خود سپردگی (انگریزی: Surrender) کے کئی معنوں میں زیر قبضہ علاقہ جات کی حوالکی یا ان کے ملکیتی موقف میں سمجھوتا، قلعہ بندی اور محاصروں سے دست برداری یا اس طرح کے مضبوط مورچوں کی دوسروں کی حوالگی، کشیوں، بنکروں اور بکتر بند گاڑیوں کی حوالگی یا کسی فوجی ٹکڑی یا مکمل فوج کی خود کی کسی دوسرے طاقت ور فوج کے آگے خود کو حوالے کر دینا ہے۔ خود سپردگی کبھی کبھار پر امن طریقے سے انجام پا سکتا ہے یا پھر کسی جنگ میں کھائی جانے والی زبر دست شکست کی وجہ سے بھی یہ ممکن ہے۔ ایک خود مختار ریاست کسی جنگ میں ہارنے کے بعد یا پھر اختیارات کی تقسیم یا اقتدار کی حوالگی کے معاہدے کے تحت کسی اور ملک کے آگے خود سپردگی کر سکتی ہے۔ میدان جنگ کی خود سپردگی، چاہے وہ افراد کی جانب سے ہو یا پھر افسروں کے حکم پر ہو، عمومًا ہتھیار ڈالنے والے کے جنگی قیدی کے طور پر بنا لیے جانے پر نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔


خود سپردگی تصادم سے بچنے کے طریقے کے طور پرترميم

2020ء میں ایتھوپیائی وزیر اعظم ابی احمد علی نے شمالی تیگرائی کے علاقائی دار الحکومت میکیلے پر فوج کشی سے قبل علاقائی قابض طاقتوں کو خود سپردگی کرنے کے لیے 72 گھنٹے کا قت دیا تھا۔ فوجی کار روائیوں میں کئی بار غیر ضروری خون خرابے سے ممکنہ طور پر بچنے کے لیے بھی خود سپردگی کے مواقع دیے جاتے ہیں۔[1]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم