"پاکستانی نظم" کے نسخوں کے درمیان فرق

کہ نفرت ہے امر ہے کہ طاقت ہے برحق<br />
کہ سچ ہارتا ہے <br />
احمد سھیل:
 
==احمد سھیل:==
احمد سھیل کی نظموں میں خارج کی واردات ایک انوکھے انداز میں موضوعی لفظیات اور معنیات کے ساتھ مخصوص اظہار و حسیت کو خلق کرتی ھے۔ ان کی نظموں میں کہانیوں کا بیانیہ انداز ملتا ھے اور موضوع اور معروض کے علامتی انسلاک کو وہ ایک لڑی میں پرو کر مخصوص پیراہے میں ڈھال کراپنی شعری کائنات کو تشکیل دیتے ہیں۔ ان کی شاعری اپنی ھی آزاد دنیا میں سانس لیتی ھے۔ لہزا ان کی نظموں میں سکہ بند نظریات اور تحریکوں کے اعتباطی رویوں کا اثر نہیں ھے۔ احمد سھیل کے شعری مخاطے میں تاریخ کا گیان، فرد کی گمشدگی، معروض کی آگاہی اور کہیں کہیں عمرانیاتی رموز کا ابہام نظر آتا ھے جس میں تعصبات، سفاکی، تشدد اور منافقت میں جکڑے ھوئے فرد کی چیخیں سنائی دیتی ھیں۔
 
 
 
 
زمین کا داروغہ
احمد سہیل
 
جب میں اسے سمجھ نہ آیا
تو آگ پر تھوک دیا گیا