خواتین پر ارسطو کے افکار

خواتین پر ارسطو کے افکار (انگریزی: Aristotle's views on women) یہ تھے عورتوں کی پیدائش نامکمل حمل کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ اس لیے وہ ناقص العقل اور ادھوری ہیں۔ ارسطو ہی نہیں، دوسرے یونانی مفکروں کے نزدیک بھی عورت تمام برائیوں کی جڑ تھی۔ یونانی مفکرین کے اس نظریے نے نہ صرف یونان، بلکہ آگے چل کر عیسائی دنیا میں بھی عورت کے بارے میں ان خیالات کو مستحکم کیا۔ آٹھویں صدی قبل مسیح میں یونان میں شہری ریاستوں کا ظہور ہوا۔ ان میں خاص طور پر ایتھنز اور سپارٹا کی ریاستیں اپنی علاحدہ علاحدہ خصوصیات کی وجہ سے مشہور تھیں۔ اس لیے ان دونوں ریاستوں کے ماحول میں عورت کی حقیقت بھی مختلف تھی۔ تاہم بہ حیثیت مجموعی عورت کے کمتر درجے کی وجہ سے یونان کی جمہوریت میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اسے شہریت کا حق تھا، نہ وہ ووٹ دے سکتی تھی نہ اسمبلی میں شریک ہو سکتی تھی، نہ جائداد کی وارث ہو سکتی تھی اور نہ ہی کسی سرکاری عہدے پر فائز ہو سکتی تھی۔[1]

اخلاقیات

ترمیم

ارسطو کے مطابق بیوی پر شوہر کی "سیاسی حکمرانی" رہنا چاہیے[2][3]

جہاں تک شوہر اور بیوی کے فرق کی بات ہے، ارسطو کا کہنا ہے کہ یہ خارجی ظواہر ہیں جو "ہمیشہ" رہتے ہی ہیں، یہ گفتگو اور اعزازات میں نمایاں ہیں۔ [4] آدمی اور عورت کی کارکردگی مختلف ہے کیوں کہ اس آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ "لے کر آئے" اور اس عورت کا کام ہے کہ وہ "رکھے"۔ [5]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. یونانی معاشرے میں عورت نامکمل انسان تھی
  2. Politics I, 1259a–b.
  3. Korinna Zamfir, Men and Women in the Household of God: A Contextual Approach to Roles and Ministries in the Pastoral Epistle, Vandenhoeck & Ruprecht, 2013, p. 375.
  4. Politics, 1259b.
  5. Politics 1277b.