"بلھے شاہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

25 بائٹ کا اضافہ ،  3 سال پہلے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
 
== ابتدائی زندگی ==
بلھے شاہ کا اصل نام عبد اللہ شاہ ہے۔<ref>[http://www.apnaorg.com/poetry/bullahn بلھے شاہ کی زندگی]</ref>آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 3 مارچ 1680ء (1091ھ) میں [[مغلیہ سلطنت]] کے عروج میں [[اچ|اوچ گیلانیاں]] میں پیدا ہو ئے۔<ref>[https://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/hazrat-baba-bulleh-shah بلھے شاہ کی زندگی کے بارے میں معلومات]</ref>۔ کچھ عرصہ یہاں رہنے کے بعد [[قصور]] کے قریب پانڈومیں منتقل ہو گئے۔ان کے والد صاحبسخی شاہ محمد درویش مسجد کے امام تھے اور مدرسے میں بچوں کو پڑھاتے تھے۔ بلّہے شاہ نے والد سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد قصور جا کر قرآن، حدیث، فقہ اور منطق میں [[اعلیٰ تعلیم]] حاصل کی۔ [[قرآن]] ناظرہ کے علاوہ گلستان بوستان بھی پڑھی اور منطق، نحو، معانی، کنز قدوری،شرح وقایہ، سبقاء اور بحراطبواة بھی پڑھا۔ شطاریہ خیالات سے بھی مستفید ہو ئے۔ ایک خاص سطح تک حصولِ علم کے بعد ان پر انکشاف ہوا کہ دنیا بھر کے علم کو حاصل کر کے بھی انسان کا دل مطمئن نہیں ہوسکتا۔ سکونِ قلب کے لیے صرف اللہ کا تصور ہی کافی ہے۔ اسے اپنی ایک کافی میں یوں بیان کیا۔علموں بس کر او یار۔اکّو الف تیرے درکار
وہ خود سیّد زادے تھے لیکن انہوں نے شاہ عنایت کے ہاتھ پر بیعت کی جو ذات کے آرائیں تھے اس طرح بلّہے شاہ نے ذات پات، فرقے اور عقیدے کے سب بندھن توڑ کر صلح کل کا راستہ اپنای<ref>[https://www.bbc.com/urdu/pakistan/story/2007/08/070826_india_delegate_zb.shtml با با بلّہے شاہ کا عرس شروع]</ref>ا۔ مرشد کی حیثیت سے شاہ عنایت کے ساتھ ان کا جنون آمیز رشتہ ان کی مابعد الطبیعیات سے پیدا ہوا تھا۔ وہ پکے وحدت الو جودی تھے، اس لیے ہر شے کو مظہر خدا جانتے تھے۔ مرشد کے لیے انسان کامل کا درجہ رکھتے تھے۔ مصلحت اندیشی اور مطابقت پذیری کبھی بھی ان کی ذات کا حصہ نہ بن سکی۔ ظاہر پسندی پر تنقید و طنز ہمہ وقت ان کی شاعری کا پسندیدہ جزو رہی۔ ان کی شاعری میں شرع اور عشق ہمیشہ متصادم نظر آتے ہیں اور ان کی ہمدردیاں ہمیشہ عشق کے ساتھ ہوتی ہیں۔ ان کے کام میں عشق ایک ایسی زبردست قوت بن کر سامنے آتا ہے جس کے آگے شرع بند نہیں باندھ سکتی۔
بلّہے شاہ کو ملاّ کے تصورِ دین سے سخت نفرت ہوچکی تھی۔ عربی فارسی میں عالم ہونے کے باوجود انہوں نے پنجابی کو ذریعۂ اظہار بنایا تاکہ عوام سے رابطے میں آسکیں۔ ۔
گمنام صارف