمایا : اللہ ایک ہے۔ یہ کہتا ہے کہ دو ہیں۔اسی طر ح نماز، رو زہ وغیرہ کسی ایک کا انکار درحقیقت حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاانکار ہے کہ وہ سر کار فرماتے ہیں کہ یہ چیزیں فرض ہیں۔وہ کہتا ہے کہ نہیں۔ اسی لئے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ادنی توہین ،ان کی کسی شے کی توہین، قرآنی فتوے سے کفر ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
 
(1) وَیَقُوۡلُوۡنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿۱۵۰﴾ۙ ۙاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوۡنَ حَقًّا
 
'''اور وہ کفار کہتے ہیں کہ ہم پیغمبر وں پر ایمان لائینگے اور بعض کا انکار کریں گے اور چاہتے ہیں کہ ایمان وکفر کے بیچ میں کوئی راہ نکالیں یہی لوگ یقینا کا فر ہیں'''(<ref>پ6،النسآء:150۔151)</ref>
 
(2) وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾
 
'''کافروں ہی کے لئے درد ناک عذاب ہے۔'''<ref>(پ1،البقرۃ:104)</ref>
 
(3) وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۱﴾
 
'''اور جو لوگ رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان ہی کے لئے دردناک عذاب ہے ۔'''<ref>(پ10،التوبۃ:61)</ref>
 
یعنی صرف کافر کو دردناک عذاب ہے اور صرف اسے درد ناک عذاب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا دے ۔لہٰذا پتا لگا کہ صرف وہ ہی کافر ہے جو رسول کو ایذادے اور جو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت واحترام ، خدمت ، اطاعت کرے وہ سچا مومن ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
 
وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَہَاجَرُوۡا وَجٰہَدُوۡا فِی سَبِیۡلِ اللہِ وَالَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۷۴﴾
 
'''اورجوایمان لائے اورانہوں نے ہجرت کی اوراللہ کی راہ میں جہادکیااوروہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ سچے مسلمان ہیں ان کیلئے بخشش ہے اور عزت کی روزی ۔'''<ref>(پ10،الانفال:74)</ref>
 
 
 
 
21

ترامیم