درّہ گومل پرانے زمانے کی تجارت اور جنگوں میں اس درّہ کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔ غزنوی نے بھی اسے کئی بار استعمال کیا اسی لیے وہ پہلے ملتان اور بعد میں لاہور کی طرف آتا تھا۔ منگولوں نے بھی زیادہ تر اسے ہی استعمال کیا۔ تاریخ پنجاب کے بہت سے راز اس راہ میں مدفن ہیں کہ اسے 1901 میں ’’صوبہ سرحد‘‘ میں شامل کر دیا گیا تھا۔ یہ راستہ ڈیرہ اسماعیل خان سے غزنی اور قندھارجاتا ہے۔ اس کے طبعی کوائف سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گذرگاہ دریائے گومل کے ساتھ ساتھ جنوبی وزیرستان میں سے ہوتی ہوئی افغانستان اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ’’مرتازا اور ڈومنڈی‘‘ سے افغانستان کی سطح مرتفع پر جا نکلتی ہے۔ درہ گومل اس وقت بڑی اہمیت کا حامل تھا جب غور اور غزنی جیسے شہر اہم تاریخی حیثیت رکھتے تھے۔ بقول ایک برطانوی سیاح کے ’’اس راستے کے ساتھ ساتھ جو قبائل آباد ہیں وہ ہر سال نیل کی کثیر مقدار پنجاب کے شہروں خصوصاً ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان سے خراسان اور بخارا کو برآمد کرتے تھے