"حیات" کے نسخوں کے درمیان فرق

1 بائٹ کا ازالہ ،  4 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
 
{{ضم|حیات (مقالہ ثانی)}}
<big>نظریات</big>* کرہ ارض پر زندگی کا آغاز تقریباً تین ارب اسی [[کروڑ]] سال پرانا ہے۔ یہ آغاز کیسے ہوا یہ بھی ایک سوال ہے ۔ہے۔ جس کا حتمی جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ مذہبی مفکرین سے لے کر سائنس دانوں تک سب اہل دانش نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ زندگی کے بارے پیلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ زندہ شے خود بخود براہ راست بے جان چیزوں سے جنم لیتی ہے۔ جیسے مثلاً شوربہ خراب ہو کر جراثیم کو جنم دیتا ہے یا گوشت گل سڑ کر کیڑوں کو۔ اس نظریہ کی تردید سترھویں صدی عیسویں میں اٹلی کے سائنس دان فرانسکو ریڈی نے عملی ثبوت مہیاکر کے کی۔ اس نے ثابت کیا کہ کیڑے گوشت کے اندر سے جنم نہیں لیتے، بلکہ اس پر مکھیوں کے دیے گئے انڈوں سے جنم لیتے ہیں۔ اس نظریہ کے حامی یہ ثابت نہیں کر سکے کہ کوئی ایسی چیز جس کے اندر زندہ خلیے نہ ہوں، کیوں کر زندہ خلیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ * ایک اور دلچسپ نظریہ یہ بھی پیش کیا گیا کہ زمین پر زندگی ستاروں پر سے آئی ہے۔ اس نظریہ کے مشہور مبلغ ایرک وان ڈینی گن ہیں۔ ان کا موقف یہ کہ لاکھوں سال پہلے کوئی مخلوق ( دیوتا ) کسی
دوسرے سیارے سے زمین پر آئی، اس نے انسان کو جنم دیا اور واپس چلی گئی۔ اس نے بے شمار سائنسی اور اثری شواہد سے اپنے نظریہ کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مگر زندگی کو یا صرف نسل انسانی کو جو کسی سیاروں پر سے آئی ہوئی چیز ثابت کرنے والے مبلغ اس بابت خاموش ہیں کہ اس دوسرے سیارے پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا ۔* اس طرح ایک [[نظریہ]] اور بھی ہے جو خصوصی تخلیق کا نظریہ کہلاتا ہے۔ اس کے مطابق روئے زمین پر کروڑوں جانداروں کی قسمیں اپنی اپنی جگہ اسی طرح کسی مافوق الفطرت طاقت یا طاقتوں نے پیدا کیں ہے۔ کسی ایک خالق نے یا ان گنت دیوی دیوتاؤں نے پیدا کیں ہیں۔ یہ سب قسمیں اپنی جگہ غیر مبتدل اور متعین ہیں اور باہمی رشتہ اور تعلق نہیں رکھتی۔ یعنی ہر قسم اپنی اپنی جگہ ہمیشہ کے لیے قائم ہے اور اس میں تبدیلی کی گنجائش یا امکان نہیں ہے۔ اس نظریہ کے حامی بعض بڑے بڑے اور قابل سائنس دان بھی رہے ہیں۔
تاہم سائنس کی نت نئی تحقیقات اور ان پر زبردست تنقید کے نتیجے میں روز بروز جو صداقت زیادہ قوت سے سامنے آئی ہے وہ ارتقا کا نظریہ ہے۔ یعنی زندگی مادے کے اندر موجود اجتماع ضدین کے درمیان باہمی کشمکش کی حرکت کے نتیجے میں ظاہر ہوئی ہے۔ ظہور زندگی کا سبب مادے کے اندر موجود ہے اور مادے کے اربوں سالوں پر پھیلے ارتقا کے نتیجے میں زندگی ظہور آئی ہے ۔