خواجہ معین الدین نقشبندی

خواجہ معین الدین نقشبندی فقہ حنفی کے اکابرین میں سے ہیں۔

اسمِ گرامیترميم

خواجہ معین الدین بن خواجہ محمود نقشبندی

تحصیلِ علمترميم

مختلف علوم وفنون اصول ِفقہ، اصول ِحدیث وغیرہ میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی کے شاگرد تھے۔

بیعت وخلافتترميم

آپ نے اپنے والد کے دستِ حق پرست بیعت کرکے باطنی علوم کی تحصیل کی اور طریقت کے تمام رموز و اسرار والد محترم کی خدمت اقدس میں رہ کر سیکھے۔اور اپنے والدِ ماجد سےخرقہ خلافت حاصل کیا۔

سیرت وخصائصترميم

خواجہ معین الدین نقشبندی کشمیر کے علمائے کبار اورمشائخِ نامدار میں سے تھے۔اتباعِ شریعت وترویجِ سنت وترفیعِ بدعت اور زہدوورع وتقویٰ میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے۔تمام علما وصلحاءِ وقت آپ کی تحریر وتقریر کو قبول کرتے اوراپنے مسائل کے حل کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے ،آپ کے خطِ فرمان پر سر رکھتےاوراحکام روایت وعدالت میں آپ سے فتویٰ طلب کرتے تھے۔آپ کی ذاتِ مبارکہ سیرت وصورتِ کے لحاظ سے اولیائے کرام کی چلتی پھرتی مثال تھی۔ناجائز رسومات کی نشان دہی کرنا اور لوگوں کو اس سے روکنا آپ کی عادتِ مبارکہ تھی۔ عقائدِ باطلہ کے رد میں اور اہل سنت کی ترویج واشاعت میں بہت جدوجہدکرکے لوگوں کو صحیح تعلیم اور قرآن وسنت کے مطابق عقائد کی طرف لے کے آئے۔

وفاتترميم

آپ کا انتقال2 محرم الحرام 1085ھ/بمطابق اپریل 1674ء کو کشمیر میں ہوا۔ آپ کا مزار کشمیر میں مرجعِ خلائقِ عوام وخواص ہے۔[1][2]

حوالہ جاتترميم

  1. تذکرہ اولیائے برصغیر پاک وہند
  2. حدائق الحنفیہ: صفحہ 441 مولوی فقیر محمد جہلمی : مکتبہ حسن سہیل لاہور